*سوشل لائف اور حقیقی زندگی*

غلام مصطفیٰ نعیمی

جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی

gmnaimi@gmail.com

جس تیزی کے ساتھ سوشل میڈیا پر رشتے جوڑے جارہے ہیں. اسی تیزی کے ساتھ حقیقی رشتے ٹوٹتے جارہے ہیں.

سوشل میڈیائی دوستوں سے دن میں دس بار دعا سلام ہوتی ہے لیکن حقیقی رشتہ داروں سے ہفتوں میں بھی خیریت پوچھنے کا وقت نہیں ملتا…ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگ پرانے رشتوں کو توڑتے جارہے ہیں… حبکہ فرمان ربی ہے:

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ

وَالۡاَرۡحَامَ ؕ (النساء:1)

اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو.

آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

“صلوا أرحامكم ولو بالسلام”

صلہ رحمی کرو اگرچہ سلام کہنے کے ذریعے ہو.

(مجمع الزوائد:ج8:ص152)

اس لئے “سوشل لائف” سے کچھ وقت “حقیقی زندگی” کے رشتہ داروں کے لئے بھی نکالا کریں… “آنلائن” سے دور “آفلائن” بھی ایک دنیا بستی ہے اور اتفاق سے آپ اسی

“آفلائن دنیا میں پیدا ہوئے ہیں”

“آنلائن ورلڈ میں اپ لوڈ نہیں ہوئے ہیں”

اس لئے روز نہ سہی،کم از کم ہفتہ میں ایک بار رشتہ داروں سے دعا سلام اور خیر خیریت کی عادت بنائیں…اپنے معمولات زندگی میں انہیں بھی “ٹیگ اور مینشن” کیا کریں…

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:

“رشتہ داروں کو اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے بغیر جینے کے عادی ہوجائیں”

غلام مصطفےٰ نعیمی

مؤرخہ 12 ربیع الثانی 1440ھ

20 دسمبر2018ء بروز جمعرات