أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ هَمَّتۡ طَّآٮِٕفَتٰنِ مِنۡكُمۡ اَنۡ تَفۡشَلَا ۙ وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا‌ ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ

ترجمہ:

جب تم میں سے دو گروہ بزدلی پر تیار ہوگئے حالانکہ اللہ ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب تم میں سے دو گروہ بزدلی پر تیار ہوگئے حالانکہ اللہ ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔ (آل عمران : ١٢٢)

غزوہ احد کے متعلق احادیث اور آثار : 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت موسیٰ بن عقبی (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر واپس چلا گیا تو مسلمانوں کی دو جماعتوں کے دل بیٹھ گئے اور یہ دو جماعتیں بنو حارثہ اور بنو سلمہ تھیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا ‘ اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ (دلائل النبوۃ ج ٣ ص ٢٠٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤٠١ ھ

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

مشرکین نے مسلمانوں پر تین بار حملے کیے اور ہر بار پسپا ہوئے جن پچاس تیر اندازوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد پہاڑ پر کھڑا کیا تھا انہوں نے جب دیکھا کہ کفار مغلوب اور پسپا ہوگئے ہیں تو انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ہمارے بھائیوں کو فتح عطا کردی ہے ‘ بہ خدا اب ہم یہاں بالکل نہیں بیٹھیں گے اور جس جگہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں بیٹھنے کا حکم دیا تھا وہ وہاں سے ہٹ گئے اور یہی حکم عدولی ان کی شکست کا سبب بن گئی۔ جب مشرکین کے لشکر نے دیکھا کہ مسلمان متفرق ہوگئے اور بکھر گئے تو انہوں نے احد پہاڑ کی پشت سے ان پر حملہ کردیا ‘ مسلمان مال غنیمت لوٹنے میں مشغول تھے کہ وہ اچانک تیروں اور تلواروں کی زد میں آگئے ‘ اور کسی پکارنے والے نے بلند آواز سے پکار کر کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے ‘ یہ خبر سن کر مسلمانوں کی رہی سہی کمر ٹوٹ گئی ‘ بہت سے مسلمان شہید کردیئے گئے۔ جب بہت سے صحابہ کرام کے پاؤں اکھڑ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ثابت قدم رکھا۔ آپ مسلمانوں کو آوازیں دے کر بلاتے رہے آپ اس وقت احد کی گھاٹیوں میں مہراس نام کی ایک گھاٹی کے قریب تھے۔ کئی صحابہ آپ کے پاس وہاں پہنچ گئے تھے ادھر دوسری طرف جب مسلمانوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں ملے تو وہ ہمت ہار بیٹھے ‘ بعض نے کہا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی نہیں رہے تو اب لڑنے سے کیا فائدہ ! بعض نے کہا اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے ہیں تو کیا تم اپنے دین کی حمایت میں نہیں لڑو گے ! تم اپنے دین کی حمایت میں لڑتے رہو حتی کہ اللہ تعالیٰ سے شہید ہونے کی حالت میں ملاقات کرو ‘ یہ حضرت انس بن نضر (رض) نے کہا تھا اور بنو قشیر میں سے کسی نے کہا اگر ہمارے دین میں کچھ بھلائی ہوتی تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے !

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کو ڈھونڈ رہے تھے اور ان کو بلا رہے تھے ‘ صحابہ کی ایک جماعت ثابت قدمی سے آپ کے ساتھ تھی ‘ ان میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت زبیر بن عوام بھی تھے ‘ ان صحابہ نے تادم مرگ آپ کا ساتھ دینے پر بیعت کی تھی ‘ انہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ڈھال بنایا ہوا تھا۔ ان میں سے چھ یا سات صحابہ آپ پر سپر بنے ہوئے شہید ہوگئے وہ آپ کے ساتھ مہراس نامی گھاٹی میں چل رہے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پتہ چلنے کے بعد سب سے پہلے حضرت کعب بن مالک (رض) نے آپ کو دیکھا ‘ آپ کا چہرہ مغفر (خود) میں چھپا ہوا تھا صرف آپ کی آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ انہوں نے آنکھوں سے آپ کو پہچان لیا اور بلند آواز سے چلائے اللہ اکبر ! یہ ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت آپ کا چہرہ زخمی تھا اور ایک دانت (سامنے کے چار دانتوں میں سے دائیں جانب کے نچلے دانت کا ایک جز) شہید ہوچکا تھا۔ (دلائل النبوت ج ٣ ص ٢١١۔ ٢١٠‘ ملخصا مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٠١ ھ)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچاس تیر اندازوں کو احد پر مامور کیا تھا اور فرمایا تھا کہ فتح ہو یا شکست تم یہاں سے نہ ہٹنا ‘ جب مسلمانوں کا مشرکوں سے مقابلہ ہوا تو مشرک بھاگ گئے حتی کہ میں دیکھا عورتیں پنڈلیوں سے کپڑا اٹھائے ہوئے پہاڑ پر بھاگ رہی تھیں ان کی بازیب دکھائی دے رہی تھیں تو یہ لوگ بھی غنیمت ‘ غنیمت پکارتے ہوئے دوڑے ‘ حضرت عبداللہ بن جبیر (رض) نے کہا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو یہ نصیحت کی تھی کہ فتح ہو یا شکست یہاں سے نہ جانا وہ نہیں مانے اور جب وہ نہیں مانے تو شکست ان کا مقدر بن گئی ‘ ستر مسلمان شہید کردیئے گئے ‘ ابوسفیان نے سر اٹھا کر کہا کیا قوم میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس کو جواب مت دو ‘ پھر کہا کیا قوم میں ابن ابی قحافہ (حضرت ابوبکر (رض) ہیں ؟ آپ نے فرمایا مت جواب دینا ‘ پھر کہا کیا قوم میں ابن الخطاب ہیں ؟ پھر کہنے لگا یہ لوگ قتل کردیئے گئے۔ اگر یہ زندہ ہوتے تو جواب دیتے ! حضرت عمر (رض) ضبط نہ کرسکے اور کہا : اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے ان کو باقی رکھا ہے جو تیری رسوائی کے لیے کافی ہیں ‘ ابوسفیان نے کہا ھبل بلند ہو ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو جواب دو ‘ عرض کیا : ہم کیا کہیں فرمایا کہو اللہ اعلی واجل (اللہ سب سے بلند اور سب سے بزرگ ہے) ابوسفیان نے کہا ہمارے لیے عزی ہے اور تمہارے لیے کوئی عزی نہیں ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کا جواب دو ‘ عرض کیا کیا کہیں ؟ فرمایا : کہو اللہ ہمارا مولی ہے اور تمہارا کوئی مولی نہیں ‘ ابوسفیان نے کہا آج دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور جنگ کنوئیں کے ڈول کی طرح ہے اور تم کچھ لاشوں کے اعضاء کٹے ہوئے پاؤ گے میں نے اس کا حکم دیا تھا نہ مجھے اس پر افسوس ہوا۔

ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف روزہ دار تھے (افطار کے وقت) ان کے پاس کھانا لایا گیا ‘ انہوں نے کہا حضرت مصعب بن عمیر (رض) (احد میں) شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہت افضل تھے ‘ ان کو ایک چادر میں کفن دیا گیا اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پیر کھل جاتے اور اگر پیر ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا ‘ اور سیدنا حمزہ (رض) شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے افضل تھے۔ پھر ہمارے لیے دنیا کشادہ کردی گئی اور ہمیں دنیا کی وہ چیزیں دی گئیں جو دی گئیں اور ہمیں یہ ڈر ہے کہ کہیں ہمیں نیکیوں کا صلہ دنیا میں ہی نہ مل گیا ہو ‘ پھر حضرت عبدالرحمان روتے رہے حتی کہ کھانا چھوڑ دیا۔

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا یہ فرمائیے اگر میں شہید ہوجاؤں تو کہاں ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جنت میں ‘ اس کے ہاتھ میں جو کھجوریں تھیں وہ اس نے پھینک دیں اور جا کر جہاد کرتا رہا حتی کہ شہید ہوگیا۔

انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا جنگ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے ‘ انہوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دوبارہ جہاد کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ لوگوں کو دکھا دے گا کہ میں کس طرح جہاد کرتا ہوں ‘ وہ جہاد کر رہے تھے کہ مسلمان مشرکوں کے اچانک حملہ کی وجہ سے بھاگے ‘ انہوں نے کہا اے اللہ ! میں ان لوگوں کی کاروائی سے تیری بارگاہ میں عذر پیش کرتا ہوں اور مشرکوں کے حملہ سے بیزار ہوں ‘ پھر وہ تلوار لے کر آگے بڑھے ‘ تو حضرت سعد بن معاذ (رض) سے ملاقاتت ہوئی انہوں نے کہا اسے سعد تم کہاں جارہے ہو مجھے تو احد کے پاس جنت کی خوشبو آرہی ہے وہ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ‘ ان کی لاش پر اتنے زخم تھے کہ پہچانی نہیں جاتی تھی حتی کہ ان کی بہن نے انگلیوں کے پوروں سے ان کو پہچانا ‘ ان کی لاش پر تلواروں اور تیروں کے اسی (٨٠) زخم تھے۔

انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب مسلمان (گھبرا کر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر بھاگ گئے ‘ اس وقت حضرت ابو طلحہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ڈھال لیے ہوئے کھڑے تھے ‘ حضرت ابو طلحہ (رض) بہت ماہر تیر انداز تھے۔ اس دن انہوں نے دو یاتین کمانیں توڑ ڈالیں تھیں ‘ جو مسلمان بھی وہاں سے اپنے ترکش میں تیرلیے ہوئے گزرتا آپ فرماتے یہ تیر ابو طلحہ کو دے دو ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (گھاٹی سے) جھانک کر قوم کی طرف دیکھ رہے تھے حضرت ابوطلحہ (رض) کہتے آپ پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں آپ مت جھانکیے ‘ کہیں آپ کو کوئی تیر نہ لگ جائے ‘ میرا سینہ آپ کے سینہ کے سامنے سپر ہے اور میں نے دیکھا حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ام سلیم (رض) اپنی پیٹھوں پر مشکیں لاد لاد کر زخمیوں کو پانی پلا رہی تھیں ‘ اس دن دو یا تین بار حضرت طلحہ (رض) کے ہاتھوں سے تلوار گری تھی۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جنگ احد کے دن جب مشرکین شکست کھانے لگے تو ابلیس لعنہ اللہ چلایا ‘ اے اللہ کے بندو ! پچھلے گروہ پر حملہ کرو تو لشکر کا اگلا حصہ اور پچھلا حصہ ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہوگئے ‘ حضرت حذیفہ (رض) نے دیکھا کہ مسلمان ان کے والد یمان کو قتل کر رہے ہیں ‘ انہوں نے چلا کر کہا اے اللہ کے بندو ! یہ میرے باپ ہیں ‘ یہ میرے باپ ہیں ‘ لیکن بہ خدا وہ میرے باپ کو قتل کرنے سے باز نہیں آئے ‘ حتی کہ انہوں نے میرے والد کو قتل کردیا ‘ حضرت حذیفہ (رض) نے کہا اللہ تمہاری مغفرت فرمائے ‘ (عروہ نے کہا بہ خدا حضرت حذیفہ (رض) نے تمام زندگی نیکی کے ساتھ گزاری) (حضرت یمان اس وجہ سے قتل کردیئے گئے کہ مسلمان اس قدر گھبرائے ہوئے تھے کہ انہیں اپنے اور پرائے کی تمیز نہیں ہو رہی تھی)

انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ زخمی ہوگیا ‘ آپ نے فرمایا وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جس نے اپنے نبی کا چہرہ خون آلود کردیا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لیس لک من الامر شیء “ آپ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ “

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ اس قوم پر شدید غضبناک ہوتا ہے جو اس کے نبی کے ساتھ (یہ) کارروائی کرے آپ نے اپنے سامنے کے چار دانتوں میں سے دائیں جانب کے نچلے دانت کی طرف اشارہ کیا ‘ اور فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر شدید غضب ناک ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں اس کے رسول کو قتل کر دے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر شدید غضب ناک ہوتا ہے جس شخص کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے راستہ میں قتل کردیں ‘ اور اللہ تعالیٰ اس قوم پر شدید غضب ناک ہوتا ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ خون آلود کر دے۔

حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا فاطمہ (رض) بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زخم دھو رہی تھیں اور حضرت علی (رض) ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے ‘ جب حضرت فاطمہ (رض) نے دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون کا بہنا ہونے کے بجائے اور زیادہ ہو رہا ہے تو حضرت فاطمہ (رض) سے ایک چٹائی کا ٹکڑا لے کر اس کو جلایا اور اس کی راکھ کو زخم کے اوپر رکھا ‘ تو خون رک گیا ‘ اس دن آپ کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دائیں جانب کا نچلا دانت ٹوٹ گیا اور آپ کا سر زخمی ہوگیا تھا ‘ اور خود آپ کے سر پر ٹوٹ گیا تھا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٥٨٤۔ ٥٧٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

عتبہ بن ابی وقاص نے تیر مارا تھا جس سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نچلا دانت شہید ہوگیا اور نچلا ہونٹ زخمی ہوگیا ‘ یہ دانت جڑ سے نہیں ٹوٹا تھا بلکہ اس کا ایک ٹکڑا ٹوٹ گیا تھا ‘ اور عبداللہ بن شہاب نے آپ کے خود پر تلوار سے وار کیا تھا جس سے خود ٹوٹ گیا اور آپ کا چہرہ زخمی ہوگیا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دانت مبارک شہید ہونا اور چہرہ اقدس زخمی ہونا اس لیے تھا تاکہ اللہ کی راہ میں خون بہانے اور زخم کھانے کے عمل میں آپ کا اسوہ اور نمونہ ہو ‘ اور اس عمل میں آپ کی اقتداء کا اجر وثواب ملے ‘ اور آپ کے حیرت انگیز معجزات دیکھ کر کوئی شخص آپ پر الوہیت کا دھوکا نہ کھائے اور آپ کے زخمی ہونے سے آپ کے متعلق الوہیت کے عقیدہ کی نفی ہو اور آپ نے جو زخم دھلوایا اور اس کا علاج کرایا اور اس سے علاج کرانے کا سنت ہونا ثابت ہوا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 122