أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ‌ۚ

ترجمہ:

اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور منصب رسالت :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنا بعینہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے احکام ماخذ قرآن مجید ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کا ماخذ احادیث ہیں اور احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن مجید کی آیات کی تعلیم اور تبیین کی ہے اور قرآن مجید کے احکام پر عمل کرکے دکھایا ہے ‘ اور قرآن مجید میں جن احکام کا اجمالی ذکر تھا ان کی تفصیل کی ہے اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام پر عمل کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کے احکام پر ہی عمل کرنا ہے۔

قرآن مجید نے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے لیکن نماز کے اوقات کی تعین اور اس کی شرائط کو نہیں بیان فرمایا اور نہ نماز کی رکعات بیان کی ہیں اور نہ یہ بتایا ہے کہ ان رکعات میں کیا پڑھا جائے ‘ اذان اور اقامت کے کلمات کا بیان نہیں کیا ‘ کن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور کیا چیزیں نماز کے منافی ہیں ان کو قرآن مجید نے بیان نہیں کیا یہ تمام چیزیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی ہیں :

قرآن مجید نے زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے لیکن یہ نہیں بیان فرمایا کہ مال کی کن اقسام سے زکوۃ ادا کی جائے گی اور کن سے ادا نہیں کی جائے گی اور مال کی مختلف اقسام میں سے کن اقسام کا کیا کیا نصاب ہے ‘ کتنی مدت کے بعد زکوۃ کا ادا کرنا ضروری ہے ‘ اور کس کا مال ادائیگی زکوۃ سے مستثنی ہے ‘ روزہ کا حکم فرمایا ہے لیکن کن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کن سے نہیں ٹوٹتا ‘ کس چیز میں قضا ہے اور کس چیز کفارہ ہے یہ بیان نہیں فرمایا ‘ حج کے ارکان اور شرائط ‘ اور اس کے مفسدات کا بیان نہیں فرمایا حتی کہ قرآن مجید میں یہ بھی ذکر نہیں ہے کہ حج کس دن ادا کیا جائے گا ‘ قربانی کا ذکر فرمایا ہے لیکن قربانی کے جانوروں کی اقسام اور ان کی عمروں کو بیان نہیں فرمایا ‘ حج زندگی میں ایک بار فرض ہے یا ہر سال فرض ہے ‘ حج اور عمرہ میں ارکان اور شرائط کے لحاظ سے کیا فرق ہے ‘ چور کے ہاتھ کاٹنے کا کیا نصاب ہے ‘ اس کا ہاتھ کہاں سے کاٹا جائے گا کن حالات میں یہ حکم نافذ العمل ہے اور کن حالات میں یہ حکم نافذ العمل نہیں ہے ‘ حد قذف اور حد زنا میں جو کوڑے لگائے جائیں گے ان کی کیا کیفیت ہونی چاہیے ‘ شراب کی حرمت کا ذکر ہے لیکن کس چیز سے بنے ہوئے مشروب کو خمر کہا جاتا ہے اور خمر کی حد کیا ہے ‘ حمر کے علاوہ دیگر نشہ آور مشروبات کی سزا کیا ہے ‘ غیر مسلموں کے ساتھ جہاد کا ذکر ہے ‘ اور جزیہ لینے کا بھی ذکر ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ جزیہ کی جزیہ کی رقم کتنی ہوگی اور کتنی مدت میں واجب الادا ہوگی ‘ جب کفار کے خلاف جہاد کیا جائے تو کافروں میں سے کس کس کو قتل کرنے سے احتراز کیا جائے گا ‘ یہ اور ایسی بہت سی تفصیلات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہیں بیان فرمایا بلکہ ان کا بیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چھوڑ دیا اور فرمایا اللہ اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس منصب کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم “۔ (النحل : ٤٤)

ترجمہ : اور ہم نے آپ کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کو وضاحت کے ساتھ بتادیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض پاک چیزوں کو حلال کیا اور بعض ناپاک چیزوں کو حرام کیا ‘ قرآن مجید میں ان کا ذکر نہیں ‘ مثلا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شکار کرنے والے درندوں اور پرندوں کو حرام کیا ‘ دراز گوش اور حشرات الارض کو حرام کیا ہے ‘ جو مچھلی طبعی موت سے مر کر سطح آب پر آجائے اس کو حرام کیا ہے ‘ بغیر ذبح کے مچھلی اور ٹڈی کو حلال فرمایا ‘ کلیجی اور تلی کے خون کو حلال فرمایا ہے اور اس میں سے کسی کا بھی ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے ‘ البتہ قرآن مجید نے منصب رسالت کا بیان کرتے ہوئے فرمایا :

(آیت) ” ویحل لھم الطیبت ویحرم علیھم الخبآئث “۔ (الاعراف : ١٥٧)

ترجمہ : وہ ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو حرام کرتے ہیں :

اسی طرح قرآن مجید نے بعض چیزوں کا عمومی حکم بیان فرمایا لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے بعض چیزوں کے استثنی کا بیان فرمایا مثلا قرآن مجید میں حکم ہے کہ ہر نماز کو اس کے وقت میں پڑھا جائے :

(آیت) ” ان الصلوۃ کا نت علی المؤمنین کتابا موقوتا “۔ (النساء : ١٠٣)

ترجمہ : بیشک مومنوں پر نماز وقت مقرر پر کیا ہوا فریضہ ہے۔

اس آیت کا تقاضا ہے کہ نماز اپنے وقت میں پڑھی جائے ‘ لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفات میں عصر کو ظہر کے وقت میں پڑھا ‘ اور مزدلفہ میں مغرب کی نماز کو عشاء کے وقت میں پڑھا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ عرفات اور مزدلفہ میں یہ دو نمازیں اس عام حکم اور قاعدہ کلیہ سے مستثنی ہیں۔ اس کی اور بھی نظائر ہیں ‘ حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری کی ایک گواہی کو دو گواہوں کے قائم مقام قرار دینا ‘ حضرت علی (رض) کو حیات فاطمہ میں دوسرا نکاح کرنے سے منع فرمانا ‘ حضرت فاطمہ (رض) ازواج مطہرات اور حضرت عباس (رض) کو وارث نہ بنانا ‘ ان خصوصی احکام کے ذریعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان حضرات کو قرآن مجید کے عام حکم سے مستثنی فرما دیا اور زمانہ امن کے سفر میں نماز کو قصر کرکے پڑھنے کا حکم بھی اسی قبیل سے ہے حالانکہ قرآن مجید نے زمانہ جنگ کے سفر میں نماز کو قصر کرنے کا حکم دیا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید کے کسی حکم کی تفصیل اور اس کی ادائیگی کی شکل و صورت بیان فرمائیں یا کسی چیز کے شرعا حلال یا حرام ہونے کو بیان فرمائیں یا قرآن مجید کے کسی عام حکم سے کسی فرد یا کسی چیز کا استثنی بیان فرمائیں ان تمام امور میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت لازم ہے اور یہی آپ کا منصب رسالت ہے ‘ آپ صرف احکام پہنچانے والے نہیں ہیں بلکہ احکام دینے والے بھی ہیں اور احکام پہنچانے والے بھی ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 132