تحریر ۔ڈاکٹر ظفر اقبال نوری سابق مرکزی صدر انجمن طلباء اسلام پاکستان ۔

بندہءِ عاجز کی ایک نظم جسے الحمد للّٰہِ

قائدین و کارکنانِ انجمن نے بہت پڑھا ہے مگر اس کا پس منظر بہت کم ساتھیوں کو معلوم ہو گا – جنرل ضیاءالحق مرحوم کے سخت گیر مارشل لاء کا دور تھا- ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکن کوڑے کھا کر خاموش ہو چکے تھے اور بڑے لیڈر بیرونِ ملک سدھار چکے تھے یا کونوں کھدروں میں دبک گئے تھے- کوئی احتجاج کوئی مطالبہ کوئی شور کچھ بھی نہیں تھا بس ھُوکا عالم تھا- ایسے میں آر اے بازار راولپنڈی کینٹ کی مسجد سےجہاں کبھی کبھی جنرل ضیاء بھی نماز پڑھتے تھے “ یا رسول اللّٰہ کی تختیاں اکھاڑ کر باہر پھینک دی گئیں- اھلسنت بیچین ہوئے اور ایک تحریک اٹھی جس کی قیادت حضرت مفسّرِ قرآن پیر سید ریاض حسین شاہ صاحب ، مصلحِ امت حضرت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب اور استاذالعلماء قاضی اسرار الحق حقانی رح فرمارہے تھے- حضرت قبلہ سید ریاض حسین کے ولولہ انگیز خطابات نے ایک حشر اٹھا رکھا تھا مارشل لاء کو چیلنج کرنا اور جلوس نکالنا انہی کا حصہ تھا – اس جلسے کی نقابت میرے ذمہ تھی جسکے شعلہ بار خطاب کے بعد حضرت مفسّرِ قرآن کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل میں بند کردیا گیا- مقدمہ اگرچہ نقصِ امن کا تھا مگر انہیں سزائے موت کے قیدیوں والی کال کوٹھڑی میں رکھا گیا اور ملاقات پر بھی پابندی تھی -بڑی مشکل سے ملاقات ہوتی تھی- ان کی عدم موجودگی میں جمعہ کی خطابت اور دروسِ قرآن کی محافل میں حضرت شاہ صاحب کی نیابت کی ذرداری اس فقیر کو ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی- عبدالمجید مغل صاحب حمزہ مصطفائی صاحب اور راجہ آصف علی خان صاحب گواہ ہیں کہ بڑے بڑے زعما پردہءِ اخفا میں چلے گئے تھے عوام بھی کوڑوں کے خدشے سے دبک گئے تھے- میٹنگوں میں علماء کہنا شروع ہو گئے تھے کہ سید ریاض شاہ صاحب کو اتنی سخت تقریریں کرنے کیا ضرورت تھی- ان حالات میں فقیر کو اس نظم کی توفیق ملی اور ایک پرچی پر لکھ کر بڑی مشکل سے جیل میں قبلہ شاہ جی تک پہنچائی گئی- یہ نظم اور پس منظر اس لیے لکھ رہا ہوں کہ فقیہانِ ِ عہد کے حواری اس شاہزادہءِ آلِ رسول کی عظمت سے آگاہ ہو سکیں-

اے جنگل کے قانون گرو

———————————-

اے جنگل کے قانون گرو جو چاہو بناؤ تعزیریں

تم شوق سے ہم دیوانوں کو ہر روز لگاؤ زنجیریں

ہر رات سجا کر مقتل کو تم خواب تو دیکھو من چاہے

وہ وقت بھی آتا ہے لیکن جب الٹی ہوں گی تعبیریں

ہونٹوں پہ لگاؤ تالے تم لفظوں پہ بٹھاؤ پہرے تم

پر لوگ سنیں گے سوچوں کی خاموش سلگتی تقریریں

تم برف گھروں میں رہ کر بھی اس آگ سے کیا بچ سکتے ہو

جو آگ دلوں میں بھر دیں گی معصوم لہو کی تحریریں

تم کب تک جھوٹ کی ریت لیے پشتے یہ عارضی باندھو گے

جب جھوم کے سچ سیلاب بڑھا سب بہہ جائیں گی تدبیریں

تم کب تک جبر کی چالوں سے محکوموں کو دھلاؤ گے

یوں ھاتھ قلم کر دینے سے کیا ٹل جائیں گی تقدیریں

تم اپنے شیش محلوں کی اب خیر مناؤ تاجورو

پھر شور اٹھا ہےزنداں میں پھر گونج رہی ہیں تکبیریں

Dr zafar iqbal noori