حدیث نمبر :262

روایت ہے حضرت عبداﷲ سے فرمایا اے لوگو!جو کوئی کچھ جانتا ہوتو بیان کردے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دے اﷲ جانے ۱؎ کیونکہ علم یہ ہی ہے جسے تم نہ جانو تو کہہ دو اﷲ جانے۲؎ اﷲ تعالٰی نے اپنے نبی سے فرمایا کہ فرمادو میں نبوت پر تم سے اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ حدیث موقوف ہے یعنی حضرت عبداﷲ ابن مسعود کا اپنا فرمان۔مقصد یہ ہے کہ کوئی عالم اپنی بے علمی ظاہرکرنے میں شرم نہ کرے،اگر کوئی مسئلہ معلوم نہ ہوتو گھڑکر نہ بتائے ہماری بے علمی علم سے زیادہ ہے رب فرماتا ہے:”وَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیۡلًا” فرشتوں نے عرض کیا تھا:”لَا عِلْمَ لَنَاۤ”حضرت علی سے سرمنبر کوئی مسئلہ پوچھا گیا آپ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں،وہ گستاخ بولا کہ آپ بے علمی کے باوجود منبر پر کیوں کھڑے ہوگئے؟ آپ نے فرمایا کہ میں بقدرعلم منبر پر چڑھا ہوں اگر بقدر جہالت چڑھتا تو آسمان پرپہنچ جاتا۔(مرقاۃ)

۲؎ یعنی اپنی بے علمی جاننا بھی علم ہے،اپنی جہالت سے ناواقف ہونا جہل مرکب،مفتیان کرام فتوےٰ کے آخر میں لکھتے ہیں” اَﷲُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ”وہ یہاں سے اخذ ہے۔

۳؎ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اولین و آخرین سب سے بڑے عالم،تمام جہان کے معلم ہیں مگر انہیں حکم دیا گیا جس چیز کا علم آپ کو اب تک نہ دیا گیا ہو بتکلف نہ بتائیں۔چنانچہ حضورسے اصحاب کہف کی تعداد پوچھی گئی نہ بتائی کیونکہ اس کا علم بعدمیں عطاءہوا،حضرت عمرسے سوال ہوا کہ فاکھہ اور ابٌّ(میوہ اور چارہ)میں کیا فرق ہے ؟ فرمایا مجھے خبر نہیں،حضرت امام مالک نے چھتیس مسائل میں فرمایا کہ میں نہیں جانتا،حضرت امام ابوحنیفہ سے پوچھا گیا کہ دھرکیا چیز ہے فرمایا مجھے خبرنہیں۔