أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰۤاَنۡتُمۡ اُولَاۤءِ تُحِبُّوۡنَهُمۡ وَلَا يُحِبُّوۡنَكُمۡ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ كُلِّهٖ ‌ۚ وَاِذَا لَقُوۡكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا  ۖۚ وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَيۡكُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَيۡظِ‌ؕ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡؕ‌ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ ۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ

ترجمہ:

سنو تم ان سے محبت کرتے ہو حالانکہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے اور تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو ‘ اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں ‘ آپ کہیے کہ تم اپنے غصہ میں مرجاؤ بیشک اللہ دل کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سنو تم ان سے محبت کرتے ہو حالانکہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے ‘ اور تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو۔ (آل عمران : ١١٩)

مسلمانوں کے کافروں سے محبت کرنے اور ان کے محبت نہ کرنے کے محافل : 

مسلمان ان سے کونسی محبت کرتے تھے اور وہ ان سے کونسی محبت کرتے تھے اس کے حسب ذیل محافل بیان کیے گئے ہیں :

(١) مسلمان یہ چاہتے تھے کہ وہ اسلام لے آئیں ‘ کیونکہ دنیا اور آخرت کی سب سے بڑی دولت اسلام ہے ‘ اور یہ ان کی محبت تھی ‘ اور یہودی یہ چاہتے تھے کہ مسلمان اسلام پر قائم نہ رہیں تاکہ وہ دین اور دنیا میں ہلاک ہوجائیں اور یہ ان کا محبت نہ کرنا تھا۔

(٢) مسلمان اپنی رشتہ داریوں کی وجہ سے ان سے محبت کرتے تھے اور وہ مسلمانوں کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ان سے محبت نہیں کرتے تھے۔

(٣) چونکہ منافقین نے بہ ظاہر اسلام قبول کرلیا تھا ‘ اس لیے مسلمان ان سے محبت کرتے تھے اور چونکہ ان کے دلوں میں کفر تھا اس لیے وہ مسلمانوں سے محبت نہیں کرتے تھے۔

(٤) مسلمان یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی تکلیف اور مصیبت میں گرفتار ہوں اس کے برخلاف وہ مسلمانوں کی بربادی اور تباہی چاہتے تھے۔

(٥) مسلمان ان کو اپنے راز بتا دیتے تھے جب کہ وہ مسلمانوں کو اپنے راز نہیں بتاتے تھے اس کے برعکس مسلمانوں کے راز افشاء کردیتے تھے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب وہ تمت سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں ‘ آپ کہئے کہ تم اپنے غصہ میں مرجاؤ بیشک اللہ دل کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ (آل عمران : ١١٩)

مسلمانوں کے خلاف کافروں کے غیظ وغضب کا بیان : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب وہ تنہائی میں ہوتے ہیں تو مسلمانوں کے خلاف شدید غیظ وغضب کا اظہار کرتے ہیں ‘ اور جب انسان بہت زیادہ غصہ میں ہوتا ہے تو دانتوں سے انگلیاں کاٹنے لگتا ہے۔ یہاں انگلیاں کاٹنے سے مراد ان کے انتہائی غیظ وغضب کا بیان ہے ‘ خواہ وہ انگلیاں کاٹیں یا نہ کاٹیں ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کہئے کہ ” تم اپنے غصہ میں مر جاؤ“ یہ ان کے خلاف بہ ظاہر دعاء ضرر ہے کہ تمہارا غیظ اس قدر زیادہ ہوجائے کہ تم اس کی زیادتی سے ہلاک ہوجاؤ اور حقیقت میں یہ اسلام اور مسلمانوں کی عزت و کرامت میں زیادتی اور ان کی سربلندی اور سرفرازی کی دعا ہے کیونکہ ان کے غیظ وغضب کی وجہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی ہے اور جوں جوں یہ ترقی زیادہ ہوگی ان کا غیظ وغضب زیادہ ہوگا ‘ حتی کہ مسلمانوں کی بہت زیادہ سربلندی اور سرفرازی سے وہ جل بھن کر مرجائیں گے ‘ لہذا اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ اسلام کے خلاف غیظ و غضب تو کفر ہے اور یہ دعا کرنا کہ تم اپنے غیظ میں مرجاؤ ان کو کفر پر برقرار رکھنے کی دعا ہے اور یہ آپ کی شان کے لائق نہیں کیونکہ ہم نے بتادیا کہ حقیقت میں یہ اسلام کی سربلندی اور سرفرازی کی دعا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے ‘ یعنی تم اگرچہ بہ ظاہر اسلام کا دعوی کرتے ہو لیکن تم نے اپنے دلوں میں کفر کو چھپایا ہوا ہے اور تم اپنے دلوں میں اسلام کے خلاف جس قدر غیظ وغضب رکھتے ہو اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے اور تمہارے دلوں کی تمام باتوں پر مطلع ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 119