أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ‌ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌۙ

ترجمہ:

اور اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ صبح کو اپنے گھر سے نکلے دراں حالیکہ آپ مومنوں کو جنگ کے لیے مورچوں پر بٹھا رہے تھے اور اللہ بہت سننے والا خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

ان آیات میں غزوہ بدر اور غزوہ احد کا ذکر آگیا ہے اس لیے ہم پہلے غزوہ بدر اور غزوہ احد کا مختصر تذکرہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان آیات کا پس منظر اور پیش منظر معلوم ہوجائے اور ان کی تفسیر پر قارئین کو بصیرت حاصل ہو۔

غزوہ بدر کا مختصر تذکرہ : 

امام ابن ہشام بیان کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سنا کہ ابوسفیان شام سے مال تجارت کا ایک قافلہ لے کر آ رہا ہے ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو بلایا اور فرمایا یہ ابو سفیان ہے جو اپنے قافلہ سمیت واپس آ رہا ہے ‘ نکلو ! شاید اللہ تعالیٰ ان کے اموال ہمیں عطا فرما دے۔ اس قافلہ میں ابوسفیان کے ساتھ چالیس آدمی تھے اور مکہ کے سرداروں میں سے عمرو بن العاص تھے ‘ ہجرت کے انیس ماہ بعد بارہ رمضان المبارک کو ہفتہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین سو تیرہ صحابہ کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے ‘ مجاہدین صحابہ کے پاس دو گھوڑے ‘ ساٹھ زرہیں اور اسی اونٹ تھے ‘ باقی صحابہ پیادہ تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین آدمیوں کے لیے ایک اونٹ مقرر کردیا جس پر وہ باری باری سواری کرتے ‘ آپ نے اپنے آپ کو بھی اس اصول سے مستثنی نہیں رکھا ‘ آپ کے ساتھ جو دو صحابہ تھے انہوں نے عرض کیا ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری باری میں بھی آپ سوار رہیں ‘ ہم پیدل چلیں گے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! تم دونوں نہ مجھ سے زیادہ قوی ہو نہ میں تم سے زیادہ اجر سے مستغنی ہوں !

جب ابوسفیان حجاز کے قریب پہنچا تو وہ آنے جانے والوں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق خبریں معلوم کرتا تھا ‘ اسے بعض سواروں نے بتایا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر اور تمہارے قافلہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوچکے ہیں ‘ اس نے فورا صمضم بن عمرو الغفاری کو مکہ روانہ کیا اور یہ پیغام دیا کہ وہ قریش کو جا کر کہے کہ وہ اپنے اموال کی حفاظت کا انتظام کریں کیونکہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم پر حملہ کے لیے روانہ ہوچکے ہیں ‘ دوسری طرف مکہ میں عاتکہ بنت عبد المطلب نے خواب دیکھا کہ قریش پر کوئی آفت اور مصیبت آنے والی ہے ‘ اس نے یہ خواب اپنے بھائی عباس بن عبدالمطلب کو بیان کیا ‘ ابھی اس خواب کا چرچا ہو رہا تھا اور اس کے متعلق چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ مکہ والوں نے صمضم بن عمرو الغفاری کی چیخ و پکار سنی اس نے اپنے اونٹ کی ناک اور کان کاٹ دیئے تھے ‘ کجاوہ کو الٹا کردیا تھا اور اپنی قمیص پھاڑ ڈالی تھی اور وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اپنے اس قافلہ کو بچاؤ جس پر تمام مکہ والوں کے اموال لدے ہوئے ہیں ‘ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر حملہ کردیا ہے اور مجھے امید نہیں ہے کہ اس کی مدد کے لیے بروقت پہنچ جاؤ گے۔

قریش نے اپنا تمام مال ومتاع داؤپر لگا کر جنگ کی تیاری کی جب انہوں نے عزم سفر کیا تو قریش مکہ کی فوج کی تعداد نو سو پچاس تھی ‘ ان کے پاس ایک سو گھوڑے تھے جن پر ایک سو زرہ پوش سوار تھے ‘ پیدل سپاہیوں کے لیے بھی زرہیں مہیا تھیں ‘ ان کے ساتھ رقص کرنے والی کنیزیں بھی تھیں جو دف بجارہی تھیں اور جوشیلے گیت گا کر ان کی آتش غضب کو اور بھڑکا رہی تھیں ‘ سو قریش کا یہ لشکر جرار مٹھی بھر مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے بڑے غرور اور تکبر کے ساتھ روانہ ہوا۔

صمضم غفاری کو بھیجنے کے بعد ابو سفیان نے مزید احتیاط کی خاطر عام راستہ چھوڑ کر وہ راستہ اختیار کیا جو ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ مکہ کو جاتا تھا اور اس نے بڑی سرعت کے ساتھ مسلسل سفر کرنا شروع کیا اور جب اسے یہ اطمینان ہوگیا کہ وہ مسلمانوں کے حملہ سے محفوظ ہوگیا ہے تو اس نے قیس بن امرء القیس کو یہ پیغام دے کر قریش کے لشکر کے پاس بھیجا کہ اب یہ قافلہ مسلمانوں کے حملہ سے محفوظ ہے اس لیے اب اس کی حفاظت کے لیے لشکر کی ضرورت نہیں ہے اور تم لوگ واپس مکہ چلے جاؤ‘ اس نے یہ پیغام لشکر کے سپہ سالار ابوجہل تک پہنچا دیا ‘ لیکن ابوجہل نے واپس جانے سے صاف انکار کردیا اور کہا بہ خدا ہم ضرور جائیں گے اور بدر پہنچ کر دم لیں گے اور مسلمانوں کو سبق سکھائیں گے ‘ تاکہ آئندہ وہ ہمیشہ ہم سے دبے رہیں ہرچند کہ بعض متحمل مزاج لوگوں نے ابوجہل کی مخالفت کی اور کچھ لوگ واپس چلے گئے لیکن اکثریت ابوجہل کے ساتھ رہی۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ذفران کے مقام پر پہنچے تو آپ کو یہ اطلاع ملی کہ قریش کا لشکر بڑی تیاری کے ساتھ اپنے قافلہ کے دفاع کے لیے آرہا ہے ‘ اب صورت حال اچانک بدل چکی تھی پہلے مسلمان ایک قافلہ پر حملہ کے لیے روانہ ہوئے تھے جس کے ساتھ صرف چالیس آدمی تھے ‘ اب معلوم ہوا کہ قافلہ تو بچ کر نکل گیا ہے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے قریش کا ایک لشکر جرار چلا آ رہا ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نئی صورت حال سے اپنے اصحاب کو آگاہ فرمایا اور ان سے اس سلسلہ میں مشورہ طلب کیا ‘ تمام صحابہ نے نہایت گرمجوشی سے آپ کے ساتھ جہاد کرنے کے عزم کو ظاہر کیا ‘ حضرت مقداد بن عمرو (رض) نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو اللہ نے جہاں جانے کا حکم دیا ہے وہیں چلیے ہم قوم موسیٰ کی طرح نہیں جو یہ کہہ دیں کہ جائیے آپ اور آپ کا خدا ان سے جنگ کیجئے ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ‘ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ہمیں برک الغماد تک بھی لے جائیں تو ہم آپ کے ساتھ جائیں گے اور آپ کے ساتھ دشمن کے خلاف جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ وہاں پہنچ جائیں۔

حضرت سعد بن معاذ نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ہمیں سمندر پر لے جائیں اور آپ اس میں داخل ہوجائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ سمندر میں چھلانگ لگا دیں گے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے یہ ایمان افروز کلمات سن کر خوش ہوئے اور آپ نے فرمایا روانہ ہوجاؤ اور تمہیں یہ خوشخبری مبارک ہو کہ اللہ نے مجھے دو گروہوں میں سے ایک گروہ پر غلبہ عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے ‘ بخدا میں قوم کے مقتولوں کی قتل گاہیں دیکھ رہا ہوں۔

بدر میں پہنچ کر سارے صحابہ تھکے ہارے سو گئے صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات بھر ایک درخت کے نیچے نمازیں پڑھتے رہے ‘ اس رات خوب بارش ہوئی ‘ مسلمان ریتلے علاقہ میں خیمہ زن تھے ‘ اس بارش سے وہ ریت جم کر پختہ ہوگئی اور مسلمانوں کے لیے چلنے پھرنے میں آسانی ہوگئی ‘ اور جہاں کفار قریش خیمہ زن تھے وہاں بارش سے ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ ہوگئی ‘ صبح کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا کی کہ اے اللہ ! یہ قریش کا لشکر ہے جو بڑے غرور وتکبر سے چلا آرہا ہے ‘ اے اللہ ! اپنی وہ مدد بھیج جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اے اللہ ! کل ان کو ہلاک کر دے !

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے قبہ میں تشریف فرما تھے اور یہ دعا کر رہے تھے : اے اللہ میں تجھے تیرے عہد اور وعدہ کی قسم دیتا ہوں ‘ اے اللہ اگر تو نے (بالفرض) اپنے وعدہ کو پورا نہ فرمایا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی ‘ حضرت صدیق اکبر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا بہت کافی ہے ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے تو یہ آیت پڑھ رہے تھے :

(آیت) ” سیھزم الجمع ویولون الدبر “۔ (القمر : ٤٥)

ترجمہ : عنقریب یہ جماعت پسپا ہوگی اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات ہی کو صف بندی کردی تھی اور تمام مجاہدین صحابہ اپنے اپنے مورچوں میں ڈٹ گئے تھے ‘ جب مسلمانوں اور کافروں کی فوجیں ایک دوسرے کے بالمقابل تھیں اس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت موثر خطبہ دیا جس میں اللہ عزوجل کی حمد وثناء کی ‘ اللہ کی اطاعت پر برا انگیختہ کیا اور اس کے عذاب سے ڈرایا۔

جنگ کا آغاز اس طرح ہوا کہ کافروں کے لشکر سے اسود بن عبدالاسد المخزومی مسلمانوں کے حوض سے پانی پینے کا بلند بانگ دعوی کرکے مسلمانوں کے لشکر کی طرف آیا مگر حضرت حمزہ (رض) نے اس کو تہ تیغ کردیا ‘ جنگ بدر میں مارا جانے والا یہ پہلا کافر تھا ‘ یہ منظر دیکھ کر عتبہ بن ربیعہ ‘ اپنے بھائی شیبہ اور اپنے بیٹے ولید کو لے کر جوش غضب میں مسلمانوں کی طرف آیا اور یہ نعرہ لگایا کہ میرا مقابلہ کون کرے گا ‘ تین انصاری نوجوان اس کے مقابلہ میں نکلے مگر اس نے کہا ہمارے مقابلہ کے لیے ہماری قوم قریش کے جوانوں کو بھیجو ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبیدہ ‘ حضرت حمزہ اور حضرت علی (رض) کو بھیجا ‘ حضرت علی اور حضرت حمزہ نے اپنے اپنے مدمقابل کو موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن عتبہ کے ایک وار سے حضرت عبیدہ کی ٹانگ کٹ گئی ‘ حضرت حمزہ اور حضرت علی (رض) ان کی امداد کو پہنچے تو ان کے حملہ سے عتبہ کی لاش خاک اور خون میں تڑپ رہی تھی۔ حضرت عبیدہ (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا انہوں نے آخری لمحات میں اپنا رخسار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں میں رکھ دیا اور آپ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم شہید ہو۔ اس کے بعد عام حملہ شروع ہوگیا اور دونوں لشکر ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے ‘ یہ جنگ اسی طرح جاری رہی اسی دوران ابوجہل دوانصاری نوجوانوں حضرت معاذ اور حضرت معوذ کے ہاتھوں مارا گیا اور حضرت بلال کے ہاتھوں امیہ بن خلف مارا گیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مٹھی میں کنکریاں لے کر کفار کی طرف پھینکیں اور فرمایا : اے اللہ ان کے چہروں کو بگاڑ دے ‘ ان کے دلوں کو مرعوب کر دے اور ان کے قدم اکھاڑ دے۔ ان کنکریوں کا لگنا تھا کہ جنگ کا نقشہ بدل گیا اور مشرکین میدان جنگ سے بھاگنے لگے ‘ مجاہدین اسلام نے جب یہ بھگدڑ دیکھی تو انہوں نے مشرکوں کو اپنا قیدی بنانا شروع کیا اور ان کو رسیوں سے باندھنے لگے۔ معرکہ بدر سترہ رمضان المبارک بروز جمعہ واقع ہوا ‘ صبح کے وقت لڑائی شروع ہوئی اور زوال آفتاب تک جاری رہی جب سورج ڈھلنے لگا اس وقت کفار کے قدم اکھڑ گئے ‘ جنگ بدر میں چودہ مسلمان شہید ہوئے ‘ اور ستر کافر مارے گئے اور ستر کافر گرفتار کیے گئے۔

جنگ بدر میں جو فرشتوں کا نزول ہوا اس کے متعلق ہم انشاء اللہ متعلقہ آیات میں بحث کریں گے۔ (الروض الانف مع السیرۃ النبویہ لابن ہشام ج ٢ ص ٨١۔ ٦١‘ ملخصا تاریخ الامم والملوک للطبری ج ٢ ص ١٧٢۔ ١٣١‘ ملخصا الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج ٢ ص ٩٤۔ ٨٠‘ ملخصا البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٢٩١۔ ٢٥٦ ملخصا)

غزوہ احد کا مختصر تذکرہ : 

غزوہ احد تین ہجری کو وقوع پذیر ہوا ‘ قریش مکہ جو ایک سال پہلے بدر میں شکست کھا کر گئے تھے ‘ ایک سال تک بڑے جوش و خروش سے جنگ کی تیاری کرتے رہے ‘ ان کے سینوں میں آتش انتقام بھڑک رہی تھی ‘ پانچ شوال تین ہجری و رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اطلاع ملی کہ کفار قریش کا لشکر مدینہ منورہ کے قریب آپہنچا ہے۔ صبح کو آپ نے مہاجرین ‘ انصار اور عبداللہ بن ابی ابن سلول سے مشورہ کیا ‘ مہاجرین ‘ اکابرین انصار اور عبداللہ بن ابی کی یہی رائے تھی کہ شہر میں پناہ گزین ہو کر مقابلہ کیا جائے ‘ لیکن انصار کے نوجوانوں کی رائے یہ تھی کہ شہر سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زرہ پہن کر باہر تشریف لے آئے ‘ ان لوگوں کو بعد میں افسوس ہوا کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرضی کے خلاف اصرار کیا ‘ ان نوجوانوں نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا ‘ لیکن آپ نے فرمایا کہ نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ ہتھیار پہن کر اتار دے۔

قریش مکہ نے بدھ کے دن مدینہ کے قریب کوہ احد پر پڑاؤ ڈالا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد ایک ہزار صحابہ کے ساتھ شہر سے باہر نکلے ‘ عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کی جمعیت لے کر آیا تھا لیکن یہ کہہ کر واپس چلا گیا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا مشورہ قبول نہیں کیا ‘ اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف سات سو صحابہ رہ گئے جن میں ایک سو کے پاس زرہیں تھیں ‘ ان میں بھی کئی کم عمر صحابہ کو واپس کردیا گیا ان میں حضرت زید بن ثابت ‘ حضرت براء بن عازب ‘ حضرت ابوسعید خدری اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) شامل تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے پہاڑ کی پشت پر صف بندی کی ‘ احد پہاڑ کی پشت کی طرف سے یہ خطرہ تھا کہ دشمن اس طرف سے حملہ نہ کردے ‘ اس لیے آپ نے وہاں حضرت عبداللہ بن جبیر کی زیر کمان پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ مقرر کیا اور یہ حکم فرمایا کہ فتح ہو یا شکست وہ اپنی جگہوں سے نہ ہٹیں۔

جنگ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ قریش کا علم بردار طلحہ صف سے نکل کر پکارا مجھ سے کون مقابلہ کرے گا ؟ حضرت علی (رض) اس کے مقابلہ کے لیے نکلے ‘ اور اس زور سے اس پر تلوار سے حملہ کیا کہ دوسرے لمحہ میں اس کی لاش خاک وخون میں تڑپ رہی تھی ‘ طلحہ کے بعد عثمان نکلا اور وہ سیدنا حمزہ (رض) کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کے بعد عام جنگ شروع ہوگئی ‘ حضرت حمزہ ‘ حضرت علی ‘ اور حضرت ابودجانہ (رض) فوجوں کے اندر گھس گئے اور کفار کی صفیں الٹ دیں ‘ جبیربن مطعم کا ایک حبشی غلام تھا جس کا وحشی تھا ‘ جبیر نے اس سے وعدہ کیا کہ اگر اس نے حمزہ کو قتل کردیا تو اسے آزاد کردیا جائے گا۔ وہ حضرت سیدنا حمزہ (رض) کی تاک میں لگا ہوا تھا ایک بار حضرت حمزہ (رض) اس کے نشانہ کی زد پر آئے اس نے تاک کر نیزہ مارا جو آپ کی ناف کے آر پار ہوگیا۔ حضرت حمزہ (رض) لڑکھڑا کر گرے اور روح مبارک پرواز کرگئی۔

کفار اس جنگ میں بہت بےجگری سے جان پر کھیل کر لڑے۔ ایک کے ہاتھ سے علم گرتا تو دوسرا لے لیتا ‘ اس کے ہاتھ سے علم گرتا تو کوئی اور لے لیتا ‘ تاہم جنگ میں مسلمانوں کا پلہ بھاری تھا ‘ حضرت علی (رض) اور حضرت ابودجانہ کے شدید حملوں سے کفار کے پاؤں اکھڑ گئے تھے ‘ بالاخر کفار بدحواسی سے پیچھے ہٹے ‘ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں نے مال غنیمت لوٹنے کے لیے دوڑ پڑے۔ حضرت عبداللہ بن جبیر (رض) نے ان کو بہت روکا مگر وہ باز نہ آئے۔ تیر اندازوں کی خالی جگہ دیکھ کر خالد بن ولید نے عقب سے حملہ کیا ‘ حضرت عبداللہ بن جبیر (رض) چند سرفروش مجاہدین کے ساتھ جم کر لڑے لیکن سب شہید ہوگئے اب مشرکین کا راستہ صاف تھا ‘ مسلمان مال لوٹنے میں مشغول تھے ‘ اچانک پلٹ کر دیکھا تو ان کے سروں پر تلواریں پڑ رہی تھیں ‘ بدحواسی میں دونوں میں دونوں فوجیں اس طرح مخلوط ہوگئیں کہ خود بعض مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ‘ حضرت مصعب بن عمیر ‘ ابن قمیہ کے ہاتھوں شہید ہوئے ‘ وہ صورۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشابہ تھے اس لیے یہ افواہ پھیل گئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے ‘ اس افواہ سے بدحواسی اور مایوسی اور بڑھ گئی اور افراتفری پھیل گئی ‘ مسلمان گھبرا گئے بوکھلاہٹ میں دوست اور دشمن کی تمیز نہ رہی ‘ اس ہنگامہ میں حضرت حذیفہ (رض) کے والد یمان مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانثار صحابہ برابر لڑ رہے تھے ‘ لیکن ان کی آنکھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلاش کر رہی تھیں ‘ سب سے پہلے حضرت کعب بن مالک (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ کے چہرہ مبارک پر مغفر تھا ‘ لیکن آنکھیں نظر آرہی تھیں ‘ حضرت کعب بن مالک (رض) زور سے پکارے اے مسلمانو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں ہیں ‘ یہ سن کر ہر طرف سے جان نثار صحابہ آپ کے گرد اکٹھے ہوگئے ‘ کفار نے بھی اسی طرف دباؤ ڈالا ‘ پانچ صحابہ نے ایک ایک کر کے جان دے دی لیکن کسی کافر کو آپ کی طرف بڑھنے نہیں دیا ‘ عبداللہ بن قمیہ مسلمانوں کی صفوں کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب پہنچ گیا اور چہرہ مبارک پر تلوار ماری ‘ جس کی چوٹ سے مغفر کی دو کڑیاں چہرہ مبارک میں چبھ گئیں ‘ چاروں طرف سے تلواروں کے وار کو اپنے ہاتھوں سے روک رہے تھے اسی کیفیت میں ان کا ایک ہاتھ کٹ کر گرپڑا ‘ حضرت ابو طلحہ بھی آپ کی سپر بنے ہوئے تھے ‘ صحیح بخاری میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے کہ دشمن ادھر نہیں آسکیں گے لیکن ابوسفیان نے دیکھ لیا ‘ فوج لے کر پہاڑی پر چڑھا ‘ لیکن حضرت عمر (رض) اور چند دیگر صحابہ (رض) کے پتھر برسانے کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ سکے۔

قریش کی عورتوں نے جوش انتقام میں مسلمانوں کی لاشوں کو بھی نہیں چھوڑا ‘ ان کو مثلہ کیا یعنی ان کے چہرے سے ناک اور کان کاٹ لیے ‘ ھند نے ان کٹے ہوئے اعضاء کا ہار بنایا اور اپنے گلے میں ڈالا حضرت سیدنا حمزہ (رض) کی لاش پر گئی اور ان کا پیٹ چاک کر کے کلیجہ نکالا اور کچا چبا گئی لیکن گلے سے نہ اتر سکا اس لیے اگلنا پڑا۔ غزوہ احد میں ستر مسلمان شہید ہوئے اور بائیس کافر مارے گئے۔ (تاریخ الامم والملوک للطبری ج ٢ ص ٢١٠۔ ١٨٧‘ الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ١١١۔ ١٠٣‘ البدایہ والنہایہ ج ٤ ص ٢٩۔ ٩‘ التفسیر المنیر ج ٤ ص ٦٩)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ صبح کو اپنے گھر سے نکلے درآں حالیکہ آپ مومنوں کو جنگ کے لیے مورچوں پر بٹھا رہے تھے اور اللہ بہت سننے والا خوب جاننے والا ہے۔ (آل عمران : ١٢١)

سابقہ آیات کے ساتھ ارتباط :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور اگر تم صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تو ان کا مکرو فریب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ‘ اور ان آیتوں میں جنگ بدر اور احد کا تذکرہ کیا گیا ہے ‘ جنگ احد میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ جنگ کی تیاری بھی کرکے گئے تھے لیکن چونہ بعض مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم خلاف ورزی کی تو وہ شکست کھاگئے ‘ اور جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد بھی کم تھی اور وہ چالیس آدمیوں کے ایک تجارتی قافلہ پر حملہ کرنے کے لیے نکلے تھے کسی بڑے لشکر سے معرکہ آرائی کرنے کے لیے گھروں سے نہیں نکلے تھے لیکن چونکہ سب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام پر پورا پورا عمل کیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح اور نصرت سے نوازا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ فتح کا مدار عددی کثرت اور اسلحہ کی زیادتی پر نہیں ہے بلکہ اس کا مدار صبر اور تقوی پر ہے۔

غزوہ احد کے لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صحابہ سے مشورہ اور جنگ کی تیاری :

پانچ شوال تین ہجری کو بدھ کے دن قریش مکہ ‘ مدینہ کے قریب پہنچے تھے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے جنگ کرنے کے لیے صحابہ کرام (رض) سے مشورہ کیا۔

امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی متوفی ٢٥٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک مضبوط زرہ میں ہوں اور میں نے دیکھا کہ ایک بیل ذبح کیا جارہا ہے میں نے زرہ سے مدینہ کو تعبیر کیا اور بیل کی تعبیر بھاگنا ہے ‘ اور اللہ کے کام میں بہت خیر ہے اور اگر ہم مدینہ ہی میں رہیں تو وہ اگر ہم سے قتال کریں گے تو ہم ان سے قتال کریں گے (نوجوان) صحابہ نے کہا بہ خدا وہ لوگ زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی مدینہ میں داخل ہونے کی جرات نہیں کرسکے تو کیا اب زمانہ اسلام میں ہم ان کو مدینہ میں داخل ہونے دیں گے ! آپ نے فرمایا پھر جس طرح تم چاہو ‘ پھر انصار نے ایک دوسرے سے ہا ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے کو نہیں مانا انہوں نے آپ کی خدمت میں جا کر عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ جس طرح حکم فرمائیں ‘ آپ نے فرمایا اب یہ کہہ رہے ہو ! نبی جب ہتھیار پہن لے تو اس کے لیے جنگ کیے بغیر ہتھیار اتارنا جائز نہیں ہے۔ (سنن دارمی ج ١ ص ٥٥‘ مطبوعہ نشرالسنہ ملتان)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو موسیٰ (علیہ السلام) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو دیکھا اس کا شروع کا حصہ ٹوٹ گیا ‘ آپ نے بیل کی یہ تعبیر فرمائی کہ ہم میں سے ایک جماعت بھاگے گی ‘ اور تلوار کا بالائی حصہ ٹوٹنے کی تعبیر یہ تھی کہ آپ کے چہرے پر زخم آیا اور آپ کے سامنے کا دانت شہید ہوگیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے یہ تھی ‘ لیکن انصار کے پر جوش نوجوان مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنا چاہتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہتھیار زیب تن فرما کر آگئے بعد میں ان نوجوانوں نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نبی جب ہتھیار پہن لے تو جنگ کے بغیر نہیں اتارتا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف روانہ ہوئے آپ کے ساتھ ایک ہزار مسلمان تھے۔ لیکن عبداللہ بن ابی اپنے تین سوساتھیوں و لے کر نکل گیا کیونکہ اس کی رائے پر عمل نہیں کیا گیا تھا ‘ حتی کہ آپ کے ساتھ سات سو نفوس رہ گئے اور مشرکین کی تعداد تین ہزار تھی۔ (دلائل النبوۃ ج ٣ ص ٢٠٨۔ ٢٠٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤٠١ ھ

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں :)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد احد کی طرف روانہ ہوئے ‘ اور ہفتہ کے دن احد کی گھاٹیوں میں پہنچے ‘ آپ پیدل چل رہے تھے اور جنگ کے لیے اپنے اصحاب کی صفیں باندھ رہے تھے اگر کوئی شخص صف سے باہر نکلا ہوا ہوتا تو آپ اس کو صف کے اندر کردیتے آپ وادی کے نشیب میں اترے تھے اور آپ کی پشت اور لشکر احد کی طرف تھا۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤١ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس دن ہمارا مشرکوں سے مقابلہ ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیراندازوں کا ایک لشکر (احد پہاڑ پر) بٹھا دیا اور حضرت عبداللہ بن جبیر بن مطعم کو ان کا امیر بنادیا اور فرمایا تم اس جگہ سے نہ جانا ‘ اگر تم یہ دیکھو کہ ہم غالب آگئے ہیں پھر بھی تم یہاں سے نہ جانا ‘ اور تم دیکھو کہ مشرکین ہم پر غالب آگئے ہیں تو تم ہماری مدد کے لیے نہ آنا الحدیث۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٥٧٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 121