أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓٮِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَؕ

ترجمہ:

ان لوگوں کی جزا ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور ایسی جنتیں (باغات) ہیں جن کے نیچے دریا بہ رہے ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور نیک کام کرنے والوں کی کیا خوب جزا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان لوگوں کی جزا ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور ایسی جنتیں (باغات) ہیں جن کے نیچے دریا بہہ رہے ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور نیک کام کرنے والوں کی کیا خوب جزا ہے۔ (آل عمران : ١٣٦)

یعنی جن لوگوں کے متعلق ذکر کیا گیا ہے کہ اگر وہ کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فورا خدا کو یاد کرتے ہیں اور اس گناہ پر فورا توبہ اور استغفار کرتے ہیں اور عمدا اس گناہ پر اصرار نہیں کرتے ‘ ان کی جزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکو معافی حاصل ہوتی ہے ‘ اور انہوں نے جو نیک کام کیے ہیں اللہ تعالیٰ ان نیکیوں پر اپنے فضل سے ان کو ایسی جنتیں عطا فرمائے گا جن کے نیچے سے دریا بہہ رہے ہوں گے ‘ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے اور نیکی کرنے والوں کے لیے یہ کیا خوب جزاء ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 136