امام شعبی اور جھوٹا مقرر

امام شعبی جو کہ اجلہ تابعین میں سے ہیں، فرماتے ہیں کہ میں ایک مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گیا تو دیکھا کہ ایک لمبی داڑھی والا شخص تقریر کر رہا ہے، انھیں لوگ گھیرے ہوئے ہیں؛ اس نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دو صور پیدا فرمائے ہیں، ہر صور میں دو بار پھونکا جائے گا، ایک بے ہوشی کے لیے ایک قیامت کے لیے-

امام شعبی نے اس مقرر سے کہا کہ اللہ سے ڈر! جھوٹی حدیث مت بیان کر، اللہ تعالیٰ نے صرف ایک صور پیدا کیا ہے جس میں دو بار پھونکا جائے گا تو اس مقرر نے کہا کہ اے بدکردار تو میرا رد کرتا ہے اور جوتا اٹھا کر امام شعبی کو مارنے لگا پھر پورا مجمع امام شعبی پر ٹوٹ پڑا اور پٹائی شروع کر دی اور امام شعبی کہتے ہیں کہ مجھے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میں نے یہ نہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دو صور پیدا کیے ہیں، تو ان لوگوں نے میری جان بخشی-

(ملخصاً: فتاوی شارح بخاری، ج2، ص130)

آج کل کے مقررین اور عوام کا بھی یہی حال ہے، اگر کوئی شخص کَہ دے کہ فلاں مقرر نے جھوٹا واقعہ بیان کیا ہے تو اس کی خیر نہیں-

عبد مصطفی