مدارس و جامعات پر توجہ دیں

✍محمداشفاق مدنی

اہلسنت کی دینی انویسٹمنٹ مدارس و جامعات کے لیے خطرناک حد تک کم ہوتی جا رہی ہے

محافل و اعراس کے بعد اب اہلسنت کا مال زیارات کے لیے صرف ہونا شروع ہو چکا ہے جو دن بدن بڑھتا جا رہا ہے

مدارس و جامعات کی حالت یہ ہے کہ وہاں طلباء کے لیے روٹی پوری کرنا مشکل ہو چکی ہے جید علماء کرام کی تنخواہیں 10 ہزار سے بھی کم ہیں( الاماشاءاللہ )

اب میری بات پر یہ اعتراض ہو گا کہ آپ دنیاوی اصراف کے بارے کہیں یہ کیا ہوا آپ نے محافل و اعراس اور زیارات کے بارے لکھ ڈالا

میرے محترم معترض ۔۔ بلاشبہ دنیا کاموں میں ہونے والی فضول خرچی سب پر عیاں ہے اور ہم دعا گو ہیں اللہ ایسوں کو ہدایت دےکہ وہ اپنا مال فضول کاموں پر خرچ کرنے کے بجائے دین اسلام کی ترویج کے لیے صرف کریں اور اللہ کی بارگاہ سے آخرت کا خزانہ حاصل پائیں

لیکن ایک طبقہ ہے جو دین کے نام پر مال خرچ کرنے کو تیار ہے اور اللہ کی عطا سے خرچ کر بھی رہے ہیں انہیں ترغیب دینے اور جس کام کی ضرورت زیادہ ہے اس جانب توجہ دلانے کی اشد ضرورت ہے

بلاشبہ محافل و اعراس ضروری ہیں لیکن یہ سب سادگی سے کر کے اپنا پیسہ بچا کر مدارس و جامعات کی ترقی میں صرف کیا جائے تاکہ علم و شعور پھیلے ۔۔۔۔۔شکریہ