غفلت کے اسباب و معالجات

کیا مومنین کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ وہ ذکرِ الٰہی کے لے تیار ہو جائیں

اشتیاق احمد سعیدی

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

 اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَہُمْ فِیۡ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوۡنَ۔ (الانبیاء: ۱) لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا، پھر بھی وہ بے خبری میں منھ پھیرے ہوئے ہیں۔

 مذکورہ آیت مقدسہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے غفلت میں گرفتار شخص کو تنبیہ فرمائی ہے اور اس غافل شخص کو دنیا کی آسائش سے آخرت کی ہولناکیوں کی یاد دلائی ہےاور یہ بھی بتایا ہے کہ قیامت بہت جلد ہی قائم ہوگی۔ لیکن آج کے اس پرفتن دور میں انسان اپنا جائزہ لے تو پتہ چلے گا کہ وہ کس قدر غفلت میں پڑا ہوا ہے۔ آج انسان نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر طرح کے مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور دنیاوی اقتدار عزت وشرافت، عیش وعشرت، مال ودولت کے حصول کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کرتا ہے اور اسی فکر میں لگا رہتا ہے۔ اس فکر میں وہ اتنا گم ہے کہ اس کے علاوہ سوچتا ہی نہیں۔اس کی عقل پر ہمیشہ یہی فکر چھائی رہتی ہے کہ آخر وہ کون سی تدبیر اپنائی جائے جس کے ذریعے مال ودولت ، عیش وعشرت ، لذاتِ دنیا کا حصول ہو۔ اس کے پاس نہ آخرت کی فکر ہے ، نہ موت کا کوئی خیال ہے اور نہ ہی قیامت کا کوئی تصورہے۔

 یہی خیال وتصور پیدا کرنے کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تاکہ لوگ دنیاوی زندگی سے آخرت کی طرف ،غفلت سے بیداری کی طرف اور گمرہی سے ہدایت کی طرف راغب ہوں۔ مگر صدہا افسوس ہے کہ ہم یہ آیت توپڑھتے ہیں، لیکن اس پر عمل نہیں کرتے، نہ آیت دل میں اثر کرتی ہے، نہ ہی خشیتِ ربانی جاگزیں ہوپاتی ہے۔ آخر ہم نے کیا سوچ لیا ہے! کیا ہمیں موت کا سامنا نہیں کرنا ہے،؟اللہ کے یہاں حاضر نہیں ہونا ہے؟حساب وکتاب سے نہیں گزرنا ہے؟

 اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں طرح طرح کی نشانیاں دکھائیں، کبھی موت کی شکل میں، کبھی زلزلے کی شکل میں، کبھی طوفان کی شکل میں اور کبھی سیلاب کی شکل میں۔ پھر اس نے خوب مہلت بھی دی کہ ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہوکر اس کے ذکر کے لیے تیار ہوجائیں۔ مہلت ملنے کے بعد بھی ہم غفلت سے بیدار نہ ہوسکے،اللہ کے عذاب سے ڈر کر گناہ ترک کردینا تو درکنار ہمارا تصور بھی اس کے عذاب کی طرف نہیں جاتا۔

 غفلت کے اسباب:

 غفلت کے چند اسباب ہیں: سب سے پہلااور اہم سبب یہ ہے کہ ہمیں تصدیقِ قلبی حاصل نہیں ہے، اٰمنت باللّٰہ پر اعتقاد کامل نہیںہے ، ورنہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تصدیقِ قلبی حاصل ہو، اٰمنت باللّٰہ پر اعتقاد کامل ہو، پھر بھی انسان گناہوں میں ڈوبا ہوا ہو، یادِ الٰہی سے غافل ہو، خشیتِ الٰہی سے اس کا دل دھڑکتا نہ ہو۔ اسے ایک مثال کے ذریعے سمجھیے : ایک شخص کہیں بیٹھا ہے، کسی دوسرے شخص نے اس سے کہا کہ آپ جہاں ہیں وہاں سانپ ہے ۔ یہ سن کر فورًا ہی وہ شخص پھلانگیں مارتا ہوا وہاں سے بھاگ جائے گا۔

 آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیوں کہ اس کے دل پر دوسرے شخص کی بات راسخ ہوگئی تھی اور خوف واضطراب چھاگیا تھااور یہ ایک فطری چیز بھی ہے۔ اس سے پتہ چلا کہ ہمیں اللہ رب العزت پر اعتقادِ جازم حاصل نہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے عذابات کا ذکر سننے اور پڑھنے کے بعد بھی ہم اس کے اوامر ونواہی سے غافل ہوجائیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک عام آدمی کی بات پر اتنا بھروسہ کہ فورا ہی جگہ تبدیل کردیں لیکن جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا، صالحین کے لیے لذات ونِعم کا وعدہ فرمایا، غافلین کو اپنے عذابات سے ڈرا کر تنبیہ فرمائی۔ مگر نہ ہم صالحین میں ہونے کے لیے کوشاں ہیں، نہ غافلین کی فہرست سے نکلنے کو تیار۔

 دوسرا سبب یہ ہے کہ ہمارے پیشِ نظر کوئی اخروی مقصد نہیں ہوتا، ہم دنیاوی آسائش ہی کو سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بنتی ہے کہ خیر وشر اور نفع ونقصان میں تمییز نہیں کرپاتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ اپنے آپ میں سوچنے لگتا ہے کہ حساب وکتاب، جنت ودوزخ، سزا وجزا ایک فرض اور وہمی چیز ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 سید قطب فرماتے ہیں:

غفلت روحانی بیماریوں میں سب سے خطرناک بیماری ہے، جب انسان غفلت کا شکار ہوجاتا ہے تو بالکل معطل اور بے حس ہوکر رہ جاتا ہے، نہ کسی چیز سے متأثر ہوتا ہے اور نہ اچھی بات کے قبول کرنے پر آمادہ ہوتا ہے، ہدایت کی روشنی اس کے سامنے آتی ہے مگر وہ اس سے محروم رہ جاتا ہے۔

 ذکرِ الٰہی ہی نجات کا ذریعہ:

 ہمارے لیے ضروری ہے کہ غفلت کی آغوش سے باہر آکر ذکرِ الٰہی کے دامن میں پناہ لیں؛ کیوں کہ یہی دنیا وآخرت میں کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابنِ آدم کا کوئی عمل ایسا نہیں جو اس کو عذابِ الٰہی سے نجات دلادے سوائے ذکرِ الٰہی کے۔ (ابن ماجہ: ۲۶۸)

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنی گفتگو ذکرِ الٰہی سے خالی نہ رکھو ؛ کیوںکہ تمھاری زیادہ گفتگو کا ذکرِ الٰہی سے خالی ہونا شقاوتِ قلبی کی نشانی ہے اور سخت دلی اللہ رب العزت سے دوری کا سبب ہوتی ہے۔ (سننِ ترمذی) اللہ رب العزت ہمیں غفلت کی نحوست سے نکال کر اپنا غریقِ رحمت بنائے۔