سیاست اور امارت

محمد افضل حسین

اسلام ایک عالم گیر مذہب ہے۔ اس کے تمام اصول و قوانین قرآن و سنت اوراجماع امت سے ماخوذ ہیں جو بندوں کا تعلق خدا سے جوڑتے ہیں۔ اسی کے سامنے سر بسجود ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ لوگوں کے باہمی حقوق کی ادائیگی پرزوردیتے ہیںاورپوری انسانیت کو ایک خداکی حاکمیت تسلیم کرنے کی تلقین کرتے ہیں ،کیوںکہ اقتدار اعلیٰ صرف اور صرف خالق کائنات ہی کے لیے ہے اور وہی سب سے بڑا بادشاہ ہے۔ اس کا بنایا ہوا قانون پوری انسانیت کے لیے کافی ہے، لیکن اس خدائی احکامات کا نفاذ حکومت اسلامیہ کے بغیر ممکن نہیں۔اسی لیے عہد رسالت ہی میں حکومت اسلامیہ کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔ اس کا عملی مظاہرہ خلفائے راشدین اور مابعد کے عہد میں بھی ہوا۔

سیاست انسانی زندگی کا ایک اہم شعبہ ہے ۔ایک تہذیب یافتہ انسان اس سے بچ نہیں سکتا ۔ دین اور دنیاکی بہت ساری سرفرازیاںاسی کے دم قدم سے وابستہ ہیں۔ قانون اسلامیہ کا مکمل نفاذ بھی اسی کے سبب ہے جو معاشرے سے مظالم کے خاتمے کا ایک کارگر نسخہ ہے۔ اسی لیے اسلام نے حکومت اسلامیہ کے قیام کی کوشش کو تمام مسلمانوں کے لیے فرض کفایہ قرار دیا ہے،بشرطیکہ اس کی استطاعت ہو۔ساتھ ہی حکومت اسلامیہ کے لیے قدرت حاصل کرنے میں کوشاں رہنا بھی ضروری ہے، جس کی طرف قرآن و حدیث میں واضح طور پر رہنمائی موجود ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

أَطِیْعُواْاللہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُوْلَ وَأُوْلِیْ الْأَمْرِ مِنکُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْء ٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ إِنْ کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللہِ(۵۹ )(سورۂ نسا) یعنی اللہ کی اطاعت کرواوررسول کی اطاعت کرواور اپنے حاکم کی،پس اگرتم کسی شئے کے لیے تنازع میں پڑجاؤتو اسے اللہ اوررسول پر چھوڑدو،بشرطیکہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

یہ آیت کریمہ حکومت اسلامیہ کے قیام پربخوبی دلالت کرتی ہے: کیونکہ اطاعت اولو الامرکا تصور اس وقت تک ناممکن ہے جب تک کہ اولو الامر کا وجود نہ ہو، کیوں کہ بغیر اس کے اطاعت کا جو حکم دیا گیا ہے وہ پورا نہ ہو سکے گا۔اس سے پتہ چلا کہ کسی امیراورحاکم کا ہونا ضروری ہے تاکہ اطاعت کا تصورممکن ہوسکے ،لیکن یہ بھی خیال رہے کہ جوبھی امیریاحاکم مقررہو وہ قانون الہی کا مکمل پابندہو۔

اس کے برخلاف آج جب امارت کے ڈھانچے پر غور کریں تویہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ’’امیر‘‘ ہونے کا دعویٰ تو ہر کوئی کرتا ہے مگر اس کے اندرایسی’’ امارت‘‘ قائم کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی جوقانون الٰہی کے مطابق ہواوروہ محض دنیاوی حکمراں بن کر رہ جاتا ہے۔ اس طرح وہ سیاسی لیڈر تو کہا جا سکتا ہے لیکن ’’امیر‘‘ کہلانے کا حقدار نہیں ہوسکتا۔

اس لیے ضروری ہے کہ ایسے حکمراں کو ہی’’امیر‘‘تسلیم کیا جائے جس کے اندر ’’امارت‘‘ قائم کرنے کی صلاحیت ہو اور جوزندگی کے ہر موڑ پرقانون اسلام کی روشنی میں رہنمائی کرنے کی صلاحیت و بصیرت رکھتا ہو