حدیث نمبر :253

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت کے کچھ لوگ علم دین سیکھیں گے اور قرآن پڑھیں گے کہیں گے کہ ہم امیروں کے پاس جائیں ان کی دنیا لے آئیں اپنا دین بچالائیں ۱؎ لیکن ایسا نہ ہو سکے گا جیسے ببول کے درخت سے کانٹے ہی چنے جاتے ہیں ایسے ہی امیروں کے قرب سے(محمد ابن صباح نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ)خطائیں ہی چنی جائیں گی ۲؎(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یعنی بعض علماء و قاری صاحبان بلاضرورت طمع نفسانی کی خاطر اور مال و عزت حاصل کرنے کے لیئے فاسق مالداروں اور حکام کے پاس جانا آنا و نشست و برخاست رکھیں گے محض دنیا کی غرض سے۔

۲؎ ہماری شرح سےمعلوم ہوگیا کہ امیروں سے فاسق اور بے دینی امیر مراد ہیں ان کے پاس علماء کا آنا جانا دین کے لیئے خطرناک ہے کہ وہ ان سے اپنی مرضی کے مطابق غلط فتوے حاصل کرتے ہیں جیسے کہ آج دیکھا جارہا ہے کہ فساق مالدار انتخاب کے موقعوں پر ووٹوں کے لیئے عالموں اور پیروں کو ناجائز استعمال کرلیتے ہیں۔دین دار امیروں کے پاس دینی فائدے کے لیئے علماء کا جانا جائز بلکہ بڑا فائدہ مند ہے۔یوسف علیہ السلام عزیز مصر کے افسر مال رہے،آپ کی برکت سے عزیز کو ایمان اور دنیا کو قحط سے امان مل گئی۔قاضی امام یوسف ہارون رشید بادشاہ کے قاضی القضاۃ رہے،آپ کی برکت سے بادشاہ کو تقوےٰ نصیب ہوا اور دنیا علم سے مالا مال ہوگئی۔یہ واقعات اس حدیث کے خلاف نہیں،محمد ابن مسلمہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ پر بیٹھنے والی مکھی امیروں اور حاکموں کے دروازہ پر جانے والے عالم و قاری سے اچھی ہے کہ وہ نجاست لے کر آتی ہے اور یہ دین دیکر اورظلم لیکر آتے ہیں۔