حکایت نمبر116: خشک زبانیں

حضرت سیدنا محمد بن حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”میں نے حضرت سیدنا ابو معاویہ اسود علیہ رحمۃاللہ الاحد کو مقام ”طرطوس”میں آدھی رات کے وقت دیکھا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زار وقطار رو رہے تھے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زبان مبارک پر یہ نصیحت آموز کلمات جاری تھے:

خبردار! جس شخص نے دنیا ہی کو اپنا مقصد ِعظیم بنا لیا اور ہر وقت اسی کی تگ ودومیں لگا رہاتو کل بروزِ قیامت اسے بہت زیادہ غم وپر یشانی کاسامنا کرنا پڑے گا اور جو شخص آخرت میں پیش آنے والے معاملات کو یا د رکھتا ہے اوربروزِ قیامت پیش آنے والی سختیوں اور اورگھبراہٹو ں کو ہر دم پیشِ نظر رکھتا ہے تواس کا دل دنیا سے اُچاٹ ہوجاتا ہے اور جو شخص اللہ عزوجل کے عذاب کی وعیدوں سے ڈرتا ہے وہ بھی دنیا وی خواہشات کو چھوڑ دیتا ہے۔

اے مسکین! اگر تُو چاہتا ہے کہ تجھے راحت وسکون اور عظیم نعمتیں ملیں تو رات کو کم سویاکراور شب بیداری کو اپنا معمول بنا لے، جب تجھے کوئی نصیحت کرے ،نیکی کی دعوت دے اور برائی سے منع کرے تو اس کی دعوت قبول کر۔ تو اپنے پیچھے والوں کے رزق کی فکر میں غمگین نہ ہو کیونکہ تو ان کے رزق کامکلف نہیں بنایا گیا۔ 

تو اپنے آپ کو اس عظیم دن کے لئے تیار رکھ جب تیرا سامنا خالق ِکائنات عزوجل سے ہوگاتو اس کی بارگاہ میں حاضر ہوگا پھر تجھ سے سوال وجواب ہوں گے۔ اس سخت دن کی تیاری میں ہر وقت مشغول رہ ، نیک اعمال کی کثرت کر اور اپنے آخرت کے خزانے کو اعمالِ صالحہ کی دولت سے جلد از جلد بھرنے کی کوشش کر، فضول مشاغل کو ترک کردے اور موت سے پہلے موت کی تیاری کرلے ورنہ بعد میں بہت پچھتا وا ہوگا ۔ جس وقت تیری روح نکل رہی ہوگی اور گلے تک پہنچ جائے گی تو تیری تمام محبوب اَشیاء جن کی تُو خواہش کیا کرتاتھا، سب کی سب دنیا ہی میں رہ جائیں گی اور ا س وقت تیری حسرت اِنتہا کو پہنچ چکی ہو گی لہٰذا اس وقت سے پہلے آخرت کی تیاری کرلے۔”

آخرت کی تیاری کا بہترین طریقہ :

(آخرت کی تیاری کابہترین طریقہ یہ ہے کہ ) تُوہر وقت یہ تصور رکھ کہ بس موت آپہنچی ہے ،رو ح میرے گلے میں اٹکی ہوئی ہے ،بس چندسانس باقی ہیں اور میں سکرات کے عالم میں غمگین و پریشان ہوں۔ میری تمام خواہشات ملیا میٹ ہوگئیں ، گھر والوں کے لئے جو تمنا ئیں تھیں وہ خاک میں مل گئیں۔ میرے اِرد گر د میرے اہل و عیال کھڑے ہیں اور میں انہیں بڑی حسرت سے دیکھ رہا ہوں ، ان میں سے کوئی بھی میرے ساتھ قبر میں جانے کو تیار نہیں۔ بس میرے اعمال میرے ساتھ ہوں گے ، اگر اعمال اچھے ہوئے تو آخرت میں آسانی ہوگی اوراگر (معاذ اللہ عزوجل ) اعمال برے ہوئے تو وہاں کی تکلیف بر داشت نہ ہو سکے گی ۔

؎ نہ بیلی ہو سکے بھائی نہ بیٹا باپ تے مائی تو کیوں پھرتا ہے سودائی عمل نے کام آنا ہے

پھر حضرت سیدنا ابو معاویہ اسود علیہ رحمۃاللہ الاحدنے فرمایا :”تمام اُمور میں سب سے زیادہ اَجر وثواب کا باعث صبر ہے، مصائب پر صبر کرنا بہت عظیم اَمر ہے ، لہٰذا صبر سے کام لے ۔ اپنی زبان کو ہر وقت اللہ عزوجل کے ذکر سے تر رکھ ۔کبھی بھی اس کے ذکر سے غافل نہ رہ ، ہرہر سانس پر اس کی پاکی بیان کر۔”

؎ غلام اک دم نہ کر غفلت حیاتی پر نہ غُرّہ خدا کی یاد کر ہر دم کہ جس نے کام آنا ہے

پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دوبارہ رونا شرو ع کردیا ۔

پھر فرمانے لگے: ”ہائے افسوس! وہ دن کیسا خوفناک ہوگا جس دن میرا رنگ متغیر ہوجائے گا ، اس دن کا خوف مجھے کھائے جاتا ہے ،جب زبانیں خشک ہوجائیں گی، اگربروزِ قیامت میرا زادِ آخرت کم پڑگیا تو میرا کیا بنے گا، اس وقت میں کہاں جاؤں گا ؟کون میر ی مدد کریگا؟”اِتنا کہنے کے بعد پھر درد بھرے انداز میں رونے لگے۔

؎ دِلا غافل نہ ہو، یکدم یہ دنیا چھوڑ جانا ہے بغیچے چھوڑ کر خالی زمیں اندر سمانا ہے جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا:” حضور! یہ نصیحت آموز اور عظیم باتیں کس کے لئے ہیں اور آپ نے کہا ں سے سیکھی ہیں ؟ ”تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”یہ ہر عقل مند کے لئے مفیدباتیں ہیں،جو بھی ان پر عمل کریگا فلاح وکامرانی سے مشرف ہوگا اور یہ تمام باتیں مَیں نے ایک بہت ہی دانا شخص حضرت سیدنا علی بن فضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سیکھی ہیں۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)