أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَيۡسَ لَكَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَىۡءٌ اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ اَوۡ يُعَذِّبَهُمۡ فَاِنَّهُمۡ ظٰلِمُوۡنَ

ترجمہ:

آپ اس میں سے کسی چیز کے مالک نہیں ‘ اللہ (چاہے تو) ان (کافروں) کی توبہ قبول فرمائے یا وہ ان کو عذاب دے کیوں کہ بیشک وہ ظلم کرنے والے ہیں

تفسیر:

آیت) ” لیس لک من الامر شئی “۔ کے شان نزول میں متعدد اقوال : 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں :

اس آیت کے شان نزول میں کئی اقوال ہیں ‘ زیادہ مشہور قول یہ ہے کہ یہ آیت واقعہ احد میں نازل ہوئی ہے اور اس کی بھی کئی تقریریں درج ذیل ہیں :

(١) عتبہ بن ابی وقاص کی ضرب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر مبارک زخمی ہوگیا اور سامنے کے چار دانتوں میں سے دائیں جانب کا نچلا دانت شہید ہوگیا ‘ آپ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہے تھے اور ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام آپ کے چہرے سے خون دھو رہے تھے ‘ اس وقت آپ نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کا چہرہ خون آلود کردیا ‘ اس وقت آپ نے ان کے لیے دعائے ضرر کرنا چاہی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (اس حدیث کا بیان صحیح بخاری ج ٢ ص ٥٨٢ میں ہے)

(٢) سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ لوگوں کے لیے دعاء ضرر کی اور فرمایا : اے اللہ ابو سفیان پر لعنت فرما ‘ اے اللہ حارث بن ہشام پر لعنت فرما ‘ اے اللہ صفوان بن امیہ پر لعنت فرما ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان لوگوں نے مسلمان ہو کر نیک عمل کیے۔

(٣) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو دیکھا ان کو مثلہ کردیا گیا تھا اور ان کی لاش کے اعضاء کاٹ دیئے گئے تھے تو آپ نے فرمایا میں تیس کافروں کو مثلہ کروں گا ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی ‘ قفال نے کہا : جنگ احد میں یہ تمام واقعات پیش آئے۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ تینوں واقعات اس آیت کے نزول کا سبب ہوں۔ (امام رازی اور بعض دیگر مفسرین کو یہاں وہم ہوا ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ میں تیس کافروں کو مثلہ کروں گا ‘ آپ نے فرمایا تھا میں بھی ان کو مثلہ کروں گا ‘ کتاب المغازی للواقدی ج ١ ص ٣٢٠‘ کیونکہ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ النحل “۔ : ١٢٦، اگر تم انہیں سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی۔ امام رازی نے بغیر کسی حوالہ کے اس روایت کو تفسیر کبیر میں درج کیا ہے ‘ جب میں نے اس روایت کو پڑھا تو میرے قلب وضمیر نے یہ قبول نہیں کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حمزہ کی لاش کو مثلہ کئے ہوئے دیکھ کر یہ فرمایا ہو کہ میں اس کے بدلہ میں ان کے تیس کافر مثلہ کروں گا ‘ میں اس روایت کی اصل تلاش کرتا رہا بہرحال مجھے کتاب المغازی للواقدی میں یہ روایت مل گئی جس میں ہے کہ میں اس کو مثلہ کروں گا ‘ اور آپ کا یہ ارشاد قرآں مجید کے مطابق ہے کہ ” برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے۔ “ (الشوری : ٤٠) اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ توفیق بخشی) اس آیت کے متعلق دوسرا قول حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جن بعض لوگوں نے جنگ احد میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکم عدولی کی تھی ‘ اور اس وجہ سے شکست ہوئی تھی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے خلاف دعاء ضرر کا ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔

ان تمام اسباب کا تعلق واقعہ احد سے ہے ‘ لیکن مقاتل نے ایک اور سبب بیان کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کی ایک جماعت کو بیر معونہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان کو قرآن کی تعلیم دیں ‘ عامر بن طفیل ان کو اپنے لشکر کے ساتھ لے گیا اور ان کو گرفتار کر کے قتل کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس واقعہ سے سخت اذیت پہنچی اور آپ نے چالیس روز تک ان کافروں کے خلاف دعائے ضرر کی اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن یہ قول بعید ہے کیونکہ اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت کا تعلق قصہ احد کے ساتھ ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

آپ کو کفار پر لعنت کرنے سے منع کرنا آپ کی عصمت کے خلاف نہیں ہے : 

اس آیت کے جو شان نزول بیان کیے گئے ہیں ان پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے کام کرتے تھے جن سے آپ کو منع کیا گیا ‘ سو اگر یہ کام حسن تھے تو آپ کو ان سے منع کیوں کیا گیا اور اگر یہ کام قبیح تھے تو یہ آپ کے معصوم ہونے کے خلاف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کفار پر لعنت کی یا دعاء ضرر کی یہ ترک اولی اور ترک افضل کے باب سے ہے اس کی نظیر قرآن مجید کی یہ آیت ہے :

(آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصبرین “۔ (النحل : ١٢٦)

ترجمہ : اور اگر تم ان کو سزا دو تو اتنی ہی سزا دو جتنی تم کو اذیت پہنچائی گئی ہے اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر کرنے والوں کے لیے صبر بہت اچھا ہے۔

اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر تم کسی کسی اذیت پہنچانے سے اس کا بدلہ لینا جائز ہے لیکن اگر تم بدلہ لینے کے بجائے صبر کرو تو وہ افضل اور اولی ہے ‘ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کفار پر لعنت کرنا اور ان کے خلاف دعاء ضرر کرنا جائز تھا لیکن اس کو ترک کرنا زیادہ افضل اور اولی ہے ‘ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل اور اولی کے ترک کرنے سے منع فرمایا ہے اور ترک افضل اور ترک اولی عصمت کے خلاف نہیں ہے۔ عصمت کے خلاف گناہ کبیرہ یا گناہ صغیرہ ہے اور آپ نے کبھی بھی کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا۔ نبوت سے پہلے نہ نبوت کے بعد ‘ نہ سہوا نہ عمدا نہ صورۃ نہ حقیقۃ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بعض کفار پر لعنت کرنے اور دعاء ضرر کرنے کا بیان ان حدیثوں میں ہے :

بعض کافروں کے خلاف دعاء ضرر کرنے اور لعنت کرنے کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب صبح کی نماز کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ “ اور ” ربنا لک الحمد “ کے بعد یہ دعا کرتے : اے اللہ ! فلاں اور فلاں اور فلاں کو لعنت کر ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” لیس لک من الامر شیء “۔ نیز حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفوان بن امیہ ‘ سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے خلاف دعائے ضرر کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” لیس لک من الامر شیء “۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٥٨٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ماہ تک قنوت (نازلہ) پڑھتے رہے۔ آپ رعل اور ذکوان کے خلاف دعاء ضرر کرتے تھے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٣٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں قرات سے فارغ ہو کر ” سمع اللہ لمن حمدہ “ اور ” ربنالک الحمد “ کہنے کے بعد کھڑے ہو کر دعا کرتے : اے اللہ ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ اور ضعفاء مومنین کو نجات دے ‘ اے اللہ مضر کو شدت کے ساتھ پامال کر دے ‘ اور ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی طرح قحط نازل فرما ‘ اے اللہ ! لحیان ‘ رعل اور ذکوان پر اور عصیہ پر جس نے اللہ اور اس کے رسول کی معصیت کی ہے ‘ لعنت فرما ‘ پھر جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” لیس لک من الامر شیء او یتوب علیہم او یعذبھم فانھم ظالمون “۔ تو آپ نے اس دعاء ضرر کو ترک فرمایا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٢٣٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

بعض کافروں پر لعنت کرنا اور دعاء ضرر کرنا آپ کی رحمت کے خلاف نہیں : 

رہا یہ اعتراض کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو رحمۃ للعالمین ہیں تو بعض کفار کے لیے آپ کا دعاء ضرر کرنا اور لعنت کرنا کس طرح مناسب ہوگا ؟ اس کا جواب بہ طور نقض اجمالی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمان اور رحیم ہے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کا کفار کو عذاب دینا جب اس کے رحمان ورحیم ہونے کے منافی نہیں ہے تو آپ کا ان کے لیے دعاء ضرر کرنا آپ کے رحمۃ اللعلمین ہونے کے منافی کیونکر ہوگا ‘ اور بطور نقض تفصیلی اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رحمۃ للعالمین ہونے کا معنی یہ ہے کہ آپ کی ہدایت اور اسلام لانے کی دعوت تمام جہانوں کیلیے ہے۔ آپ کسی خاص علاقہ ‘ قوم یا خاص زمانہ کے لیے رسول نہیں ہیں بلکہ آپ کی بعثت قیامت تک تمام جنوں اور انسانوں کے لیے ہے اور آپ کے لائے ہوئے دین پر عمل کر تمام مخلوق دنیا میں عدل اور امن کے ساتھ رہے گی اور آخرت میں اس پر جنت کی تمام نعمتوں کا دروازہ کھل جائے گا ‘ اور جس طرح دعوت اسلام کو رد کرنے والے کافروں سے قتال کرنا ‘ مرتدین کو قتل کرنا ‘ زانیوں کو رجم کرنا اور ان کو کوڑے لگانا ‘ چوروں کے ہاتھ کاٹنا اور ڈاکوؤں کو قتل کرنا اور ان کو پھانسی دینا اور دیگر مجرموں کو سزائیں دینا آپ کی رحمت کے خلاف نہیں ہے۔ اسی طرح بعض کافروں کے لیے دعاء ضرر کرنا بھی آپ کی رحمت کے منافی نہیں ہے۔

جن کافروں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر اور چہرہ کو زخمی کیا آپ نے ان کے متعلق صرف اتنا فرمایا : وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کا چہرہ خون آلود کردیا اور جو کافر تبلیغ کا نام لے کر ستر صحابہ کو لے گئے اور ان کو قتل کردیا۔ ان کے خلاف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ماہ تک دعاء ضرر کرتے رہے ظاہر ہے کہ اگر یہ فعل ناجائز یا مناسب ہوتا تو اللہ تعالیٰ روز اول ہی آپ کو اس سے منع فرما دیتا ‘ آپ کا ہر فعل نیک اور حسن ہے اور ہر فعل میں امت کے لیے نمونہ اور ہدایت ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ “۔ (الاحزاب : ٢١ )

ترجمہ : بیشک اللہ کے رسول میں تمہارے لیے نہایت حسین نمونہ ہے :

سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان کافروں کے لیے دعا ضرر کرنا اور ان پر لعنت کرنا ‘ یہ بھی ایمان والوں کے لیے نہایت حسین عمل ہے اور اس میں مسلمانوں کے لیے یہ ہدایت ہے کہ جو کافر بدعہدی کریں ان کے لیے دعاء ضرر کرنا جائز ہے ‘ اور جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہو تو وہ صبح کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھیں اس میں مسلمانوں کے لیے سلامتی اور کافروں کے لیے ہلاکت کی دعا کریں ‘ بعض علماء اور مفسرین کو اس مقام پر لغزش ہوئی اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعاء ضرر کرنے کو بددعا لکھا ہے ‘ یاد رکھئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی فعل بد نہیں ہے ‘ آپ کا ہر فعل نیک اور حسین ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اللہ کے رسول میں تمہارے لیے نہایت حسین نمونہ ہے ‘ لہذا آپ کے کسی فعل کو بدکہنا اور آپ کی دعاء ضرر کو بددعا کہنا اس آیت کے خلاف اور حلاوت ایمان کے منافی ہے ‘ ان علماء نے زیادہ غور نہیں کیا اور اردو محاورے کی روانی میں آپ کی دعاء ضرر کو بددعا لکھ گئے ‘ ہم ذیل میں ان علماء کی عبارات نقل کر رہے ہیں :

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٢ ھ لکھتے ہیں

اور بخاری سے ایک قصہ اور بھی نقل کیا ہے کہ آپ نے بعض کفار کے لیے بددعا فرمائی تھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (بیان القرآن ج ١ ص ١٢٥‘ مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ ‘ لاہور)

شیخ محمود الحسن متوفی ١٣٤٩ ھ لکھتے ہیں :

چنانچہ جن لوگوں کے حق میں آپ بددعا کرتے تھے ‘ چند روز کے بعد سب کو خدا تعالیٰ نے آپ کے قدموں میں لا ڈالا۔ (حاشیۃ القرآن ص ٨٥)

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں :

بخاری سے ایک قصہ اور بھی نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے بعض کفار کے لیے بددعا بھی فرمائی تھی۔ (معارف القرآن ج ٢ ص ١٧٥‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی ‘ ١٣٩٧ ھ)

سید ابوالاعلی مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب زخمی ہوئے تو آپ کے منہ سے کفار کے حق میں بددعا نکل گئی۔ (تفہیم القرآن ج ١ ص ‘ ٢٨٧ مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن ‘ لاہور ‘ ١٩٨٣ ء)

مفتی احمد یار خاں نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ لکھتے ہیں :

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیر معونہ والے کفار کے لیے بددعا کی (نور العرفان ص ١٠٤‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ گجرات)

پیر محمد کرم شاہ الازھری لکھتے ہیں :

یعنی حضور نے ان لوگوں کے حق میں بددعا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (ضیاء القرآن ج ١ ص ٢٧٣‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشزلاہور)

امام احمد رضا قادری نے قنوت نازلہ کی بحث میں بہت محتاط ترجمہ کیا ہے وہ لکھتے ہیں :

اور نماز صبح میں قنوت نہ پڑھتے مگر جب کسی قوم کے لیے انکے فائدے کی دعا فرماتے یا کسی قوم پر ان کے نقصان کی دعا فرماتے۔ (فتاوی رضویہ ج ٣ ص ٥١٣‘ مطبوعہ سنی دارالاشاعت لائل پور)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعاء ضرر سے روکنے کی توجیہ اور بحث و نظر :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ اس میں سے کسی چیز کے مالک نہیں اللہ (چاہے تو) ان (کافروں) کی توبہ قبول فرمائے ‘ یا وہ ان کو عذاب دے کیونکہ بیشک وہ ظلم کرنے والے ہیں۔ (آل عمران : ١٢٨)

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ماہ تک ظالم کافروں کے متعلق ہلاکت اور نقصان کی دعا کرتے رہے اور مسلمانوں کے لیے حصول رحمت کی دعا فرماتے رہے تاکہ آپ کی زندگی میں یہ نمونہ ہو کر ظالم کافروں کے لیے تباہی اور بربادی کی دعا کرنا جائز ہے اور آپ کی سنت ہے ‘ اسی لیے فقہاء نے یہ کہا ہے کہ جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہو یا کفار مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں تو صبح کی نماز کی دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی جائے ‘ امام آہستہ آہستہ مسلمانوں کی کامیابی اور کفار کی تباہی کے لیے دعا کرے اور اسی طرح مقتدی بھی دعا کریں ‘ اور یہ بھی جائز ہے کہ امام بلند آواز سے یہ دعا کرے اور مقتدی پست آواز سے آمین کہیں ‘ اور جب مسلمانوں سے مصیبت ٹل جائے تو پھر اس دعا کو ترک کردیں اور عام معمول کے مطابق نمازیں پڑھیں ‘ جس طرح ضرورت پوری ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس دعا سے روک دیا تھا۔

اس آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ جنگ احد میں عین معرکہ کار زار کے وقت عبداللہ بن ابی ابن سلول اپنے تین سوساتھیوں کو لے کر لشکر سے نکل گیا ‘ اور بعض مسلمانوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکم عدولی کی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا کئی مسلمان گھبرا کر بھاگ پڑے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ انور زخمی زخمی ہوا اور دانت مبارک شہید ہوا ‘ ان حالات کی وجہ سے قدرتی طور پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رنج وغم ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ اگر کافروں اور منافقوں نے ظلم یا ہے تو آپ اس پر غم نہ کریں آپ کا کام صرف زبان اور عمل سے ہدایت دینا ہے۔ رہا ان کا کفر سے توبہ کرنا اور ان کے دلوں میں اسلام کا پیدا کرنا یا ان کو ان کے کفر پر قائم رکھ کر عذاب دینا اس کے آپ مالک و مختار نہیں ہیں ‘ اللہ چاہے تو انکی توبہ قبول فرمائے یا وہ ان کو عذاب دے کیونکہ بیشک وہ ظلم کرنے والے ہیں۔ اور اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے ‘ وہ جسے چاہے بخش دیتا ہے اور وہ جسے چاہے عذاب دیتا ہے اور اللہ نہایت بخشنے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔

ہمارے نزدیک اس آیت کی یہ تفسیر صحیح نہیں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظالموں اور کافروں کی ہلاکت کی دعا کررہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس دعا سے منع فرما دیا کہ یہ دعا آپ کی رحمت کے شایان شان نہیں ہے ‘ ان کافروں اور ظالموں میں سے بعض نے اسلام قبول کرلیا اور بعض کی اولاد نے اسلام قبول کرلیا ‘ کیونکہ اگر یہ دعا کرنا آپ کی شان کے لائق نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ روز اول ہی اس دعا سے آپ کو روک دیتا ‘ ایک ماہ تک کیوں آپ کو یہ دعا کرنے دی ‘ ہمارے نزدیک تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر فعل حسن ہے اور واجب الاتباع ہے ‘ آپ کا کوئی فعل غیر مستحسن اور ناپسندیدہ نہیں ہے۔ اب ہم بعض مفسرین کی تفسیر کو نقل کر رہے ہیں۔ ہرچند کے یہ مفسرین بہت مشہور اور اپنے حلقوں میں مقبول ہیں لیکن ان کی یہ تفسیر پسندیدہ اور مختار نہیں ہے۔

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں :

اس دعا سے روکنے کی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان میں سے بعض کافر توبہ کرکے اسلام لے آئیں گے اور بعض اگرچہ تائب نہیں ہوں گے لیکن ان کی اولاد نیک اور متقی ہوگی ‘ اور جو لوگ اس قسم کے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے لائق یہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں مہلت دے اور ان سے آفات کو دور کرے حتی کہ وہ توبہ کرلیں یا ان سے وہ اولاد پیدا ہوجائے ‘ اور اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی ہلاکت کی دعا کرتے رہتے تو اگر آپ کی دعا قبول ہوتی تو یہ مقصود حاصل نہ ہوتا اور اگر آپ کی دعا قبول نہ ہوتی تو اس سے آپ کی شان اور آپ کا مرتبہ کم ہوتا ‘ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس دعا سے منع فرما دیا ‘ نیز اس میں یہ بھی مقصود ہے کہ بندہ کے عجز کو ظاہر کیا جائے اور یہ کہ اسے اللہ تعالیٰ کے ملک اور اس کی ملکوت کے اسرار میں غور و خوض نہیں کرنا چاہیے میرے نزدیک یہ بہت اچھی تفسیر ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٨ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

شیخ محمود الحسن متوفی ١٣٤٩ ھ لکھتے ہیں :

(آیت) ” لیس لک من الامر شیء “ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متنبہ فرمایا کہ بندہ کو اختیار نہیں نہ اس کا علم محیط ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے سو کرے ‘ اگرچہ کافر تمہارے دشمن ہیں اور ظلم پر ہیں لیکن چاہے وہ ان کو ہدایت دے چاہے عذاب کرے تم اپنی طرف سے بددعا نہ کرو۔ (حاشیۃ القرآن ص ٨٥ مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور)

مفتی احمد یار خاں نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اے محبوب تمہیں ان کفار پر بددعا کرنے کا اختیار یا حق یا حق نہیں ‘ ورنہ گذشتہ انبیاء کرام کفار پر بددعا کر کے انہیں ہلاک نہ کراتے ‘ بلکہ مطلب یہ ہے کہ بددعا آپ کی شان کے لائق نہیں کیونکہ آپ رحمت للعالمین ہیں۔ (نورالعرفان ص ١٠٤‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ گجرات)

پیر محمد کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں :

یعنی حضور نے ان لوگوں کے حق میں بددعا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی تو یہ آیت نازل ہوئی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوگیا کہ ان میں سے کئی لوگ مسلمان ہوں گے چناچہ ایک کثیر تعداد اسلام لائی ‘ انہیں میں حضرت خالد بھی تھے۔ (ضیاء القرآن ج ١ ص ٢٧٤ ‘۔ ٢٧٣)

یہ تفسیر کس طرح صحیح ہوسکتی ہے جب کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آپ نے بعض کافروں پر لعنت کی اور ان کے لیے دعاء ضرر فرمائی ہے۔

بہرحال ہمارے نزدیک مختار تفسیر یہ ہے کہ آپ کا کافروں اور منافقوں کے لیے دعاء ضرر کرنا اس لیے تھا کہ ظالموں اور کافروں کے لیے دعاء ضرر کرنا مشروع اور سنت ہوجائے اور قنوت نازلہ کا جواز ثابت ہو اور جب یہ حکمت پوری ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس دعا سے روک دیا ‘ اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ آیت آپ کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی کہ اگرچہ کافروں اور منافقوں نے ظلم کیا ہے لیکن آپ اس پر غم نہ کریں کیونکہ ان میں ہدایت اور توبہ کی تحریک پیدا کرنا آپ کے اختیار میں نہیں ہے اللہ چاہے تو ان میں ہدایت پیدا کرکے انکی توبہ قبول فرمائے اور چاہے تو ان کو ان کے کفر پر برقرار رکھ کر ان کو عذاب دے۔

قنوت نازلہ کا معنی : 

قنوت کا معنی دعا ہے اور نازلہ سے مراد ہے ہونے والی آفت اور مصیبت اگر مسلمانوں پر خدانخواستہ کوئی مصیبت نازل ہو مثلا دشمن کا خوف ہو ‘ قحط ہو ‘ خشک سالی ہو ‘ وباء ہو ‘ طاعون ہو یا کوئی اور ضرر ظاہر ہو تو آخری رکعت میں رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد امام آہستہ دعا کرے اور مقتدی بھی آہستہ دعا کریں یا امام جہری نماز میں جہرا دعا کرے اور مقتدی آہستہ آہستہ آمین کہیں اور مسلمان اس وقت تک نماز میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں جب تک اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے اس مصیبت کو دور نہ کر دے۔

قنوت نازلہ میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

امام مالک کا مختار یہ ہے کہ رکوع سے پہلے قنوت نازلہ پڑھے اور یہی اسحاق کا قول ہے اور امام مالک سے ایک روایت یہ ہے کہ رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھے ‘ خلفاء اربعہ سے بھی اسی طرح مروی ہے ‘ صحابہ کی ایک جماعت سے یہ روایت ہے کہ اس میں پڑھنے والے کو اختیار ہے ‘ اور امام دار قطنی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیشہ صبح کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھتے رہے حتی کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٢٠١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

قنوت نازلہ میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ : 

علامہ ابوالحسن علی بن محمد بن حبیب ماوردی شافعی متوفی ٤٥٠ لکھتے ہیں :

مزنی بیان کرتے ہیں کہ امام شافعی نے فرمایا جب صبح کی نماز میں دوسری رکعت کے رکوع کے بعد کھڑا ہو تو ” سمع اللہ لمن حمدہ “ کے بعد کھڑا ہو کر یہ دعا پڑھے :

” اللہم اھدنی فیمن ھدیت وعافنی فیمن عافیت وتولنی فیمن تولیت وبارک لی فیما اعطیت وقنی شرما قضیت انک تقضی ولا یقضی علیک وانہ لا یذل من والیت تبارکت ربنا وتعالیت “۔

ترجمہ : اے اللہ ! جن لوگوں کو تو نے ہدایت دی ہے مجھے ان میں ہدایت پر برقرار رکھ اور جن کو تو نے عافیت دی ہے مجھے ان میں عافیت سے رکھ اور جن چیزوں کا تو والی ہوچکا ان میں میرا والی ہو اور جو چیزیں مجھے عطا فرمائی ہیں ان برکت دے اور میرے لیے جو شر مقدر کیا ہے اس سے مجھ کو محفوظ رکھ تو قسمت بناتا ہے اور تجھ پر مقسوم نہیں کیا جاتا اور جس کا تو کارساز ہو وہ رسوا نہیں ہوتا ‘ اے ہمارے رب تو برکت والا اور بلند ہے۔

ہماری دلیل یہ ہے کہ امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز کی دوسری رکعت میں رکوع سے سراٹھانے کے بعد یہ دعا کرتے : اے اللہ ولید بن ولید ‘ سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور مسلمانوں کو نجات دے ‘ اے اللہ ! مضر پر اپنی گرفت کو مضبوط کر ‘ اور ان پر یوسف (علیہ السلام) کے قحط کے سالوں کی طرح قحط کے سال مقرر کر دے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ دعا تو آپ نے صرف ایک ماہ کی تھی جب بیر معونہ کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ستر اصحاب کو شہید کردیا گیا تھا ‘ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچوں نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھی حتی کہ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لیس لک من الامر شیء “۔ (ال عمران : ١٢٨) تو پھر آپ نے یہ دعا کرنے کو ترک کردی ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے لوگوں کا نام لے کر دعا کرنا ترک کردیا تھا اور صبح کے علاوہ باقی چار نمازوں میں دعا کرنے کو ترک کردیا تھا ‘ اور حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں ہمیشہ قنوت پڑھتے رہے یہاں تک کہ اللہ سبحانہ نے آپ کو فوت کردیا ‘ رہا حضرت ابن عمر کا یہ کہنا کہ قنوت بدعت ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) خود اپنے والد کے ساتھ قنوت کرتے تھے لیکن وہ بھول گئے ‘ اور باقی نمازوں کو صبح کی نماز پر قیاس کرنا درست نہیں ہے کیونکہ صبح کی نماز کئی احکام میں باقی نمازوں سے مختلف ہے۔ اس کی اذان وقت سے پہلے دی جاتی ہے اور اس میں تثویب کی جاتی ہے ‘ (الحادی الکبیر ج ٢ ص ١٩٩۔ ١٩٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)

قنوت نازلہ میں فقہاء حنبیلہ کا نظریہ :

وتر کے سوا اور کسی نماز میں قنوت پڑھنا سنت نہیں ہے صبح کی نماز میں نہ اور کسی نماز میں ‘ ہماری دلیل یہ ہے کہ امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ماہ تک عرب کے بعض قبیلوں کے لیے دعاء ضرر کرتے رہے پھر آپ نے اس کو ترک کردیا ‘ اور امام ترمذی نے تصحیح سند کے ساتھ ابومالک سے روایت کیا ہے کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان ‘ اور حضرت علی کی اقتداء میں کوفہ میں پانچ سال نمازیں پڑھیں ہیں کیا یہ لوگ قنوت کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا اے بیٹے یہ بدعت ہے ‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے ‘ ابراہیم نخعی نے کہا سب سے پہلے جس نے صبح کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی وہ حضرت علی (رض) تھے ‘ کیونکہ وہ جنگ میں مشغول رہے اور اپنے دشمنوں کے خلاف صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے ‘ امام سعید نے اپنی سنن میں شعبی سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت علی (رض) نے صبح کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی تو لوگوں نے اس پر تعجب کیا ‘ حضرت علی نے فرمایا : ہم اپنے دشمنوں کے خلاف مدد طلب کر رہے ہیں ‘ اور امام سعید نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں اسی وقت قنوت پڑھتے تھے جب آپ کسی قوم کے لیے رحمت کی یا کسی قوم کے لیے ہلاکت کی دعا فرماتے تھے۔ اور حضرت انس (رض) سے جو میروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تاحیات صبح کی نماز میں قنوت کرتے رہے اس سے مراد طول قیام ہے، کیونکہ طول قیام کو بھی قنوت کہتے ہیں ‘ اور حضرت عمر (رض) سے جو قنوت مروی ہے اس سے مراد مصائب کے وقت قنوت پڑھنا ہے ‘ کیونکہ اکثر روایات میں ہے کہ حضرت عمر (رض) قنوت نہیں پڑھتے تھے۔ اور امام احمد بن حنبل نے یہ تصریح کی ہے کہ جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہو تو امام کے لیے صبح کی نماز میں قنوت پڑھنا جائز ہے۔ (المغنی ج ١ ص ‘ ٤٥٠۔ ٤٤٩ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

قنوت نازلہ میں فقہاء احناف کا نظریہ : 

شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں :

امام محمد نے فرمایا وتر کے سوا کسی نماز میں ہمارے نزدیک قنوت نہیں پڑھی جائے گی۔ (المبسوط ج ١ ص ١٦٥‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت)

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی ٥٩٣ لکھتے ہیں :

قنوت (نازلہ) اجتہادی مسئلہ ہے ‘ امام ابوحنیفہ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ یہ منسوخ ہوچکا ہے۔ (ھدایہ اولین ص ١٤٥‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان)

متاخرین احناف نے مصائب کے وقت قنوت نازلہ پڑھنے کو جائز کہا ہے ‘

علامہ کمال الدین ابن ھمام متوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں :

قنوت نازلہ پڑھنا دائمی شریعت ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو قنوت نازلہ کو ترک کردیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” لیس لک من الامر شیء “۔ (ال عمران : ١٢٨) نازل فرما کر آپ کو روک دیا تھا اور بعد میں مسلمانوں پر کوئی آفت نہیں آئی۔ بعد میں جن صحابہ کرام نے قنوت نازلہ نہیں پڑھی اس کی بھی یہی وجہ تھی اور بعض صحابہ نے حالت جنگ میں قنوت نازلہ پڑھی ہے اس وجہ سے حالت جنگ میں قنوت نازلہ پڑھنا جائز ہے۔ (فتح القدیر ج ١ ص ٣٧٩‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

علامہ حسن بن عمار شرنبلالی حنفی متوفی ١٠٦٩ ھ فرماتے ہیں :

مصیبت کے وقت قنوت (نازلہ) پڑھنا دائمی شریعت ہے اور یہی ہمارا اور جمہور کا مذہب ہے۔ (مراقی الفلاح ص ٤٨٧ مطبوعہ مطبع مصطفیٰ البابی واولادہ مصر ‘ ١٣٥٦ ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

البحرالرائق اور دیگر کتب فقہ میں ہے کہ جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہو تو امام جہری نمازوں میں قنوت پڑھے ‘ الاشباہ اور شرح المیتہ میں لکھا ہے کہ مصیبت کے وقت قنوت پڑھنا دائمی شریعت ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد صحابہ نے قنوت پڑھی ہے اور یہی ہمارا اور جمہور کا مذہب ہے ‘ امام ابو جعفر طحاوی نے کہا کہ مصیبت کے وقت صرف صبح کی نماز میں قنوتت پڑھے اور تمام نمازوں میں قنوت پڑھنا صرف امام شافعی کا قول ہے ‘ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر اور عشاء کی نمازوں میں قنوت پڑھی اور صحیح بخاری میں ہے کہ آپ نے مغرب کی نماز میں قنوت پڑھی ‘ یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ اس عمل پر اتنی مواظبت نہیں ہے جتنی فجر کی نماز میں قنوت پڑھنے پر تکرار اور مواظبت ہے اس عبارت میں یہ تصریح ہے کہ ہمارے نزدیک قنوت صرف فجر کی نماز کے ساتھ مخصوص ہے ‘ فقہاء نے یہ قید لگائی ہے کہ فجر کی نماز میں امام قنوت پڑھے اس کا تقاضا یہ ہے کہ مقتدی قنوت نہ پڑھے ‘ رہا یہ کہ قنوت رکوع سے پہلے پڑھے یا بعد۔ اس مسئلہ میں میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ مقتدی اپنے امام کی اتباع کرے (اگر وہ سرا قنوت پڑھے) ہاں اگر امام جہرا قنوت پڑھے تو مقتدی آمین کہے ‘ اور رکوع کے بعد قنوت پڑھے کیونکہ اسی طرح حدیث میں ہے ‘ میں نے علامہ شرنبلالی کی مراقی الفلاح میں دیکھا ہے کہ رکوع کے بعد قنوت پڑھے ‘ اور علامہ حموی نے یہ کہا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ رکوع سے پہلے پڑھے اور زیادہ ظاہر وہ ہے جو ہم نے کہا ہے (یعنی رکوع کے بعد قنوت پڑھے) (رد المختار ج ١ ص ‘ ٤٥١‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

قنوت نازلہ میں غیر مقلدین کا نظریہ : 

غیر مقلدین کے مشہور عالم حافظ عبداللہ روپڑی متوفی ١٣٨٤ ھ لکھتے ہیں :

پانچوں نمازوں میں ہمیشہ دعا قنوت پڑھنا بدعت ہے ‘ البتہ فجر کی نماز میں بدعت نہیں کہہ سکتے کیونکہ حدیث میں جب ضعف تھوڑا ہو تو فضائل اعمال میں معتبر ہے ہاں ضروری سمجھنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ حدیث میں ضعف ہے۔ (فتاوی اہل حدیث ج ١ ص ٦٣٣ مطبوعہ داراحیاء النسۃ النبویہ سرگودھا)

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں صبح کی نماز میں قنوت پڑھنے کا ذکر ہے جیسا کہ ہم باحوالہ بیان کرچکے ہیں ‘ اللہ جانے محدث روپڑی نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیثوں کو ضعیف کیسے کہہ دیا ‘ ان حدیثوں کے منسوخ یا غیر منسوخ ہونے کی بحث کی گئی ہے ان کو ضعیف کسی نے نہیں کہا۔

نیز حافظ عبداللہ روپڑی لکھتے ہیں :

مقتدیوں کا دعاء قنوت میں آمین کہنا ابو داؤد میں موجود ہے۔ مگر یہ عام دعاء قنوت کے متعلق ہے وتروں کی خصوصیت نہیں آئی۔ (فتاوی اھل حدیث ج ١ ص ٦٣٥)

اصحاب بیر معونہ کی شہادت کا بیان : 

امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ روایت کرتے ہیں :

ابو براء عامر بن مالک بن جعفر کلابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا۔ آپ نے اس کا ہدیہ قبول نہیں کیا اور اس پر اسلام پیش کیا اور وہ مسلمان نہیں ہوا اور اسلام سے بیزار بھی نہیں ہوا اور کہنے لگا یا محمد ! کاش آپ صحابہ کو اہل نجد کے پاس بھیج دیں مجھے امید ہے کہ وہ دعوت اسلام کو قبول کرلیں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ نجدی ‘ صحابہ کو ہلاک کردیں گے ‘ عامر نے کہا میں ضامن ہوں انہیں کوئی شخص تکلیف نہیں پہنچائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ساتھ ستر قاری بھیج دیئے، یہ لوگ رات بھر نفل پڑھتے تھے صبح کو لکڑیاں اور پانی تلاش کرکے لاتے اور سرکار کے حجرہ میں پہنچا دیتے۔ آپ نے ان ستر قاریوں پر منذر بن عمرو کو امیر بنایا اور ان سب کو روانہ کردیا۔ جب یہ لوگ بیرمعونہ پہنچے تو انہوں نے حرام بن ملحان کے ہاتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکتوب دے کر دشمن خدا عامر بن طفیل کے پاس بھیجا ‘ جب وہ اس کے پاس گئے تو اس نے خط دیکھے بغیر ان پر حملہ کرکے انہیں شہید کردیا ‘ پھر عصیہ ‘ ذکوان اور رعل کے قبائل مل کر ان ستر قاریوں پر حملہ آور ہوئے اور یہ تمام قراء ان سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے سوا کعب بن زید کے ان میں کچھ رمق حیات باقی تھی ‘ اس لیے نجدیوں نے انہیں چھوڑ دیا وہ بعد میں زندہ رہے اور غزوئہ خندق میں شہید ہوگئے۔ (الطبقات الکبری ج ٢ ص ٥١‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٣٨٨ ھ)

علامہ بدرالدین عینی نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٧ ص ١٩۔ ١٨‘ مطبوعہ بیروت)

یہ واقعہ غزوہ احد کے چار ماہ بعد صفر ٤ ہجری میں پیش آیا۔ (عمدۃ القاری ج ٧ ص ١٨)

علم رسالت پر اعتراض کا جواب : 

بعض اہل تنقیص کہتے ہیں کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم غیب حاصل ہوتا تو آپ عامر کے مطالبہ پر ستر صحابہ کو نجد نہ بھیجتے اور اگر باوجود علم کے آپ نے ان کو بھیجا تو آپ پر العیاذ باللہ الزام آئے گا تو کہ آپ نے جان بوجھ کر انہیں موت کی طرف دھکیل دیا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اہل نجد کی اسلام دشمنی کا علم تھا تبھی آپ نے فرمایا تھا ” انی اخشی علیہم اھل نجد “ (مجھے اندیشہ ہے کہ نجدی صحابہ کو ہلاک کردیں گے) اور باوجود اس کے کہ آپ کو ان کی شہادت کا علم تھا آپ نے اہل نجد کے مطالبہ تبلیغ پر انہیں نجد بھیج دیا تاکہ کل قیامت کے دن وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم نے تو قبول اسلام کے لیے تیرے نبی سے مبلغ مانگے تھے اس نے نہیں بھیجے ‘ نیز آپ نے یہ تعلیم دی کہ جان کے خوف سے تبلیغ سے نہیں رکنا چاہیے اگر جان کے خوف سے تبلیغ چھوڑنا جائز ہوتا تو جہاد اصلا مشروع نہیں ہوتا کیونکہ اس بات کا ہر شخص کو یقین ہوتا ہے کہ جہاد میں کچھ نہ کچھ مسلمان یقینا شہید ہوجائیں گے اور جان کے خوف سے جہاد نہ کرنا نہ مردانگی ہے نہ مسلمانی ! نیز جو موت شہادت کی صورت میں حاصل ہو وہ ایسی عظیم نعمت ہے کہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ‘ میری تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ کا علم تدریجی ہے اگر اس وقت علم نہیں تھا تو بعد میں اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 128