حدیث نمبر :246

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اﷲ عزوجل نے مجھے وحی فرمائی ۱؎ کہ جو تلاش علم میں ایک راہ چلا تو میں اس پر جنت کا ایک راہ آسان کردوں گا۲؎ اور جس کی دو پیاری چیزیں میں لے لوں تو اس کو جنت دوں گا۳؎ اور علم کی زیادتی عبادت کی زیادتی سے بہتر ہے۴؎ کارخانہ دین کا نظام پرہیزگاری ہے ۵؎ اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔

شرح

۱؎ بطریقِ الہام یا بذریعۂ حضرت جبریل کہ مضمون رب کی طرف سے الفاظ حضور کے اسی کو وحی غَیْر مَتْلُو کہتے ہیں۔حدیث قدسی اور قرآن میں یہی فرق ہےکہ قرآن کی عبارت اورمضمون سب رب کی طرف سے ہے۔

۲؎ یعنی جوکسی ذریعہ سے علم طلب کرے خواہ اس کے لیئے سفرکرے یا دینی کتابوں کا مطالعہ رکھے وغیرہ اسے دنیا میں عبادت معرفت وغیرہ جنت کے راستوں کی توفیق ملے گی یا قیامت میں اسے پل صراط سے گزرنا،جنت میں پہنچنا آسان ہوگا۔مرقاۃ نے فرمایا کہ علم کے بغیر جنت کے تمام دروازے بند ہیں،علم دین ان دروازوں کی چابی ہے۔

۳؎ یعنی میں جس کی آنکھیں بیکار کرکے نابینا کردوں اور وہ اس پر صابر شاکر رہے تو اس صبر پر جنت ملے گی۔معلوم ہوا کہ دنیوی تکالیف خدا کی رحمتوں کا ذریعہ ہیں بشرط صبر۔

۴؎ یعنی علم کی تھوڑی زیادتی عبادت کی بہت سی زیادتی پر افضل ہے۔(اشعۃ)

۵؎ خیال رہے کہ زہد اور تقوےٰ سے وَرَ عْ افضل ہے۔حرام،شبہات،طمع اور ریا سے بچنا ہرقسم کی عبادت کرنا وَرَعْ ہے۔صرف حرام سے بچنا تقویٰ،غیرمتقی آدمی اپنے دین کا انتظام قائم نہیں رکھ سکتا۔