یوم آخرت

سید قمرالاسلام

کسی بھی کام کی قدروقیمت اس کے انجام سے ہوتی ہے،جب کسی چیز کا انجام ہم پر روشن ہوتاہے تو ہماری نگاہ میں وہ شئے قابل قدراور اہم ہوجاتی ہے، اس کے بر عکس انجام نہ جاننے کی صو رت میں ہم اس میں د لچسپی نہیں لیتے یا اسے بے کار اور بے مقصدسمجھنے لگتے ہیں۔ انجام سے نا آشنا شخص اس بھولے بھالے مسافر کی طرح ہے جو سفر تو کرتا ہے لیکن اس کی منزل کہاں ہے ،اسے کچھ پتہ نہیں ،ایسا شخص اگر اپنی پوری زندگی بھی محوسفر رہے ،تو بھی اس کا سفر ختم نہیں ہوگا۔

 اس دنیا میں انسان بھی ایک مسافر ہی ہے اور زندگی اس کا سفر ۔اصولی طور پر ہرانسان کو یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ یہ سفر کیوں کر رہا ہے اور اس سفر کی منزل کیا ہے؟ جب تک زندگی کے آغازو انجام کا صحیح علم نہیں ہوگا،اس وقت تک ہم با اصول انسان نہیں بن سکتے اور نہ ہی زندگی کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں،قرآن شریف میں انسان کی موت وحیات کا مقصد یوں بیان کیا گیا ہے:

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً ۔  (سورۂ ملک،آیت:۲)

ترجمہ: اللہ نے موت اور زندگی پیدا کی تاکہ تمھارا  امتحان لے کہ تم میں سے کس نے بہتر عمل کیا ہے۔

اسلام کی یہ واضح تعلیم ہے کہ انسان کی زندگی عمل وکردارکی جگہ ہے،اس کے بعد وہ دوسری زندگی میں داخل ہوگا،جہاں وہ اپنے اعمال کی جزاوسزا پائے گا،گویاموجودہ دنیا عمل کی جگہ ہے اور آخرت اس عمل کے انجام کا مقام۔اس دنیا میں انسان جیسا عمل کرے گا اسی کے مطابق آخرت میں اسے بدلہ ملے گا،کیونکہ یہ عام ضابطہ ہے کہ جب بھی کوئی کام کیا جاتا ہے ،اس کا اثر اور نتیجہ کچھ نہ کچھ ضرور نکلتا ہے،مثلاََ:جب بھی آگ میں ہاتھ ڈالا جائے گا تو ہاتھ جلے گا،اس لیے کہ آگ کی تاثیر جلانا ہے،ایسا نہیں ہوسکتاہے کہ کوئی شخص آگ میں ہاتھ ڈالے اور اسے جلن محسوس نہ ہو،اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ انسان کے عمل کا نتیجہ آخرت میں ظاہر نہ ہو۔ اللہ جل مجدہ کا ارشاد ہے :

ثُمَّ یُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔(سورہ ٔمجادلۃ،آیت:۷)

ترجمہ: پھرجو کچھ انھوں نے کیااللہ انھیںقیامت کے دن بتا دے گا۔

 اور یہ بھی واضح ہے کہ انسان نے اس دنیا میں اگر اچھا عمل کیا ہے، تو اسے اچھا بدلہ ملے گا اور اگر اس نے براعمل کیاہے تو اس کا انجام بھی برا ہوگا،خدا کا فرمان ہے :

فَمَن یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْْراً یَّرَہُ ، وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرّاً یَّرَہ۔  (سورۂ زلزال،آیت:۷)

 ترجمہ:جو ذرہ برابر بھی نیک عمل کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا اورجو ذرہ برابر بھی برا عمل کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔

 مثال کے طور پر ایک کسان جو اپنے کھیت میں گیہوں کی کھیتی کر تاہے، اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ اس سے گیہوں پیدا ہوگا،اب کوئی جا کر اسے سمجھانے لگے کہ اس بیج سے گیہوں کے بجائے چاول کی فصل ہوگی،کسان اس کی بات نہیں مانے گا ،اس لیے کہ وہ کسان بھی نظام قدرت پر کامل یقین رکھتا ہے ،وہ یہ بات یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ جس چیز کی کاشت کی جائے ،پیدائش اسی کی ہوتی ہے۔کوئی کتنی ہی کوشش کر ڈالے، اس کے یقین کو بدل نہیں سکتا۔اسی طرح یہ دنیا بھی آخرت کی کھیتی ہے،جیسی بیج ہم بوئیں گے، آخرت میں ہمارے لیے ویسی ہی فصل تیار ہوگی۔

یہ سوچنا غلط ہے کہ کوئی زندگی بھر گناہوں میں آلودہ رہے اور آخرت میں اس کوجنت مل جائے،جبکہ جنت تو اللہ کی رضا سے حاصل ہوتی ہے،جسے اللہ نے اپنے فرماں بردار بندوں کے لیے بنایا ہے ۔

 قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے:

أًمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ أّن نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاء  مَّحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ سَاء  مَا یَحْکُمُونَ۔(سورۂ جاثیہ،آیت:۲۱)

 ترجمہ: کیا جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ،یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انھیں مومنین اور صالحین کی طرح کردیں گے جن کی زندگی اورموت برابر ہے ،کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں۔

جب انسان اس دنیا سے کوچ کرے گا توآخرت میں گذشتہ زندگی اور اس کی تمام کار گزاریاں اس کے سامنے ہوںگی،وہ خدا کے سامنے پیش ہوگا۔اس زندگی میں جو لوگ نیکی اور دین داری کا ثبوت دیں گے،ان کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھلے ہوں گے اور جو لوگ موجودہ دنیا میں خدا کو بھول جائیں گے،خدا کی مرضی چھوڑ کراپنی خواہش پر چلیں گے،ایسے لوگ موت کے بعد سنگین نتائج سے دوچار ہوں گے، وہ آخرت کی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے اور اپنی بد کرداری کی سزا  پائیں گے،یعنی اس دن ہر ایک کو یہ احساس ہوجائے گاکہ اپنی دنیا کی زندگی میں اس نے کیا کھویا اور کیا پایا۔

 یہی خاص سبب ہے کہ اسلام میں یوم آخرت کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے ،جا بجا مختلف انداز سے قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا گیا ہے اور الگ الگ ناموں کے ذریعے آخرت کی ہیبت کو ذہن میں بیٹھایا گیا ہے:

یوم التلاق : اس دن کو قرآن میں ملاقات کا دن کہا گیا ہے ،چنانچہ ارشادباری تعالیٰ ہے:

رَفِیْعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ یُلْقِیْ الرُّوحَ مِنْ أَمْرِہِ عَلٰی مَن یَّشَائُ مِنْ عِبَادِہٖ لِیُنذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِ۔ (سورۂ مومن،آیت:۱۵)

ترجمہ:  بلند درجے دینے والا ،عرش کا مالک اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے وحی بھیجتا ہے تاکہ وہ ملنے کے دن (قیامت)سے ڈرائیں۔

 آخرت میں انسان اپنے رب سے ملاقات کرے گا،اس کو اپنے سرکی آنکھوںسے دیکھے گانیکو کاروں کے لیے یہ وقت فرحت وسرور کا لمحہ ہوگا اور گنہ گاروں کے واسطے پشیمانی و شرمندگی کا ۔دونوں کی حالت قرآن میں یوں بیان کی گئی ہے:

وُجُوہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ، ضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ، وَوُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ عَلَیْْہَا غَبَرَۃٌ، تَرْہَقُہَا قَتَرَۃٌ۔(سورۂ عبس،  آیت:۳۸ تا۴۱ )

ترجمہ: کتنے چہرے اس دن ہنستے، خوشیاں مناتے روشن ہوں گے ،اورکتنے چہروں پر اس دن گرد پڑی ہوگی ،اور کتنے سیاہ ہوں گے۔

 یوم التغابن : یعنی ہار جیت کا دن، اس دن کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے:

ذَلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ۔  (سورۂ تغابن،آیت:۹)

ترجمہ : وہ ہار جیت کا دن ہوگا۔

جس شخص نے دنیامیں اپنی زندگی کو خدا کی مرضی کے مطابق بسر کی ہوگی،آخرت کے دن وہ زندگی کی بازی جیت جائے گا اور جس نے دنیامیں خدا کی رضاکے مقابلے میں سرکشی کی ہوگی اورشرعی حدود کو پامال کیا ہوگا ،وہاں وہ ہار جائے گا۔یہ بھی عین ممکن ہے کہ دنیا میں جوشخص خود کو فاتح سمجھتا رہا ہو ،قیامت کے دن وہ شکست کھا جائے۔ اس لیے کہ آخرت میں جیت صرف اسی کے لیے ہے ،جس نے زندگی کی صبح وشام یاد خدا میں بسر کیے ہوں اورجو نام ونمود اور دنیا طلبی میں لگا رہا وہ قیامت میں نا مرادہوگا۔

ارشادباری ہے:  قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْأَخْسَرِیْنَ أَعْمَالاً، الَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُونَ أَنَّہُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعاً(سورۂ کہف،آیت:۱۰۳)

ترجمہ:آ پ فرمادیں،کیا ہم تمھیں بتا دیں کہ سب سے خسارے کا عمل کس کا ہے ،یہ وہ لوگ ہیں جن کی سا ری کوشش دنیا وی زندگی میں ختم ہو گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کا م کر رہے ہیں۔

یوم الحسرۃ :یعنی پچھتاوے کا دن ،اس تعلق سے فرمایا گیاہے:

   وَأَنذِرْہُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ إِذْ قُضِیَ الْأَمْرُ ۔(سورۂ مریم،آیت:۳۹)

 ترجمہ : اور انہیں پچھتاوے کے د ن سے ڈرائو ،جب ہر چیز کا فیصلہ کردیا جائے گا۔

 قیامت میں انسا ن اپنی گذشتہ زندگی پر افسوس کرے گا،وہ حسرت میں مبتلا رہے گااور ایسا ہر شخص کے ساتھ ہوگا۔بدکار تو افسوس کرے گا ہی کہ اس نے خود کو اپنے ہاتھو ں تباہ کر ڈالا ،نیک بندے بھی یہ سوچ کر افسوس کریں گے کہ کاش وہ اور نیکیاں کماکرآتے۔یوم آخرت جیسی حسرت وافسوس کہیں اور نہ پیش آئے گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ہر ایک کا انجام آنکھوں کے سامنے ہوگا۔

یوم البطشۃ الکبریٰ:یعنی سخت پکڑ کا دن،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرَی إِنَّا مُنتَقِمُونَ۔(سورۂ دخان،آیت:۱۶)

 ترجمہ: اس دن ہم بہت سخت پکڑ کریں گے،بے شک ہم سزاو جزا دینے والے ہیں۔

یہ دنیا بڑی عجیب ہے،یہاں پرظلم کرنے والا سرخرو رہتا ہے اور جھوٹی باتیں کرنے والا لوگوں کی نگاہ میں ہمیشہ سچا بنا رہتا ہے۔بڑے سے بڑا مجرم انصا ف کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں تھام کر نیک نامی کما لیتا ہے،لیکن آخرت میں ایسا نہ ہوسکے گا،کیونکہ وہ سخت پکڑ کا دن ہے اوراس دن اللہ کی گرفت سے کوئی مجرم بچ نہ سکے گا، وہاں مظلوموں کو انصاف ملے گا اور ظالموں کو ان کے جرم کی سزا ملے گی،سیاہ کارنامہ انجام دینے والوں کے چہرے سے پردہ اٹھا دیا جائے گا،کیونکہ آخرت میں فیصلے کا اختیار مخلوق کو نہیں بلکہ احکم الحاکمین کو ہوگا۔

قرآن میں بار بار قیامت کا تذکرہ کیا گیاہے اور آخرت پر ایمان لانے کا مطالبہ دہرا یا گیا ہے،تاکہ انسان اس دنیا میں آزاد رہتے ہوئے بھی خود کو بے قید نہ سمجھے اوروہ ہمہ وقت اپنی زندگی کا انجام ذہن میں رکھے ،ہر لمحہ اس بات کا یقین ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے، حساب وکتاب اور خدا کے سامنے جواب دہی کا منظر کبھی فراموش نہ کرے۔

 جب یہ یقین کسی کے دل ودماغ میں اترتا ہے تو اس کی پوری شخصیت میں اک انقلاب پیدا ہو جاتاہے اوروہ ہر اعتبار سے ایک منفرد انسان بن جاتا ہے،اس کے اخلاق وآداب ہی نہیں، بلکہ زندگی کے تمام کام آخرت کے ر نگ میں رنگ جاتے ہیں۔ وہ ہر معاملے میں دنیا سے زیادہ آخرت کے مفید پہلو کو نظر میں رکھتا ہے اور دنیاوی فائدے کے بجائے آخرت کے فائدے کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیتا ہے۔

اے میرے رب! میں گنہ گار و خطا کار ہوں،مجھے گناہوں سے بچنے کی طاقت دے اورآخرت کی دشواریاں آسانیوں میں تبدیل فرمادے،میں عذاب جہنم سے تیری پناہ چاہتاہوں۔

( آمین بحرمۃ سیدالمرسلین)