حدیث نمبر :260

روایت ہے حضرت حسن سے فرماتےہیں علم دو طرح کے ہیں ایک علم دل میں یہ علم فائدہ مند ہے ۱؎ دوسرا علم صرف زبان پر یہ انسان پر اﷲ کی حجت ہے۲؎ (دارمی)

شرح

۱؎ یعنی علم دین کی دو نوعیتیں ہیں:ایک وہ جس کا نورعالم کے دل میں اترجائے جس سے قلب روشن اور قالب مطیع ہو جائے یہ علم عالم کو نفع دے گا اور دوسروں کوبھی،ایسے عالم کا وعظ بلکہ اس کی صحبت اکسیر ہے۔اس کی علامت یہ ہے کہ عالم کے دل میں خوف خدا اور محبت جناب مصطفے،آنکھوں میں تری،زبان پر اﷲ کا ذکر رہتے ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ علم بغیر تصوف فسق ہے اورتصوف بغیرعلم بے دینی۔

۲؎ یعنی جب عالم صرف باتیں اچھی کرے مگر اس کا اپنا دل نور سے اور بدن اثرعلم سے خالی ہو یہ علم قیامت میں عالم کے الزام کھا جانے کا ذریعہ ہوگا کہ رب فرمائے گا تو سب کچھ جانتاتھا پھرگمراہ اور بدعمل کیوں بنا؟ صوفیاءفرماتے ہیں کہ جس علم میں تصوف کی چاشنی نہ ہو وہ علم لسانی وارثت شیطانی ہے۔آدم علیہ السلام کا علم قلبی تھا شیطان کا لسانی۔