أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَسَارِعُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَۙ

ترجمہ:

اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض تمام آسمان اور زمینیں ہیں جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے

تفسیر:

ربط آیات :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے سود کھانے سے منع فرمایا تھا اور اس میں یہ اشارہ تھا کہ دنیا کے مال اور اس کی زینت کی طرف رغبت نہ کی جائے کیونکہ جب انسان دنیا کی رنگینیوں میں رغبت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی عبادت سے غفلت اور سستی پیدا ہوتی ہے ‘ نیز اس سے پہلے فرمایا تھا کہ اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو تمہارے پاس فورا اللہ تعالیٰ کی مدد آئے گی ‘ اسی سیاق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کی اور اس کی جنت کی طرف جلدی کرو ‘ اور دنیا کی رنگینیوں اور اس کے مال ومتاع میں رغبت نہ کرو ‘ اور اگر اللہ کی راہ میں تم قتل کیے جاؤ یا تمہاری اولاد قتل جائے یا تم زخمی ہو تو تم اس پر صبر کرو اور اگر تم کسی کے ساتھ احسان کرو اور نیک سلوک کرو اور وہ تمہارے ساتھ برا سلوک کرے تو تم اپنا غصہ ضبط کرلو اور اس کو معاف کردو بلکہ اس کے ساتھ احسان کرو ‘ جس طرح کفار نے جنگ احد میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے محبوب چچا کو شہید کیا اور فتح مکہ کے موقع پر جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیے گئے جب وہ مغلوب تھے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے بدلہ لینے پر ہر طرح قادر تھے ‘ تو آپ نے غصہ ضبط کیا ‘ انکو معاف کردیا اور ان سب کو آزاد کردیا۔ (رض) اجمعین

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو۔ (آل عمران : ١٣٣)

مغفرت اور جنت کے حصول کا ذریعہ :

اس آیت کا معنی ہے : اس چیز کی طرف جلدی کرو جس سے تمہیں اپنے رب کی مغفرت حاصل ہو اور رب کی مغفرت اس کے احکام پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے اس سے باز رہنے سے حاصل ہوتی ہے ‘ امام رازی نے لکھا ہے مفسرین نے اس کی کئی تفسیریں کی ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد ہے اسلام کی طرف جلدی کرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی جنت کے حصول کا ذریعہ ہے ‘ حضرت علی (رض) نے فرمایا اس سے مراد فرائض کی ادائیگی ہے ‘ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے فرمایا اس سے مراد اخلاص ہے ‘ ابوالعالیہ نے کہا اس سے مراد ہجرت ہے ‘ ضحاک نے کہا جہاد ہے ‘ سعید بن جبیر نے کہا تکبیر اولی ہے ‘ عکرمہ نے کہا تمام عبادات ہیں ‘ اصم نے کہا توبہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض تمام آسمان اور زمینیں ہیں جو متقین کیلیے تیار کی گئی ہے۔ (آل عمران : ١٣٣)

اس کا معنی یہ ہے کہ اگر سات آسمانوں اور سات زمینوں کے تمام طبقات کو پھیلادیا جائے تو وہ جنت کا عرض ہوگا اور جس کے عرض کی اس قدر وسعت ہے اس کے طول کا کیا عالم ہوگا ! اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” بطائنھا من استبرق “۔ (الرحمن : ٥٤)

ترجمہ : جنت کے تکیوں کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے۔ “

اور استر بیرونی غلاف سے کم خوب صورت ہوتا ہے تو جن تکیوں کا استرا استبرق کا ہے ان تکیوں بیرونی غلاف کی خوبصورتی کا کیا عالم ہوگا ‘ سو اسی طرح یہ آیت کہ سات آسمانوں اور سات زمینوں کو پھیلا دیا جائے تو جنت کا عرض ہے ‘ اور جس کا عرض اتنا وسیع ہے اس کے طول کا کیا عالم ہوگا۔ “ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٥١۔ ٥٠ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت یعلی بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ میری حمص میں ہرقل کے قاصد سے ملاقات ہوئی وہ اس وقت بہت بوڑھا ہوچکا تھا اس نے کہا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہرقل کا مکتوب لے کر گیا تھا میں نے کہا آپ اس جنت کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کا عرض سات آسمان اور زمینیں ہیں تو پھر دوزخ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا ” سبحان اللہ “ جب رات آتی ہے تو دن کہا ہوتا ہے ؟ (جامع البیان ج ٤ ص ٦٠‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب فلک گردش کرتا ہے تو دنیا کی ایک جانب دن ہوتا ہے اور دوسری جانب رات ہوتی ہے ‘ اسی طرح جنت سات آسمانوں کے اوپر ایک جانب بلندی میں ہے اور دوزخ سات زمینوں کے نیچے پستی کی جانب ہے ‘ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ جنت سات آسمانوں کے اوپر عرش کے نیچے ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 133