أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٌ تَسُؤۡهُمۡ وَاِنۡ تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٌ يَّفۡرَحُوۡا بِهَا ‌ۚ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـــًٔا ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ

ترجمہ:

اگر تمہیں کوئی اچھائی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تم کو کوئی برائی پہنچتی ہے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں ‘ اور اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو ان کا مکر و فریب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا بیشک اللہ ان کے تمام کاموں کو کو محیط ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تمہیں کوئی اچھائی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تم کو کوئی برائی پہنچے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں ‘ اور اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو ان کا مکرو فریب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ‘ بیشک اللہ ان کے تمام کاموں کو محیط ہے۔ (آل عمران : ١٢٠)

نیک اور متقی مسلمانوں کا کفار کی سازشوں سے محفوظ رہنے کا محمل : 

” حسنہ “ کا معنی ہے اچھائی ‘ اور یہاں اس سے دنیاوی منفعت مراد ہے مثلا صحت ‘ خوشحالی ‘ دشمنوں پر غلبہ ‘ اور دوستوں کے درمیان الفت اور محبت کا حصول اور سیہ کا معنی ہے برائی ‘ اور یہاں اس سے مراد ہے مرض ‘ فقر ‘ جہاد میں شکست دوستوں میں رنجش اور جدائی ‘ قتل ‘ غارت گری اور لوٹ مار وغیرہ ‘ اور اس آیت کا معنی ہے اگر تم اللہ کی عبادت کرنے میں تکلیف اور مشقت اور قدرتی آفتوں اور مصائب پر صبر کرو اور اللہ کی نافرمانی سے ڈرو اور اپنے تمام معاملات کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دو تو کفار اپنے مکر و فریب سے تمہارے خلاف جو سازشیں کرتے ہیں اس سے تم کو کوئی ضرر لاحق نہیں ہوگا۔ ” کید “ کا معنی ہے ایک انسان دوسرے انسان کو نقصان پہنچانے کے لیے جو خفیہ تدبیر کرتا ہے اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہاں کید کا معنی عداوت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبادت کرنے کے لیے پیدا کیا ہے سو جس شخص نے اپنے اس مقصد تخلیق کو پورا کیا اور عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کیا تو اللہ تعالیٰ بہت کریم ہے وہ اس کو اپنی کو اپنی حفاظت میں رکھے گا اور اس کے خلاف اس کے دشمنوں کا کوئی حربہ کارگر نہیں ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا۔ ویرزقہ من حیث لا یحتسب ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ “۔ (اطلاق : ٣)

ترجمہ : اور جو اللہ سے ڈرے۔ اللہ اس کی (مشکلات سے) نجات کی راہ پیدا کر دے گا ‘ اور اس کو اور اس کو وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان (بھی) نہ ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرے گا وہ اسے کافی ہے۔

اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بہت سے نیک اور متقی لوگ اپنے دشمنوں کی تدبیروں اور اس کی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں جیسے حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ کو شہید کردیا گیا ‘ حضرت حسین (رض) اور ان کے رفقاء کر شہید کردیا گیا ‘ حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) کو شہید کردیا گیا حالانکہ یہ نفوس قدسیہ اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی پر عمل کرتے تھے اور عبادت کی مشقتوں پر صبر کرتے تھے اور اس کی معصیت کرنے سے ڈرتے تھے ‘ اور اللہ پر توکل کرتے تھے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے یہی قاعدہ ہے جو اوپر مذکور ہوا لیکن خاص مسلمانوں کو اور کاملین کو اللہ تعالیٰ آزمائش اور امتحان میں ڈالتا ہے اور اللہ سے اور اللہ کے دین سے ان کی محبت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کاملین اللہ کے دین کے لیے اپنی جان دے دیتے ہیں لیکن دین کے معاملہ میں کسی نرمی اور مداہنت کو اختیار نہیں کرتے ‘ اس آزمائش کا ذکر ان آیتوں میں ہے :

(آیت) ” احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لا یفتنون “۔ (العنکبوت : ٢)

ترجمہ : کیا لوگوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ وہ ان کے اس کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا۔

(آیت) ” ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات “۔ (البقرہ : ١٥٥) 

ترجمہ : اور ہم تمہیں کچھ ڈر ‘ بھوک اور مال ‘ جان اور پھلوں میں کمی سے ضرور آزمائیں گے۔

اس کے بعد فرمایا اللہ ان کے تمام کاموں کو محیط ہے ‘ یعنی ان کے تمام کام اللہ کے علم میں ہیں ‘ لوح محفوظ اور کراما کاتبین کے پاس لکھے ہوئے محفوظ ہیں اور اللہ تعالیٰ ان اعمال کی جزا دے گا۔

غیر مسلموں سے دینی اور دنیاوی کام لینے کی تحقیق : 

ان آیتوں میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مسلمان کفار سے دوستی اور امن کا تعلق نہ رکھیں کیونکہ وہ مسلمانوں سے کینہ اور بغض رکھتے ہیں اور اپنے کسی معاملہ میں کفار سے مشورہ بھی نہ کریں اور نہ ان سے تعاون چاہیں۔

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف گئے جب آپ حرۃ الوبرۃ (مدینہ سے چار میل کے فاصلہ پر ایک جگہ) پہنچے تو آپ کو ایک شخص ملا جس کی بہادری اور دلیری کا بہت چرچا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے جب اس کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے ‘ جب وہ آپ کے پاس پہنچا تو اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ کے ہمراہ لڑوں اور جو مال ملے اس سے حصہ پاؤں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا کیا تو اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ‘ آپ نے فرمایا پھر واپس جاؤ‘ میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ١١٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ٦٧٦ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

دوسری حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفوان بن امیہ کے اسلام لانے سے پہلے ان سے مدد لی ‘ بعض علماء نے پہلی حدیث پر علی الاطلاق عمل کیا اور مشرک سے مدد لینے کو مطلقا ناجائز کہا ‘ اور امام شافعی اور دوسرے فقہاء نے یہ کہا کہ اگر کافر کی مسلمانوں کے متعلق اچھی رائے ہو اور اس سے مدد لینے کی ضرورت ہو ‘ تو اس سے مدد لی جائے گی ورنہ اس سے مدد لینا مکروہ ہے ‘ محدثین نے ان دونوں حدیثوں کو دو مختلف حالوں پر محمول کیا ہے ‘ اور جب مسلمانوں کی اجازت سے کافر جہاد میں حاضر ہو تو اس کو عطیہ اور انعام وغیرہ دیا جائے گا ‘ اور مال غنیمت میں اس کا حصہ نہیں ہوگا ‘ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام ابوحنیفہ اور جمہور فقہاء کا یہی مسلک ہے اور زہری اور اوزاعی نے یہ کہا ہے کہ مال غنیمت سے ان کا حصہ ہوگا۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ‘ ١١٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن خلفہ وشتانی ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

قاضی عیاض نے کہا ہے کہ امام مالک اور تمام علماء نے اس حدیث پر عمل کیا ہے اور امام مالک نے یہ کہا ہے کہ غیر مسلموں کو صفائی اور خدمت کے لیے رکھنا جائز ہے ‘ ابن حبیب نے کہا اسی طرح مجانیق سے پتھر پھینکوانے کے لیے انہیں رکھنا بھی جائز ہے ‘ اور ہمارے دوسرے اصحاب نے اس کو مکروہ کہا ہے ‘ ابن حبیب نے یہ بھی کہا ہے کہ مشرک کو لڑائی میں شامل کرنا جائز ہے ‘ اور ان کو لشکر کے اندر نہ رکھا جائے بلکہ لشکر کے باہر رکھا جائے ‘ بعض علماء نے کہا یہ اجازت کسی خاص وقت کے لیے برسبیل عموم نہیں ہے ‘ پھر اس میں اختلاف ہے کہ مال غنیمت سے اس کا حصہ نکالا جائے گا یا نہیں ‘ تمام ائمہ نے اس سے منع کیا ہے اور امام اوزاعی اور امام زہری نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی طرح ان کا بھی حصہ نکالا جائے گا اور سحنون مالکی نے یہ کہا ہے کہ اگر مسلمانوں کے لشکر کو ان سے قوت حاصل ہوئی ہے تو ان کا حصہ نکالا جائے گا ورنہ نہیں ‘ امام شافعی نے ایک بار یہ کہا کہ ان کو فئی سے بالکل نہیں دیا جائے گا اور ان کو خمس سے دیا جائے گا اور قتادہ نے یہ کہا ان سے جس چیز پر صلح ہوجائے ان کو وہ دینا جائز ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ج ٦ ص ٤٨٨‘ مطبوعہ دار الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٥ ھ) علامہ محمد رشید رضا متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں :

قرآن مجید میں یہود کو ہم راز بنانے اور ان سے مشورہ لینے سے منع کیا ہے یہ ممانعت ان یہودیوں کے ساتھ مختص ہے جو مسلمانوں کے ساتھ عداوت رکھتے تھے ‘ اوائل اسلام میں یہودی ایسے ہی تھے اس لیے ان سے اپنے دین کے کسی کام میں مدد لینا جائز نہیں تھا لیکن بعد میں یہودیوں میں تغیر آگیا اور وہ بعض فتوحات میں مسلمانوں کے مددگار بن گئے۔ جیسے فتح اندلس میں یہودیوں نے مسلمانوں کی مدد کی ‘ اور مصر میں قبطیوں نے رومیوں کے خلاف مدد کی ‘ اس لیے یہودیوں بلکہ مطلقا غیر مسلموں سے مسلمانوں کا مدد لینا جائز ہے بہ شرطی کہ وہ اسلام اور مسلمانوں سے عدوات نہ رکھتے ہوں۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

(آیت) ” لا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلونکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین۔ انما ینھکم اللہ عن الذین قاتلوکم فی الدین واخرجوکم من دیارکم وظاھروا علی اخراجکم ان تولوھم ومن یتولھم فاولئک ھم الظالمون۔ (الممتحنہ : ٩۔ ٨)

ترجمہ : اللہ تمہیں ان کے ساتھ احسان اور عدل کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین میں جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ‘ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ اللہ تمہیں انہی لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دین میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں مدد کی اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

اس نکتہ کی طرف حضرت عمر بن الخطاب (رض) متوجہ ہوئے اور انہوں نے اپنے لکھنے پڑھنے کے دفتری کاموں کا معاملہ رومیوں کے سپرد کیا اور بعد کے دو خلفاء اور ملوک بنی امیہ نے بھی ان کی پیروی کی اور مسلمان بادشاہوں میں سے عباسیوں نے بھی اس پر عمل کیا ‘ اور یہود ‘ نصاری اور صابئین میں سے اپنے عمال مقرر کیے اور دولت عثمانیہ کے بھی اکثر سفراء اور وکلاء عیسائی تھے ‘ اس تمام وسعت اور عالی ظرفی کے باوجود یورپ کے مستشرقین یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں بہت تعصب اور تنگ نظری ہے۔ (المنارج ٤ ص ٨٤۔ ٨٢‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت)

ان تمام دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر غیر مسلموں پر یہ اعتماد ہو کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے تو ان سے دینی اور دنیاوی مہمات میں مدد لینا اور ان کو مختلف مناصب تفویض کرنا جائز ہے اور اگر یہ معلوم ہو کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں تو پھر ان سے کسی معاملہ میں مشورہ کرنا یا خدمت لینا یا ان کو کوئی منصب سپرد کرنا جائز نہیں ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 120