حدیث نمبر :257

روایت ہے حضرت احوص ابن حکیم سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے برائی کی بابت پوچھا ۲؎ تو فرمایا کہ مجھ سے برائی کی بابت نہ پوچھو بھلائی کے متعلق پوچھو تین بار فرمایا۳؎ پھر فرمایا آگاہ رہو کہ بدترین شریر برے علماء ہیں اور اچھوں سے اچھے بہترین علماء ہیں ۴؎(دارمی)

شرح

۱؎ تابعی ہیں،حضرت انس،عبداﷲ ابن یسرسے ملاقات کی ہے،روایات میں ضعیف ہیں،ان کے والد حکیم ابن عمیرصحابی ہیں۔

۲؎ یعنی گناہ اور اس کے اسباب کیا ہیں اور اس سے بچنے کا ذریعہ کیا۔خیال رہے کہ نیکیاں کرنے کے لیئے جاننا چاہئیں اور گناہ بچنے کے لیئے،علماء فرماتے ہیں کہ کفریات سیکھنا فرض ہے تاکہ ان سے بچے۔

۳؎ یعنی صرف برائیاں ہی نہ پوچھا کرو بھلائیاں بھی پوچھا کرو۔

۴؎ کیونکہ عالم کے بگڑنے سے عالَم بگڑ جاتا ہے اور عالم کے سنبھلنے سے عالَم سنبھل جاتاہے۔عالم مسلمانوں کے جہاز کا کپتان ہے،تر یگا سب کو لے کر اور ڈوبے گا تو سب کو لے کر،آج جتنے فرقے مسلمانوں میں بنے سب علماءسوء کی مہربانی سے اور اس کےباوجود اسلام اصلی رنگ میں موجود ہے علمائےخیرکی برکت سے۔