حدیث نمبر :251

روایت ہے انہی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو حریص سیرنہیں ہوتے ایک علم کا حریص جو اس سے سیر نہیں ہوتا اور دنیا کا حریص اس سے سیرنہیں ہوتا ۱؎ یہ تینوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں اور فرمایا کہ امام احمد نے ابوالدرداءکی حدیث کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں میں اس کا متن مشہور ہے لیکن اس کی اسنادصحیح نہیں ۲؎

شرح

۱؎ حرص کے معنے ہیں ہمیشہ زیادتی کی خواہش،دنیاوی حرص بری ہے دینی حرص اچھی،عالم کو علم سے کبھی سیری نہیں ہوتی یہ اﷲ کی نعمت ہے،رب فرماتا ہے:”قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا”دنیا دار دنیا سے سیرنہیں ہوتا،جیسے جَلَنْدَھْر کا بیمار پانی سے۔خیال رہے کہ یہ سب اپنے لیئے ہیں،حضور امت کے لیئے یہ ان سے لے کر سیر نہیں ہوتے حضور دے کر سیر نہیں ہوتے،رب فرماتا ہے:”حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ” لفظ ایک ہے معنے علیحدہ۔

۲؎ امام نووی نے اپنی چہل حدیث میں فرمایا کہ ابوالدرداء کی حدیث بہت اسنادوں سے مروی ہے جو ساری ضعیف ہیں مگر اسنادوں کی کثرت اور علماء کے قبول کرلینے کی وجہ سے حدیث قوی ہوگی،کیونکہ تعدد اسناد سے ضعیف حسن بن جاتی ہے۔نیز فضائل اعمال میں حدیث ضعیف مقبول ہے۔(ازمرقاۃ و اشعۃ اللمعات)