حیات انسانی کا بہترین دستور

ابرار رضا مصباحی
پیغمبر اسلام حضرت محمدمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جتنے ارشادات ا ور خطبات ہیں سب فطری تقاضوں اوردینی و دنیاوی ضابطوں سے پُر ہیں اوربلا تفریق مذاہب پوری دنیائے انسانیت کی خیر و فلاح کے لیے روشن پیغام اور رہنما اصول ہیں۔ رسول اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی حیات مقدسہ کے آخری دور میں حج کے موقع پرایک تاریخی خطبہ دیا جو’ حجۃ الوداع‘ کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کا یہ انمول خطبہ انتہائی فصیح و بلیغ اور سادہ و سلیس زبان میں ہونے کے ساتھ، مقصد انسانی ، تعلیمات اسلامی اور احکام قرآنی کا بہترین خلاصہ اور عمدہ تفسیر ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد وثنا بیان کرنے کے بعدفرمایا:

اے لوگو! غور سے سنو! بخدا مجھے معلوم نہیں کہ آج کے بعد اس جگہ تم سے مل سکوں گا یا نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحمت کرے جس نے آج کے دن میری باتیں سنیں اور انھیں یاد کیا، کیوں کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جنھیں سمجھداری کی باتیں یاد توہوتی ہیں لیکن انہیں ان کی سمجھ حاصل نہیں ہوتی اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جوسمجھداری کی باتوں کو یاد کرکے ایسے لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں جو اُن سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں۔ ( الکفایہ فی علم الروایہ،ص:۱۹۰)

اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جب تک تم ان کا دامن تھامے رہوگے کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت۔ (سیرۃ النبویہ،جلد:۶،ص:۱۰)

 آگاہ رہو! ان چار باتوں سے بچنا۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ اللہ کی حرام کردہ کسی جان کو ناحق قتل نہ کرنا۔نہ زنا کرنا اور نہ چوری کرنا۔  (مسنداحمد،ص:۱۸۲۲۰)

اے لوگو! تمھارارب ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک۔ آگاہ رہو !کسی عربی کو کسی عجمی پر ، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کوکسی سفیدفام پرکوئی فضیلت نہیں،فضیلت کامعیار صرف تقویٰ ہے۔ تم میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ عزت کا مستحق وہ ہے جوشریعت کا زیادہ پابند ہے۔ (شعب الایمان،ص:۵۱۳۷)

 تمھارے خون اور مال اور آبرو تم پر اِس حرمت والے دن اِس حرمت والے مہینے کی مانند حرام ہیں اور اِس حرمت والے شہر کی مانند حرام ہیں،اُس دن تک جب تم اپنے رب کے سامنے پیش ہوگے، حتی کہ اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو ناجائز طور پر تکلیف پہنچانے کے لیے دھکا بھی دیتا ہے تو وہ بھی حرام ہے۔  (مسند البزار،ص: ۳۷۵۲)

دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے۔ پہلے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں پر خرچ کرو،پھر درجہ بدرجہ اپنے قریبی رشتہ داروں پر۔(معجم الشیوخ،ص:۳۱)

 کوئی بھی زیادتی کرنے والا اس کا خمیازہ خود ہی بھگتے گا۔ سنو! نہ باپ کی زیادتی کا بدلہ اس کے بیٹے سے لیا جائے اور نہ بیٹے کی زیادتی کا بدلہ اس کے باپ سے۔(ترمذی، ص:۳۰۱۲)

 حجۃ الواداع کے یہ نکات انتہائی بصیرت افروز ہیں جو نہ صرف امت مسلمہ کے لیے نظام زندگی کا بہترین دستور ہیں بلکہ دیگر قوموں کے لیے بھی عظیم نسخے ہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مذکورہ خطبے کابغور جائزہ لیں تواس کے ہر جملے میں انسانی ہمدردی، دینی ومذہبی خیر خواہی اورسیاسی و سماجی امور کی رہنمائی کے واضح اثرات نظر آئیں گے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عام انسانی زندگی سے لے کرخاص زندگی تک کی رہنمائی کا سچانمونہ پیش کیاہے ۔ قرآن وسنت پر عمل کی ترغیب دی ہے۔ اللہ سے نہ ٹوٹنے والا ایک سلسلہ قائم کردیا ہے۔ زنااورچوری جیسے جرائم سے بچنے کی تلقین فرماکر اخلاقی اورمعاشرتی برائیوں پر روک لگائی ہے۔انسانی خون،اس کے مال واسباب اوراس کی عزت وآبرو کوقابل احترام قراردے کرملک ومعاشرے میں پیدا ہونے والے فتنہ اورفسادسے انسان کو تحفظ عطا کیا ہے۔ساتھ ہی بڑی خوبی سے آپسی تعاون، محبت وہمدردی،اقربااورغرباپروری کاجذبہ دل میں بٹھایاہے۔ پھریہ کہہ کر کہ ہر شخص انفرادی طورپراپنے اپنے عمل کا ذمہ دارہے، اجتماعی طرزمعاشرت کا اعلی نمونہ پیش کیاہے۔
علاوہ ازیں ایک دوسرے پر بیجا ظلم او رستم ڈھانا۔ کسی کو ناحق نقصان پہنچاناجیسے عمل کو بڑی سختی سے روکا ہے اور سب کے ساتھ حسن سلوک وحسن معاملات کادرس دیاہے۔ مردوں کو عورتوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے کی وصیت فرمائی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امانت ہے، اس کی حفاظت کرنا انسانوں کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤاوران کے حقوق کا بہرحال خیال رکھو۔
اس لحاظ سے دیکھاجائے تو یہ خطبہ باہمی انسانی رشتے، اخوت ومحبت، مساوات اور اتحاد ویکجہتی کا انوکھاپیغام ہے۔ اس میں انسانی زندگی کی فلاح وبہبودکے ان تمام کارگر نسخوں کی نشاندہی کردی گئی ہے جنھیں اپناکر ایک مثالی زندگی پیش کی جاسکتی ہے۔
لیکن اب سوال پیداہوتا ہے کہ محض یہ کہہ دیناکافی ہے کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم  نے ’’اسوۂ حسنہ‘‘کامکمل نچوڑ  ’’حجۃ الوداع‘‘ کے خطبے میں پیش کردیاہے اورایسا بہترین نمونہ چھوڑا ہے کہ اپنے تو اپنے اگر اسے غیربھی اپنا لے تو زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔
زندگی کے تمام شعبوںمیں یہ توہرمسلمان کہتاہے کہ’’ حجۃ ا لوداع‘‘ کا خطبہ پوری انسانیت کی فلاح وصلاح کا ضامن ہے مگرکسی نے کبھی یہ بھی سوچاہے کہ مسلمان اپنی زندگی میں اس خطبے کو کتنی اہمیت دے رہا ہے؟اس کی زندگی اس خطبے سے کس قدرمیل کھارہی ہے؟اگرنہیں اور ہرگزنہیں ،تواب صرف زبانی جمع خرچ نہ کیا جائے کہ ’’حجۃ الوداع‘‘انسانی حیات کا نمونہ ہے بلکہ اس کواپناکراس کا عملی نمونہ پیش کیا جائے،ورنہ انسان سب کچھ تو ہوسکتا ہے ایک سچا اور پکا مسلمان نہیں:
یوں تو سیدبھی ہو،مرزا بھی ہو،افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو ،بتاؤکہ مسلمان بھی ہو