دکانداری اور ایمانداری

 محمد مبشرحسن

کسب معاش، ضرورت و حاجت، عیش و آرام اور زندگی کے دیگر سارے لوازمات کے لیے اس عالم رنگ و بو میں ہزاروں قسم کی تجارتیں اور دکانیں ہیں، مثلاً جنرل اسٹور، میڈیکل اسٹور، کلاتھ شوپ، جیولریز، کتب خانہ، اسٹیشنریز، ہارڈ ویر کی دکان، ہوٹل، کمپنی، فیکٹری، اسپتال ،غرضیکہ زندگی سے متعلق ہر ساز و سامان کی تجارت وغیرہ۔

یاد رہے ہم اس تجارت و دکان کی باتیں کر رہے ہیں جو از روئے شرع جائز ہے۔ اس کی پائیداری ، بقا اور ترقی کے لیے کچھ بنیادی اصول اورطریقے ہیں جن کی پابندی کرناہر صاحب کاروبار اور دکاندار کا فریضہ ہے۔

 صالح نیت

سب سے پہلی چیز نیت ہے کہ دکان داراور بزنس مین اپنے کسٹمر کے ساتھ اچھی نیت رکھے ، کیونکہ نیت پرتمام عمل کا دار ومدار ہوتا ہے اور یہی کامیابی اور منزل مقصود تک پہنچنے کی پہلی کڑی ہے، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:   إنَّمَا الْأعْمَالُ بِالنِّیَاتِ۔

یعنی اعمال کا دارومدارنیتوں پرہے۔

اب نیت یہ ہو کہ میں جو چیز فروخت کر رہا ہوں، کسٹمر اُس سے خوب خوب فائدہ اٹھائے اور دوبارہ آنے پر مجبور ہو ، یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اُسے اچھی نیت کے ساتھ اچھے سامان دیں گے اورقیمت بھی مناسب لیں گے۔ اس میں کسی قسم کا نقص نہ پایا جائے گا اور اگرکوئی نقص ہو تو اسے اس کے سامنے واضح کر دیں۔

ایمانداری

ایمانداری اور دیانت داری توہر مومن کی شناخت ہے، خاص کر کاروبارکرنے والوں اور دکاندار وں کے لیے اس وصف کا حامل ہونا،اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے اللہ و رسول کی خوشنودی کے ساتھ کاروبار کو بھی ترقی ملتی ہے۔ متعدد جگہوں پر قرآن و حدیث میں اس کی تاکید آئی ہے:

 وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۝۳۵ (بنی اسرائیل)

ترجمہ:ناپ پورا رکھا کرو جب بھی تم کوئی چیز ناپو، جب تولنے لگو تو سیدھے ترازو سے تولا کرو۔ یہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی خوب تر ہے۔

عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ بزنس مین اور کسٹمر کے درمیان حساب وکتاب کے معاملے میں اکثرجھگڑے ہوتے رہتے ہیں، جس کا اصل سبب بے اصولی ہے۔اس کے لیے قرآن نے ایک اصول دیا ہے جسے عام طور پرہرکاروبارکرنے والے  اپناتے بھی ہیں،لیکن خدائی اصول سمجھ کرنہیں،اس لیے اُسے خدائی اصول سمجھ کر لازمی طور پر اپنائیں تاکہ معاملات کے بگڑنے کی تمام راستے بند ہو جائیں۔

دوسری جگہ ارشادباری تعالیٰ ہے:یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْااِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاكْتُبُوْهُ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ۝۲۸۲ (بقرہ )

ترجمہ:اے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ وقت تک کے لیے آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اُسے لکھ لیا کرو اور تمھارے درمیان جو لکھنے والا ہو،اُسے چاہیے کہ انصاف کے ساتھ لکھے۔

اسی آیت کے اندر آگے مزید تاکید کی گئی ہے:

وَلاَ یَبْخَسْ مِنْہُ شَیْئًا یعنی لکھواتے وقت کمی نہ کرے۔

کاروبار اور دکان کی صفائی ستھرائی، زیب و زینت اور نمائش کسٹمر کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ ہر با شعور شخص واضح طور پریہ فرق محسوس کرتا ہے کہ ایک آدمی روڈ کے کنارے ٹھیلے پر کسی سامان کی تجارت کرتا ہے، دوسرا شخص بعینہ اسی سامان کی تجارت شو روم میں کرتا ہے، دونوں کے نفع میں زمین و آسمان کا فرق ہوتاہے ،چونکہ ٹھیلے والے کے پاس نہ زیادہ صفائی و ستھرائی ہے، نہ ہی زیب و زنیت اور نہ آرائش و نمائش کا کوئی انتظام ہے، اسی لیے کسٹمر کی توجہ ٹھیلے کی جانب نہیں ہو پاتی اور انھیں شور روم کا حسن اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ لیکن کئی مرتبہ شوروم والے کسٹمر کے ساتھ بڑی فریب کاری سے کام لیتے ہیں اور کم قیمت والے سامانوں کے ذریعے ہی ہزاروں روپیے کمانے کی غلط آرزو رکھتے ہیں۔ خاص کر ٹھیکہ دار ،ایجنٹس اور ڈیلرس کالے دھندوں کے ذریعے  کسٹمر کے خون پسینے کی کمائیوں کو آن و احد میں اپنے پاکٹ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی تجارت اور حصول رزق کی بڑی مذمت اور وعید آئی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْااَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ ۝۲۹ (نسا)

ترجمہ:اے مومنو! آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔ ہاں! باہمی رضا مندی سے تجارت ہو تو کوئی حرج نہیں۔

مزیدفرمایاگیا: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ،لاَ يَخُونُهٗ وَلاَيَكْذِبُهٗ وَلاَ يَخْذُلُهٗ۔ (ترمذی،شفقۃ علی المسلم)

یعنی مسلمان ،مسلمان کا بھائی ہے وہ اُس سے خیانت کرتا ہے نہ اُس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ اُسے ذلیل کرتا ہے۔

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا: لَاتَحَاسَدُوْا،وَلَا تَبَاغَضُوْا،وَلَا تَدَابَرُوْا،وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوْا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا۔(مسلم،تحریم الظن)

 ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے رخ نہ موڑو، ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرو اور اللہ کے بندے باہم بھائی ہو جاؤ۔

کرۂ ارض پر موجود سارے بزنس مین اور دوکانداروں کوچاہیے کہ اپنے کاروبار کی تزئین و ترقی کے لیے اسلامی اصول تجارت کی تابعداری کریں، خرید و فروخت میں ذرا بھی جھوٹ اور فریب سے کام نہ لیں، اپنے کسٹمر کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئیں اور اُن سے نہایت نرم لہجے میں گفتگو کریں۔ اگر اُنھیں سامان یا ریٹ پسند نہ ہو تو مصالحت کی کوشش کریں، لیکن خدا را مسخرہ پن یا تیور بدلنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ ہمیشہ حسن سلوک، اچھی گفتگو اور نرم لہجے کی سحر انگیزیوں سے کام لیں اور کسٹمر کے دلوں کو جیت کر کاروبار کو ترقی دیں تاکہ دنیا بھی خوبصورت ہو جائے اور آخرت بھی سنور جائے۔