حدیث نمبر :247

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رات میں ایک گھڑی علم کا درس تمام رات بیداری سے افضل ہے ۱؎ (دارمی)

شرح

۱؎ ایسے ہی دن میں کچھ دیرعلم کا مشغلہ تمام دن کی عبادت سے افضل ہے۔عبادت سے نفلی عبادات مراد ہیں یہ مطلب نہیں کہ فرائض چھوڑ کر علم سیکھے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ عالم دین کی نیند بھی عبادت ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ تلاوت قرآن سے فقہ سیکھنا افضل۔ان دونوں کا ماخذ یہ حدیث ہے اس کی وجہ ہم بارہا بیان کرچکے عالم تھوڑی عبادت پر جاہل کی بڑی عبادت سے زیادہ ثواب حاصل کرلیتاہے۔

لطیفہ:ایک بزرگ پٹنہ سے حج بیت اﷲ کے لیئے پاپیادہ ہرپانچ قدم پر دونفل پڑھتے چلے،دس سال میں گجرات پہنچے ان کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اگر آپ ہوائی جہاز سے ایک رات میں مکہ معظمہ پہنچ جاتے اور اتنے نوافل وہاں پڑھتے تو ہر رکعت پر ایک لاکھ کا ثواب پاتے۔