أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِهِمۡ وَمَنۡ يَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰهُ ۖ وَلَمۡ يُصِرُّوۡا عَلٰى مَا فَعَلُوۡا وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

اور جن لوگوں نے جب کوئی بےحیائی کا کام کیا یا اپنی جانوں پر ظلم کیا تو انھوں نے اللہ کو یاد کیا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخشتا ہے، اور انہوں نے دانستہ ان کاموں پر اصرار نہیں کیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جن لوگوں نے جب کوئی بےحیائی کا کام کیا ‘ یا اپنی جانوں پر ظلم کیا تو انہوں نے اللہ کو یاد کیا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخشے گا۔ (آل عمران : ١٣٥)

گناہوں پر نادم ہونے والے اور توبہ کرنے والوں کے لیے مغفرت کی نوید : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

عطاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابو مقبل نبہان کھجور فروش کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ ان کے پاس ایک حسین عورت آئی انہوں نے اس کو کھجور فروخت کی ‘ وہ اس سے لپٹ گئے اور اس کا بوسہ لے لیا ‘ پھر اس فعل پر نادم ہوئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔ اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کے شان نزول میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک ثقفی صحابی کسی غزوہ میں گئے اور اپنے ایک انصاری دوست کو گھر کی حفاظت کے لیے چھوڑ گئے۔ انہوں نے اس ثقفی کی امانت میں خیانت کی وہ اس کے گھر میں داخل ہوئے ‘ اس کی عورت نے مدافعت کی تو انہوں نے اس کے ہاتھ کا بوسہ لے لیا ‘ پھر نادم ہوئے اور روتے چیختے ہوئے جنگل میں چلے گئے ‘ جب وہ ثقفی واپس آیا تو اس کی بیوی نے اس کو خبر دی ‘ وہ اس کو ڈھونڈنے نکلا ‘ اور اس کو تلاش کرکے حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کے پاس لے گیا کہ وہ شاید اس کی نجات کی کوئی صورت نکالیں ‘ پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور اپنے اس فعل کی خبر دی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ اور اس آیت سے عموم مراد لینا زیادہ اولی ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٢١٠۔ ٢٠٩‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں : جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی حدیث خود سنتا ہوں تو اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے مجھے اس حدیث سے نفع پہنچاتا ہے ‘ اور جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی شخص مجھے کوئی حدیث بیان کرتا ہے تو میں اس سے اس حدیث پر حلف طلب کرتا ہوں ‘ اور جب وہ حلف اٹھا لیتا ہے تو میں اس کی تصدیق کردیتا ہوں اور مجھ سے حضرت ابوبکر نے یہ حدیث بیان کی اور حضرت ابوبکر (رض) نے سچ کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص بھی کوئی گناہ کرے ‘ پھر وہ اچھی طرح وضو کرے ‘ پھر کھڑا ہو کردو رکعت نماز پڑھے ‘ پھر اللہ سے استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے ‘ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے یہ آیت پڑھی ‘ (آیت) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “۔ الخ (سنن ابو داؤد ج ١ ص ٢١٣‘ مطبوعہ لاہور)

اس حدیث کو امام ترمذی ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام احمد ‘ امام نسائی ‘ امام ابن جریر ‘ اور امام واحدی نے بھی روایت کیا ہے۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں :

عطاء ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! بنواسرائیل اللہ کے نزدیک ہم سے بہت زیادہ مکرم تھے کہ صبح کو ان کے اس گناہ کا ان کے دروازہ کی چوکھٹ پر لکھا ہوا ہوتا تھا۔ ” تم اپنا کان کاٹ لو ‘ تم اپنی ناک کاٹ لو ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے تب یہ آیات نازل ہوئیں : اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کے طرف جلدی کرو جس کا عرض تمام آسمان اور زمینیں ہیں ‘ جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے (الی قولہ) اور جن لوگوں نے جب کوئی بےحیائی کا کام کیا یا اپنی جانوں پر ظلم کیا تو انہوں نے اللہ کو یاد کیا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخشے گا ؟ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو اس سے بہتر چیز کی خبر نہ دوں ؟ پھر آپ نے ان آیات کو پڑھا۔

ثابت بنانی روایت کرتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابلیس رویا۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٦٣۔ ٦٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا : ایک بندے نے گناہ کیا اور کہا اے اللہ ! میرے گناہ کو بخش دے ‘ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور اس کو یقین ہے کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ پھر دوبارہ وہ بندہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب میرا گناہ معاف کر دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندہ نے گناہ کیا ہے اور اس کو یقین ہے کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے ‘ اور وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے میرے رب میرے گناہ کو معاف کر دے۔ اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور اس کو یقین ہے کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر مواخذہ بھی کرتا ہے تم جو چاہو کرو میں نے تمہاری مغفرت کردی ‘ راوی نے کہا مجھے یاد نہیں آپ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا تھا جو چاہو کرو۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٥٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث کو امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں تم جو چاہو کرو۔ اس میں صرف یہ لفظ ہیں ‘ میں نے اس کی مغفرت کردی (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ١١١٨۔ ١١١٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علامہ نووی نے لکھا ہے ان احادیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص سو بار یا ہزار بار یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ گناہ کا ارتکاب کرے اور ہر بار توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہوجائے گی اور اس کے گناہ ساقط جائیں گے ‘ اور اگر تمام گناہوں کے بعد توبہ کرے تب بھی اس کی توبہ صحیح ہے۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ٣٥٧‘ مطبوعہ کراچی)

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں

علامہ قرطبی نے مضہم میں لکھا ہے یہ حدیث استغفار فائدے اور اللہ عظیم فضل ‘ اس کی رحمت کی وسعت ‘ اس کے حلم اور اس کرم پر دلالت کرتی ہے لیکن بندہ کا زبان سے استغفار کرنا اس کے دل کے ساتھ مقرون ہونا چاہیے تاکہ اصرار کی گرہ کھل جائے اور اس کے ساتھ بندہ کو اس گناہ پر نادم بھی ہونا چاہیے ‘ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے ‘ ” تم میں سے بہتر وہ ہے جو فتنہ میں مبتلا ہونے کے بعد توبہ کرے۔ “ اس کا معنی یہ ہے کہ جس سے بار بار گناہ ہو وہ بار بار توبہ کرے اور جب بھی اس سے کوئی گناہ ہوجائے وہ توبہ کرلے ‘ اور ایسا نہ ہو کہ وہ زبان سے توبہ کرے اور اس کا دل اس گناہ پر مصر ہو ‘ کیونکہ ایسا استغفار بجائے خود استغفار کا محتاج ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو امام ابن ابی الدنیا نے حضرت ابن عباس (رض) مرفوعا روایت کیا ہے۔ ” گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مثل ہے جس نے گناہ نہ کیا ہو ‘ اور جو شخص گناہ سے توبہ کر رہا ہو حالانہ وہ اس گناہ پر قائم ہو وہ گویا اپنے رب سے مذاق کر رہا ہے “ راجح یہ ہے کہ حدیث کا دوسرا حصہ موقوف ہے (یعنی حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے) اور حدیث کے پہلے حصہ کو امام ابن ماجہ اور امام طبرانی نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے ‘ علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ بار بار گناہ کرنا ہرچند کہ برا کام ہے ‘ لیکن جب اس کے ساتھ توبہ مقرون ہو تو یہ نیک کام ہے کیونکہ وہ کریم سے گڑ گڑا کر معافی مانگ رہا ہے ‘ چونکہ وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر رہا ہے اور یہ جانتا ہے کہ اللہ کے سوال کوئی بخشنے والا نہیں ہے اور صحیح مسلم کی روایت میں جو ہے تم جو چاہو کرو اس کا معنی یہ ہے کہ جب تک تم گناہ کرنے کے بعد توبہ کرتے رہو گے تو تم کو معاف کرتا رہوں گا۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ٤٧٢۔ ٤٧١ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

علامہ سنوسی مالکی متوفی ٨٩٥ ھ لکھتے ہیں :

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے جو چاہو کرو میں نے تم کو بخش دیا ہے “ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حکم بہ طور اعزاز اور اکرام ہو جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ادخلوھا بسلام امنین “۔ (الحجر : ٤٦)

ترجمہ : (متقین سے کہا جائے گا) تم جنتوں میں سلامتی اور بےخوفی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔

اور اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس توبہ کرنے والے شخص کو یہ خبر دی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے پچھلے گناہوں کو بخش دیا ہے اور وہ مستقبل میں گناہوں سے محفوظ رہے گا ‘ اور پہلی صورت میں جب یہ حکم بطور اعزاز اور اکرام ہو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس کے لیے ہر کام مباح کردیا ہے وہ جو چاہے کرے ‘ اور اب اس کا معنی یہ ہوگا کہ جب تک تم گناہ کرنے کے بعد توبہ کرتے رہو گے میں تم کو بخشتا رہوں گا ‘ علامہ تو رپشتی نے کہا ہے کہ یہ کلام (جو چاہو کرو) کبھی بطور اظہار غضب ہوتا ہے جیسے قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” اعملوا ماشئتم انہ بما تعملون بصیر “۔ (فصلت : ٤٠)

ترجمہ : (کفار سے فرمایا) جو چاہوکئے جاؤ بیشک وہ تمہارے سب کام خوب دیکھنے والا ہے۔

اور کبھی اظہار لطف کے لیے کہا جاتا ہے جیسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاطب بن ابی بلتعہ کے متعلق فرمایا تحقیق اللہ اہل بدر کی طرف متوجہ ہوا اور فرمایا اے اہل بدر جو چاہو کرو بیشک میں نے تم کو بخش دیا ہے (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٢٢) اور دونوں صورتوں میں اس کلام کا یہ معنی نہیں ہے کہ تم کو ہر قسم کے کام کی رخصت دے دی ہے خواہ جائز ہو یا ناجائز۔ (مکمل اکمال الاکمال ج ٩ ص ١٧٢۔ ١٧١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں سے کردے ‘ جو جب نیک کام رتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور جب برے کام کرتے ہیں تو استغفار کرتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار شخص جنت کے پاکیزہ باغوں میں ہوں گے ‘ جو شخص ” لا الہ الا اللہ “ پر مضبوط اعتقاد رکھے اور اس میں شک نہ کرے ‘ اور جو شخص جب نیک کام نیک کام کرے تو خوش ہو اور اللہ تعالیٰ کی حمد کرے اور وہ شخص جو جب برا کام کرے تو غمگین ہو اور اللہ سے استغفار کرے اور وہ شخص جب اسے کوئی مصیبت پہنچے تو کہے : ” انا للہ وانا الیہ راجعون : (شعب الایمان ج ٥ ص ٣٧٢۔ ٣٧١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

امام ابوالقاسم علی بن الحسن ابن العساکر متوفی ٥٧١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی بندہ گناہ کرکے غمگین ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے خواہ وہ استغفار نہ کرے۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٥ ص ‘ ١٩٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)

توبہ کا معنی ہے گناہ پر نادم ہونا ‘ دوبارہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرنا اور اس گناہ کی تلافی کرنا ‘ اور اس کا سب سے بڑا جز گناہ پر نادم ہونا ہے تو جو شخص گناہ کرنے کے بعد غمگین ہوا وہ گویا تائب ہوگیا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے دانستہ ان کاموں پر اصرار نہیں کیا۔ (آل عمران : ١٣٥)

گناہوں پر اصرار کا لغوی اور شرعی معنی : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

اصرار کا معنی ہے گناہ کو پختہ اور مضبوط کرنا اور گناہ کو ترک نہ کرنا اور اس کے ترک سے باز رہنا ‘ اصل میں یہ لفظ صر سے بنا ہے جس کا معنی ہے باندھنا ‘ صرہ اس تھیلی کو کہتے ہیں جس میں دراہم رکھ کر گرہ لگا دی جاتی ہے۔ (المفردات ص ‘ ٢٧٩ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

امام محمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا تم لوگ گناہوں پر اصرار کرنے سے باز رہو ‘ کیونکہ ماضی میں گناہوں پر اصرار نہیں کیا ‘ خواہ وہ دن میں ستر مرتبہ اس گناہ کو دہرائے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ٦٤۔ ٦٣ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے استغفار کرلیا اس نے اصرار نہیں کیا ‘ خواہ وہ دن میں ستر مرتبہ اس گناہ کو دہرائے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٢١٢‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس تفسیر سے معلوم ہوا کہ گناہ پر برقرار رہنا اور اس پر توبہ نہ کرنا اس گناہ پر اصرار ہے ‘ اور اگر بار بار گناہ کرے اور ہر گناہ کے بعد توبہ کرلے تو یہ گناہ کا تکرار ہے اصرار نہیں ہے علماء نے کہا ہے کہ گناہ صغیرہ پر اصرار اس گناہ کو کبیرہ بنا دیتا ہے ‘ مجھ سے ایک مرتبہ ایک فاضل دوست نے پوچھا گناہ پر اصرار کرنا بھی تو اسی درجہ کی معصیت ہے۔ یہ گناہ کبیرہ کیسے ہوجاتا ہے ‘ میں نے کہا گناہ صغیرہ پر توبہ نہ کرنا ‘ اس گناہ کو معمولی سمجھنا ہے ‘ اور کسی گناہ کو معمولی سمجھنا ہی کبیرہ گناہ ہے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ توبہ کرنا فرض ہے اور فرض کا ترک گناہ کبیرہ ہے اس لیے گناہ صغیرہ پر اصرار کرنا اور توبہ نہ کرنا گناہ کبیرہ ہے۔

کسی کام کے کرنے پر دل سے عزم کرنا اور اس کو جڑ سے اکھاڑنے کو ترک کرنا ‘ یہ اصرار ہے ‘ سہل بن عبداللہ تستری نے کہا جاہل ‘ مردہ ہے ‘ اور بھولنے والا سویا ہوا ہے ‘ اور گنہ گار نشہ میں مدہوش ہے ‘ اور اصرار کرنے والا ہلاک ہونے والا ہے ‘ اور اصرار یہ ہے کہ وہ شخص یہ کہے کہ میں کل توبہ کروں گا اور یہ اس کے نفس کا دعوی ہے وہ کل کا کب مالک ہے ‘ تو وہ کل کیسے توبہ کرے گا دوسرے علماء نے کہا اصرار یہ ہے کہ وہ توبہ نہ کرنے کی نیت کرے اور جب اس نے توبہ کرلی تو وہ اصرار سے نکل کیا اور سہل کا قول عمدہ ہے۔

ہمارے علماء نے کہا ہے کہ توبہ کرنے کا باعث اور اصرار کی گرہ کھولنے کا محرک ‘ اللہ کی کتاب میں دائما غور وفکر کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے نیک اور اطاعت شعار لوگوں کے لیے جن انعامات کا ذکر کیا ہے اور برے اور نافرمان لوگوں کے لیے جس عذاب کا ذکر کیا ہے اس میں تدبر کرنا ہے اور جب انسان ہمیشہ اس طرح غور و فکر کرتا ہے تو اس کے دل میں عذاب کا خوف اور ثواب کا شوق بہت قوی ہوجاتا ہے ‘ اور پھر اگر اس سے کوئی گناہ ہوجائے تو وہ فورا توبہ کرلیتا ہے۔

توبہ کی تعریف ‘ ارکان اور شرائط :

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں

اللہ تعالیٰ جس کو سعادت دیتا ہے وہ گناہ کی برائی اور اس کے ضرر پر متنبہ ہوجاتا ہے اور یہی تنبیہہ توبہ کا باعث ہے کیونکہ گناہ ایسا زہر ہے جس کے ضرر سے دنیا اور آخرت کی سعادت ضائع ہوجاتی ہے اور وہ دنیا میں اللہ کی معرفت سے محجوب اور آخرت میں اس کے قرب سے محروم ہوجاتا ہے ‘ گنہگار اللہ کے حق ضائع کرنے کا تائب ہوگا یا مخلوق کے حق کو ضائع کرنے پر توبہ کرے گا اللہ کے حق کو ضائع کرنے کی توبہ یہ ہے کہ وہ آئندہ کے لیے اس گناہ کو ترک کردے اور اس کی جو قضا اور کفارہ مشروع ہے اس کو ادا کرے ‘ اور مخلوق کا حق ضائع کرنے پر توبہ یہ ہے کہ وہ مستحق کو اس کا حق ادا کرے ورنہ وہ اس گناہ کے ضرر سے نجات نہیں پائے گا ‘ اگر وہ پوری کوشش کرنے کے بعد بھی اس حق کو ادا نہ کرسکے تو اللہ تعالیٰ کے معاف کرنے کی امید رکھے ‘ عبداللہ بن المبارک نے یہ کہا کہ توبہ کی شرائط یہ ہیں کیے ہوئے کام پر ندامت ہو ‘ آئندہ نہ کرنے کا عزم ہو ‘ حق واپس کرے ‘ اور جو فرائض رہ گئے ہیں ان کو ادا کرے اور حرام کھانے سے جو بدن بن گیا ہے اسے غم اور فکر سے گھلا دے حتی کہ دوبارہ اس کے جسم پر پاکیزہ گوشت پیدا ہوجائے اور اپنے نفس کو اطاعت کی مشقت کا اس طرح مزہ چکھائے جس طرح اس نے معصیت کی لذت کا مزہ چکھا تھا ‘ جن علماء نے توبہ کی تفسیر ندامت سے کی ہے انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس کو امام احمد اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود (رض) سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ ندامت توبہ ہے اور درحقیقت ندامت توبہ کا رکن اعظم ہے ‘ بعض علماء نے توبہ کی شرائط میں مزید اضافہ کیا ہے کہ وہ اس جگہ سے چلا جائے جہاں گناہ کیا تھا اور آخر عمر تک اس جگہ دوبارہ نہ جائے ‘ اور دوبارہ وہ گناہ نہ کرے ورنہ اس کی توبہ باطل ہوجائے گی ‘ پہلی اور دوسری شرط مستحب ہے اور آخری شرط باطل ہے کیونکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ حدیث ہے کہ بندہ بار بار گناہ کرے اور ہر گناہ کے بعد توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیتا ہے۔ (فتح الباری ج ١١ ص ١٠٤۔ ١٠٣‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

کیا گناہوں کو معین کرکے توبہ کرنا ضروری ہے ؟

اس آیت میں فرمایا ہے اور انہوں نے ان کاموں پر اصرار نہیں کیا درآں حالیکہ وہ جانتے ہیں ‘ اس آیت کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ اپنے گناہوں کو یاد کرتے ہیں اور ان پر توبہ کرتے ہیں ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ میں اصرار پر سزا دیتا ہوں ‘ تیسرا قول یہ ہے کہ گنہ گاروں کو یہ علم ہے کہ میں توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرلیتا ہوں ‘ چوتھا قول یہ ہے کہ ان کو علم ہے کہ گناہ پر اصرار کرنا ان کے لیے باعث ضرر ہے اور اصرار کو ترک کرنا نفع کا سبب ہے۔ پانچوں قول یہ ہے کہ ان کو علم ہے ان کا رب ان کے گناہوں کو معاف کر دے گا۔

انسان کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے گنہ کو یاد کرے اور بعینہ اس گناہ کی معافی مانگے البتہ یہ ضروری ہے کہ جب اسے کوئی گناہ یاد آئے تو فورا اس گناہ سے توبہ کرلے ‘ اور یہ ضروری نہیں ہے کہ شراب کے ہر ہر گھونٹ پر معافی مانگے ‘ اور بدکاری کی ہر ہر حرکت پر معافی مانگے اور کسی حرام کام کے لیے جنتے قدم چلے ہیں تو ہر ہر قدم پر معافی مانگے اور جتنا وقت کسی حرام کام میں صرف ہوا ہے تو ہر ہر منٹ اور ہر ہر سیکنڈ کی معافی مانگے ‘ بلکہ اس کے لیے یہ کافی ہے کہ جب کوئی گناہ کرے تو فورا اس گناہ کی معافی مانگ لے اور اگر اس وقت غافل ہوگیا تو جب اسے وہ گناہ یاد آیا اس وقت اس کی معافی مانگ لے اور مرنے سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کرے ‘ انسان کے لیے معین خطاء پر توبہ کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ فی الجملہ خطاؤں پر معافی مانگنا کافی ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت کی تعلیم اور تلقین کے لیے اسی قسم کی دعا کی ہے۔

امام بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میری خطا اور جہالت کو معاف فرما ‘ اور تمام کاموں میں میرے حد سے تجاوز کرنے کو معاف فرما اور میری جن خطاؤں کا تجھے مجھ سے زیادہ علم ہے ان کو معاف فرما ‘ اے اللہ ! میں نے جو گناہ غلطی سے کیے ان کو معاف فرما اور جو گناہ عمدا اور جہلا اور مذاقا کیے ان کو معاف فرما اور ہر وہ گناہ جو میرے نزدیک ہے ‘ اے اللہ ! میرے ان گناہوں کو معاف فرما جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں کئے اور جو چھپ کر کیے اور جو ظاہرا کیے تو مقدم کرنے والا ہے اور تو موخر کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٩٤٧۔ ٩٤٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

گناہ پر توبہ کرنے کی بحث کو ہم اس حدیث پر ختم کر رہے ہیں :

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر ابن آدم خطا کار ہے اور خطاکاروں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں۔ (جامع ترمذی ج ٤ ص ‘ ٦٥٩ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)

اس حدیث کو امام ابن ماجہ ‘ امام دارمی اور امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 135