حدیث نمبر :250

روایت ہے انس بن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم جانتے ہو کہ بڑا سخی کون ہے عرض کیا اﷲ رسول جانیں ۱؎ فرمایا اﷲ تعالٰی بڑا جوّاد ہے ۲؎ پھر اولاد آدم میں مَیں بڑا سخی داتا ہوں۳؎ اور میرے بعد بڑا سخی وہ شخص ہے جو علم سیکھے پھر اسے پھیلائے۴؎ وہ قیامت میں اکیلا امیر یا فرمایا ایک جماعت ہو کر آئے گا ۵؎

شرح

۱؎ یہ صحابہ کا ادب ہے کہ نہ تو”لَا”کہا نہ” بلیٰ”کہ ہاں جانتے ہیں تاکہ حضور پر پیش قدمی نہ ہوجائے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور کو اﷲ سے ملا کر ذکر کرنا اور دونوں ہستیوں کے لیئے ایک ہی صیغہ لانا جائز ہے رب فرماتاہے:”اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ” لہذا یہ کہہ سکتے ہیں اﷲ رسول علیم وخبیر ہیں۔اﷲ رسول نے غنی کردیا،اﷲ رسول بھلا کریں وغیرہ۔

۲؎ محاورۂ عرب میں عمومًا سخی اسے کہتے ہیں جو خود بھی کھائے اوروں کو بھی کھلائے۔جوّاد وہ جوخود نہ کھائے اوروں کو کھلائے اسی لیئے اﷲ تعالٰی کوسخی نہیں کہا جاتا ہے۔سخی کے مقابل بخیل ہے جو خودکھائے اوروں کو نہ کھلائے۔جوّاد کا مقابل مُمْسِكْہے جو نہ کھائے نہ کھانے دے۔اﷲ تعالٰی کی تمام دنیوی اخروی نعمتیں دنیا کے لیئے ہیں اس کے لیئے نہیں۔

۳؎ یہ ارشاد فخرًا نہیں شکرًا ہے حضور ساری خلقت سے بڑے سخی ہیں چونکہ انسان اشرف الخلق ہے اس لیئے اس کا ذکر فرمایا حضور جودِ الٰہی کے مظہر ہیں،رب کی ساری ظاہری و باطنی نعمتیں حضور کے ہاتھوں خلق کو ملتی ہیں۔خود فرماتے ہیں اﷲ دیتا ہے میں بانٹنے والا ہوں،اس حدیث میں اﷲ تعالٰی اور حضور کی سخاوتیں بغیر قید ذکر ہوئیں ہیں اور ظاہر ہے کہ سخی وہی ہوگا جو مالک بھی ہو لہذا حضور مالک کونین ہیں۔

۴؎ یہاں رتبہ کے بعدیت مراد ہے نہ کہ زمانہ کی،لہذا اس میں صحابہ کرام اور تاقیامت علماء داخل ہیں،یعنی میری سخاوت کے بعد عالم دین کا درجہ ہے کہ مال کی سخاوت سے علم کی سخاوت افضل ہے اور کیوں نہ ہو کہ حضور ابر رحمت ہیں،علمائے دین اس کا تالاب۔خیال رہے کہ علماء کی سخاوت میں علم کی قید ہے حضور کی سخاوت بے قید،علم پھیلانا خواہ درس تدریس کے ذریعہ ہویا تصنیف کے ذریعہ۔

۵؎ یعنی اس دن عالم دین امام ہوگا اور سارے عابد نمازی شہید وغیرہ اس کے ماتحت کیونکہ جس نے جو نیکی کی عالم کے بتانے سے کی یا ایک عالم کو سارے مسلمانوں کے برابر ثواب ملے گا سب کے حج جہاد وغیرہ میں اس کا حصہ ہوگا یہ مطلب ہے امت واحدہ ہونے کا،رب فرماتا ہے:”اِنَّ اِبْرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً “۔