أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ‌ۚ

ترجمہ:

اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (آل عمران : ١٣١)

سود میں منہمک رہنے والا کفر کے خطرہ میں ہے : 

سود سے منع کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے ‘ اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ سود خوری کی وجہ سے مسلمان کافر تو نہیں ہوتا تو پھر اس کو اس آگ سے کیوں ڈرایا گیا ہے جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ سود خوری میں گرفتار ہونے کے بعد یہ خطرہ رہتا ہے کہ انسان اس کی تحریم کا انکار کرکے کافر ہوجائے گا ‘ ہمارے ملک میں وفاقی شرعی عدالت نے ١٤ نومبر ١٩٩١ ء کو سود کی قانونا ممانعت کردی لیکن ہماری حکومت نے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کردی اور اس حکم پر عمل درآمد کرنے سے روک دیا ‘ اس کے نتیجہ میں سودی کاروبار حکومت کی سرپرستی میں اسی طرح جاری وساری رہا۔ سو اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سود میں شدت اشتغال کی وجہ سے تم سود کی تحریم کا انکار نہ کردینا ورنہ تم کافر ہو کر اس آگ میں داخل ہوجاؤ گے جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

دوزخ کا کفار کے لیے تیار کیا جانا آیا فساق مومنین کے دخول سے مانع ہے یا نہیں : 

دوسرا سوال یہ ہے کہ اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ کی آگ صرف کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے اور کوئی مومن اس آگ میں داخل نہیں ہوگا ‘ حالانکہ دوسری آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قاتل ‘ ڈاکو ‘ چور ‘ زانی ‘ اور دیگر جرائم اور معاصی میں مبتلا لوگ بھی اس آگ میں داخل ہوں گے ‘ اس سوال کے متعدد جواب ہیں : اول یہ کہ ہوسکتا ہے کہ جہنم کے کئی طبقات ہوں ‘ ایک طبقہ وہ جو کافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے اور دوسرا طبقہ وہ ہو جو فاسقوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ثانی یہ کہ اس آیت میں حصر کا کوئی کلمہ نہیں ہے کہ دوزخ کی آگ صرف کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے ‘ ثالث یہ کہ قرآن مجید کی کسی ایک آیت کو سامنے رکھ کر کوئی نظریہ قائم کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ اس موضوع سے متعلق تمام آیات کو سامنے رکھ کر نظریہ قائم کرنا صحیح ہے ‘ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس آیت کا حکم منسوخ ہو اور ناسخ قرآن مجید میں دوسری جگہ مذکور ہو ‘ یا وہ آیت عام مخصوص عنہ البعض ہو اور اس کا مخصص دوسری جگہ مذکور ہو یا ایک جگہ یہ حکم مطلق ہو اور دوسری جگہ اس کی کوئی قید ‘ صفت یا شرط بیان کی گئی ہو ‘ سو اسی طرح یہاں پر بیان کیا گیا ہے کہ دوزخ کی آگ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے اور دوسری جگہ بعض دوسرے جرائم اور گناہوں پر بھی دوزخ کی وعید سنائی گئی ہے مثلا فرمایا :

(آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ، الذی جمع مالا وعددہ، یحسب ان مالہ اخلدہ، کلا لینبذن فی الحطمہ، وما ادراک ما الحطمۃ، نار اللہ الموقدۃ، (الھمزۃ : ٦۔ ١)

ترجمہ : ہر طعنہ دینے والے اور چغلخوری کرنے والے کے لیے ہلاکت ہے، جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا، وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ زندہ رکھے گا، ہرگز نہیں وہ چورا چورا کرنے والی میں ضرور پھینک دیا جائے گا، آپ کیا جانتے ہیں کہ چورا چورا کردینے والی کیا چیز ہے ؟ ، اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں پر چڑھ جائے گی۔

لہذا اس قسم کی آیات کو بھی ملحوظ رکھاجائے گا تاکہ یہ واضح ہو کہ دوزخ کی آگ کافروں کے لیے بھی تیار کی گئی ہے اور دیگر نافرمانوں اور فاسقوں کے لیے بھی ‘ رابع یہ کہ اگر دوزخ کی آگ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہو پھر بھی اس میں دیگر فاسق مسلمان اس میں داخل کیے جائیں گے وہ عارضی طور پر تطہیر کے لیے داخل کیے جائیں گے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 131