تصورمساوات کے مہلک اثرات

شوکت علی سعیدی

 اللہ عزّوجل کی بے شمار مخلوقات میں مرد و عورت ایسی مخلوق ہیں جنھیں اشرف المخلوقات کا تاج عطا کیا گیاہے ۔ کوئی جاندار یا غیرجاندار ایسا نہیں ہے جس میں مکمل موافقت پائی جائے۔ ہر ایک کی طبیعت مختلف ہے۔ ہر ایک کی ذمے داریاں الگ ہیں ۔یہ سارے اختلافات خالق کائنات کی طرف سے ہیں نہ کہ انسانوں نے پیدا کر لیے ہیں۔ چنانچہ قدرت نے جس کا جومقام و مرتبہ عطا کیا اسے اسی کے مطابق رکھا جائے تب ہی جاکرنظام کائنات سے سکون حاصل کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔اگرایسانہ ہوتو پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ایک مرد جو توانا اور طاقتور نہ ہو اس کے کندھے پر دس من کا بوجھ نہیں رکھا جا سکتا ،ہا ں! جو اس قابل ہو کہ دس من کا بوجھ اٹھاسکے تو اسے یہ ذمے داری دی جاسکتی ہے۔اس اصول کو نگا ہ میں رکھ کر ہی انسانی زندگی کو بہتر بنایا جاسکتاہے۔ اگرہر چیز اپنے مزاج و فطرت کے اعتبار سے قائم رہے تو مسائل پیدا نہیں ہوتے اور جہاں کہیں اس کے اصل مزاج اورفطرت سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے تو فوراً مختلف مسائل پیدا ہو نے لگتے ہیں۔

 جس طرح مرد ایک خاص مزاج کا حامل ہوتا ہے اسی طرح عورت بھی نسل انسانی سے تعلق رکھنے کے باوجوداپنی طبیعت و خصلت کے سبب مردسے مختلف ہوتی ہے ۔مگر اس واضح اختلاف کے بعد بھی چند دانش مند حضرات یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ مرد وعورت کی ذمے داریاں الگ الگ ہیں، بلکہ ان کا کہنا ہے کہ عورت ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے۔ ان کا یہ الزام بھی ہے کہ صدیوں سے عورتوں کو تعلیم وثقافت سے دور رکھا گیا جس کی وجہ سے وہ ظلم کی چکی میں پس رہی ہیں اور قیدی کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جیسے ہی انھیں آزادی ملتی ہے، وہ بڑے بڑے مقابلوں میں کامیاب ہوتی نظر آتی ہیں، مثلاًسیاست،کھیل، صحافت، تعلیم اور تجارت میں جو عورتیں کامیاب ہو رہی ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ انھیں آزادی کی زندگی نصیب ہوئی ۔

لیکن دوسری جانب ایک جماعت اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ عورتیں ہر وہ کام کر سکتی ہیں جو مرد کر سکتے ہیں اور نہ ہی انھیں ہر وہ کام کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے جو مرد کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر عورتیں مردوں کی طرح میدان عمل میں آجائیں تو عام سماجی زندگی بہتر نہیں ہوپائے گی، جیسے سماج میں بڑھتے ہوئے جرائم، بدکاریاں، کمپنیوں اور آفسوں میں عورتوں کا استحصال،خانگی زندگی کا درہم برہم ہونا ،بچوں کی غیر ذمہ دارانہ تربیت، ماں باپ کی نافرمانیاں اور دیگر غیر اخلاقی بیماریاں، یہ سب عورتوں کو اُن کا اپنا مقام نہ دینے اور انھیں ان کی اپنی ذمے داریوں سے دور رکھنے کے سبب پیدا ہوتے ہیں ۔

جو لوگ عورتوں کو مردوں کے برابر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ مردوں اور عورتوں کی ذیلی صفات کو سامنے رکھتے ہیں مثلا :

مرد: عاقل، سمجھدار، تجربہ کار،جسمانی طور پر مضبوط، مدافعت کی قوت رکھنے والے اور معاف کرنے والی صفات سے متصف ہوتے ہیں۔

عورتیں: نرم و نازک ، جسمانی طور پر کمزوراورصبر و تحمل کی پیکرہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ساری صفتیں جو مردوں کے اندر پائی جاتی ہیں کیاان میں سے بعض عورتوں کے اندر نہیں پائی جاتیں اور جو صفات عورتوں کے اندر پائی جاتی ہیں ان میں سے بعض مردوں کے اندر پائی نہیں جاتیں؟تو پھر انھیں برابری کا درجہ دینے میں حرج ہی کیا ہے؟ ہاں! جسمانی اختلاف کی وجہ سے چند جگہوں پر رعایت دی جاسکتی ہے ۔پس نتیجہ یہ نکلا کہ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کا کام کر سکتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے برابر حق رکھتے ہیں۔پھر یہ کہ مرد وعورت کے عمل میں جواختلاف ہے وہ خدائی اختلاف نہیں ہے بلکہ انسانوں کا پیدا کیا ہوا ہے۔یہ ایک سماجی ڈھانچہ( Social Structure) ہے۔ بچوںاور بچیوں کی الگ الگ ڈھنگ سے تربیت ہوتی ہے ، اسی کا اثر ہے کہ مرد یہ سمجھتا ہے کہ عورت کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے اور عورت بھی یہ سمجھتی ہے کہ میں عورت ہوں مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے ۔

اس لیے عورتوں کو مردوں کی طرح کام کرنے سے منع کرنا ظلم ہے۔ اس صورت میں عورت گھر کی چہار دیواری میں بند ہوکررہ جاتی ہے۔ تومیں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مرد ایک مشین پر ڈیوٹی دے کر، ایک کمپنی کے اندر یاایک دوکان پررہ کر اپنی زندگی کونہیں گزاردیتا؟کیا اس پر یہ ظلم نہیں؟جب مردوں کو ایسا کرنا ظلم نہیں تو عورتوں کو امور خانہ داری پر لگانا کیوں کرظلم ہوسکتاہے؟ اور اگر واقعی عورتیں امور خانہ داری سے باہر آکر اپنی زندگی کو پہلے سے بہتر بناسکتیں اور سماج کو پیچیدہ اور پریشان کن مسائل سے روک سکتیں تویہ درست ہوتا،لیکن یہاں تو معاملہ بالکل برعکس ہے ۔آج عورتوں کو گھر سے باہر نکال کر خود عورتوں کے لیے ہزارہا مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔

 اوریہ سارے مسائل صرف اور صرف اسی وجہ سے ہیں کہ انسان خالق کائنات کے پیدا کیے ہوئے وسائل کو صحیح طور پر نہیں برت پارہا ہے۔وہ نہ صرف خدا کے قانون کی خلاف ورزی کررہاہے بلکہ خود بے لگام ہو گیا ہے ۔اپنی مرضی کے مطابق نیاقانون بنانا شروع کر دیا ہے اور خدا کی خدائی میں نقص نکال کر اپنے کمال وہنر کامظاہرہ کرنے لگاہے جبکہ حقیقت میں وہ اپنی اور پوری انسانیت کی تباہی کاسامان فراہم کر رہاہے۔ حالانکہ کلام الٰہی نے واضح طور پریہ اعلان کر دیا ہے:

 ’’اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ۔‘‘(سورہ قمر، آیت:۴۹)

یعنی ہم نے ہر چیز کو ایک خاص انداز پر پیدا کیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ عورتیں جوآغاز آفرینش سے مردوں سے الگ صفات کی حامل ہیں اور ان کی ذمے داریاں بھی مردوں کی بہ نسبت مختلف ہوتی ہیں۔پھراس تصور کو مٹانے کی کوشش کرنے والی جماعت کا آخر مقصد کیا ہے؟ کیاحقیقت میں وہ عورتوں کے مسائل حل کرانا چاہتی ہے؟ کیا وہ سچ مچ عورتوں کو ظلم و جبر سے نکالنا چاہتی ہے؟ ظاہر ہے یہ ان کا مقصد نہیں ہو سکتا ،ورنہ مغربی ممالک میں عورتیںاس قدر استحصال کا شکار نہ ہوتیں ۔

ہاں! ان کا مقصد یہ ضرور ہے کہ ملک کی معاشی حالت بہتر ہو۔مرد بھی کمائے اور عورت بھی،جس سے شرح معاشیات میں اضافہ ہو اور یہ مقصد دیکھنے میں بھی آرہا ہے۔ مغربی ممالک کی معاشی ترقی کا ایک اہم محرک یہ بھی ہے کہ مرد آٹھ گھنٹے کام کرتاہے تو عورت بھی آٹھ گھنٹے کام کرتی ہے۔وہ کام جس سے دنیا کی دولت ایک جگہ سمیٹی جا سکے۔ مشرقی عورتوں کی بات کریں تو وہ بھی گھریلو کام کرتی ہیں اور بعض تو بارہ بارہ گھنٹے گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہیں جومردوں کے کام سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن ان کاموں سے اس معاشیات کی ترقی نہیں ہوتی جو ترقی یافتہ مغربی ممالک چاہتے ہیں۔

 آج کل معاشیات کی ترقی کا نشہ جو ہر ترقی پذیر ممالک پر چڑھا ہوا ہے اوراس کے حصول کے لیے وہ ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔خواہ اس سے لاکھوں مسائل کیوں نہ اٹھ کھڑے ہوں۔ انسانیت حیوانیت میں کیوں نہ تبدیل ہو جائے اور انسانیت کی تعریف ہی کیوںنہ بدل جائے،لیکن معاشی ترقی ہونی چاہیے۔ اس کا حل ضرورنکالا جائے گااور نت نئے طریقے ایجاد کیے جائیں گے۔

یہ رجحان ترقی پذیرممالک میں اس قدر پنپنا شروع ہو گیا ہے کہ بڑے شہروں میں لڑکیاں دن تو دن اب راتوں میں بھی کام پر جانے لگی ہیں۔اس میںنہ ہندو معاشرے کی تخصیص ہے اور نہ مسلم معاشرے کی،جس کی وجہ سے آئے دن جرائم کی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ سنجیدہ اور حساس انسان حیران ہے اور کافی فکر مندبھی کہ اس شیطانی وبا کو کیوں کر روکا جائے اورانسانی اصولوں کو مٹاکر خدائی اصولوں کو جو مخلوقات کی طبیعت اور فطرت کے عین موافق ہیں کیسے عمل میں لایا جائے۔

ایک جانب وہ جماعت ہے جو خدائی اصولوں کی نافرمانی کرکے خود ساختہ اصولوں پر عمل پیرا ہے اور باضابطہ ایک غالب مورچے کی شکل اختیار کر لی ہے اوردوسری طرف وہ جماعت ہے جو انسان کو اس کی فطرت اور مزاج کے مطابق رکھنے پر ُمصر ہونے کے باوجود؛دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے۔ اس کے باوجودغیر تو غیر اپنے بھی اسے مذہبی، دقیانوسی اور فرسودہ خیال کہہ کر کنارے پہ ڈال رہے ہیںاور سارے اخلاقی اقدار کو توڑتے ہوئے مغربی اذہان و افکار کے ہم نوا بنتے جا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف خود ان کی تباہی ہورہی ہے بلکہ جو اُن کے ارد گرد ہیں وہ بھی اس چکی میں پستے چلے جا رہے ہیں۔

اب تو عالم ،پنڈت، فادر اور دیگر مذہبی رہنما ؤںکا اثربھی عوام قبول نہیں کر پارہی ہے۔والدین اپنی اولاد کو قابو میں نہیں رکھ پارہے ہیں اور پورا سماج اپنی شناخت کھوتا جا رہا ہے۔ حتی کہ ملک کی تہذیبی اورثقافتی علامات بھی مٹتی جارہی ہیں۔ خارجی اثرات جنھیں ہم مغربی اثرات کہہ سکتے ہیں بلا روک ٹوک ملک و معاشرے کواپنی چپیٹ میں لے چکے ہیں ، لیکن افسوس کہ ہمارا معاشرہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے چین کی بانسری بجا رہا ہے۔

اب جبکہ عورت کومرد کے برابرقراردینے کا نتیجہ واـضح ہو چکا ہے کہ اس رجحان کو فروغ دینے کا مقصدعورتوں کو ظلم و ستم سے نجات دلانا نہیں،بلکہ اس کامقصد یہ ہے کہ معاشی مضبوطی حاصل ہو۔آمدنی میں اضافہ ہو۔ دنیا میں مال وزر اکٹھا کیا جائے ۔مرد اپنے معاش کا خود ذمہ دار ہو اور عورت اپنی کفالت کاخود، تاکہ دونوں آزاد رہ سکیں۔ ایسی صورت میں اس فانی دنیاکے عیش و آرام کے جال سے باہر لا نے کے لیے ضروری ہے کہ آخرت کی یاد دلائی جائے۔ دلوںمیں ’’  مَتَاعُ اَلدُّ نْیَا قَلِیْلٌ ‘‘(دنیا کی پونجی بہت کم اور حقیر ہے)  کو جاگزیں کیا جائے اور انسان کو اس کا اصلی منصب یاد دلایا جائے۔ عورتیں اپنے فرائض منصبی کو یادرکھیں اور مرد اپنے فرائض منصبی کو۔

 اس حقیقت کے باوجودکہ یہ عمل بڑا مشکل ہے ،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان کے بس سے باہر نہیں اور یہ ساری چیزیں بغیر اسلامی تعلیمات کے ممکن نہیں،کیونکہ مخلوق اپنے خالق کے قوانین کو اپنا کر ہی ایک صالح اور خوبصورت معاشرے کا نمونہ پیش کرسکتی ہے۔بالخصوص عورتیں اگر اس ذمے داری کوقبول کر لیں تو یہ نہ صرف ان کے لیے بہتر ہے بلکہ اس طرح وہ پورے معاشرے کو خوبصورت اور صالح بنا سکتی ہیں۔