حدیث نمبر :254

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ اگر علماء علم محفوظ رکھتے ۱؎ اور اسے اہل ہی پر پیش کرتے ۲؎ تو اس کی برکت سے اپنے زمانہ والوں کے سردار ہوجاتے ۳؎ مگر انہوں نے علم دنیا داروں کے لیے خرچ کیا تاکہ اس سے ان کی دنیا کمائیں اس سے وہ ان پر ہلکے ہوگئے ۴؎ میں نے تمہارے نبی کو فرماتے سنا کہ جو تمام غموں کو ایک آخرت کا غم بنالے اﷲ اسے دنیا کے غموں سے کافی ہوگا اور جسے دنیا کے غم ہر طرف لیے پھریں تو اﷲ اس کی پروا بھی نہ کرے گا کہ کون سے جنگل میں ہلاک ہوا ۵؎ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا۔اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمر سے جہاں سے روایت کی مَنْ جَعَلَ الخ روایت ہے۔

شرح

۱؎ یعنی علم کو ذلت اور اہانت سے بچاتے اس طرح کہ خود طمع اور لالچ میں دنیا داروں کے دروازے پر دھکے نہ کھاتے کہ عالم کی ذلت سے علم کی ذلت ہے اور علم کے بے حرمتی دین کی ذلت ہے۔

۲؎ یعنی قدر دانوں اور شریف الطبع لوگوں کو علم سکھاتے۔

۳؎ اس طرح کہ بادشاہ ان کے قدموں کے نیچے اور ان کے احکام ان کے قلموں کے نیچے ہوتے ہیں رب کا وعدہ ہے:”وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ”۔

۴؎ معلوم ہوتا ہے کہ تابعین میں لالچی اور حریص عالم پیدا ہوچکے تھے،جنہیں دیکھ کر صحابہ یہ فرمارہے ہیں۔

۵؎ سبحان اﷲ!تجربہ بھی اس حدیث کی تائید کرتا ہے اﷲ تعالٰی کسی مسلمان کو دو غم اور دو فکریں نہیں دیتا،جس دل میں آخرت کا غم و فکر ہے ان شاءاﷲ اس میں دنیا کا غم و فکر نہیں آتا دنیاوی تکلیفیں اگر آ بھی جائیں تو دل ان کا اثر نہیں لیتا۔کلورا فارم سنگھا دینے سے آپریشن کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔اﷲ تعالٰی غم آخرت نصیب کرے حضرت حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ یہی کلورافارم سونگھے ہوئے تھے جس کی وجہ سے کربلا کی مصیبتیں خندہ پیشانی سےجھیل گئے۔