حسن اخلاق

غزالی  شاداب

جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے عہد خلافت میں بیت المقدس تشریف لے گئے تو عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے مصر پر فوج کشی کی اجازت حاصل کر لی اور چار ہزار اسلامی لشکر لے کر مصر کی جانب بڑھے اور مقام ’’عین شمس‘‘ اور مصر کی فوجی چھاؤنی ’’فرما‘‘ پر اسلام کاپرچم لہرادیا مگر اسکندریہ جہاں شاہ مصر مقوقس مقیم تھا اسلامی لشکر کو اس کی فتح یابی کے لیے شدید انتظار کرنا پڑا۔ بالآخر اللہ جل مجدہ نے تین مہینے کے محاصرے کے بعد اسکندریہ کا دروازہ بھی مسلمانوں کے لیے کھول دیا اور فتح نصیب ہوئی۔

حضرت عمرو بن عاص کو جب اسکندریہ کی فتح یابی کی خوش خبری ملی تو اللہ کا شکر بجا لائے اور جلد از جل اسکندریہ پہنچنے کی تیاری شروع کر دی، لشکر کو کوچ کا حکم دے دیا گیا،تمام لشکری اپنے اپنے ساز و سامان سمیٹنے اور کوچ کی تیاری میں مشغول ہو گئے، طنابیں کھلنے لگیں، خیمے اکھاڑے جانے لگے، جانوروں کی پیٹھ پر سامان لد گئے ۔ حضرت عمروبن عاص نے بھی اپنا خیمہ اکھاڑنے کا حکم دے دیاکہ اچانک حضرت عمرو بن عاص کی نظر خیمے کے اندر موجود ایک گھونسلے پر پڑی جس میں کبوتر نے انڈا دے رکھا تھا، حضرت عمرو بن عاص سوچ میں پڑ گئے کہ اگر یہ خیمہ کھول دیا گیا تو کبوتر کا گھر اجڑ جائے گا اور ایک مسلمان کے ہاتھ سے ایک بے زبان پرندے کو تکلیف پہنچے گی ۔ فوراً سپاہیوں کو خیمہ اکھاڑنے سے روک دیا اور فرمایا کہ اس خیمہ کو نہ اکھاڑو، اسے یوں ہی چھوڑ دو ،تاکہ ہمارے مہمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے

اور اس طرح صرف ایک کبوتر کے آرام و آسائش کی خاطر اس خیمہ کو وہیں چھوڑ دیا گیا جو میدان جنگ میں سپاہی کے لیے نہ صرف سردی اور گرمی سے بچنے کا ٹھکانہ ہوتا ،بلکہ بسا اوقات قلعہ کا کام بھی کرتاہے۔ اسکندریہ سے واپسی پر حضرت عمروبن عاص نے اسی مقام پرایک شہر کی تعمیر کا حکم دیا۔

 عربی زبان میں خیمہ کو ’’فسطاط‘‘ کہتے ہیں اس لیے وہ مقام کبوتر کے اسی خیمے کی نسبت سے ’’فسطاط‘‘ کے نام سے مشہور ہو اجو آج تک مسلمانوں کے حسن اخلاق کا گواہ ہے۔

(معجم البلدان،از یاقوت الحموی،جلد:۴، ص:۲۶۳)

بچو! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا حسن اخلاق اتنا عظیم رہا ہے کہ ان کے ہاتھوں پرندے تک محفوظ ا ور مامون تھے مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج کامسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں پر یشان ہے ۔اس لیے ہمیں اس سے یہ نصیحت لینی چاہیے کہ ہمارے ہاتھوں کسی بھی مخلوق کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔