زمان، مکان اور اخوان

شوکت علی سعیدی

اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی میں جس طرح خوشی اور مسرت عطا کی ہے اسی طرح دکھ اور تکلیف بھی دیا ہے۔کہتے ہیں کہ زمان، مکان اور اخوان تینوں بہتر وموافق حال ہوں تو ایک عجیب وغریب مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ اس میں ایک ایسی خوشی ملتی ہے جس کی تلاش ہر انسان کو ہمیشہ رہتی ہے، لیکن بہت کم خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جن کو یہ دولت میسر آتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جنھیں یہ دولت مل جائے ان کی زندگی نہایت ہی کامیابی و کامرانی کے ساتھ گزرتی چلی جاتی ہے اور جو اِس دولت سے محروم رہتے ہیں انھیں گھٹ گھٹ کے جینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

اب ذرا اس کی تفصیل جانتے ہیں کہ زمان ، مکان اور اخوان کی حقیقت ہے کیا ؟

زمان:

زمان وقت کو کہتے ہیں ،اسی سے زمانہ ہے۔عام طور پر جب کوئی نا موافق واقعہ ہوتا ہے تو لوگوں کی زبان پر فوراً یہ جملہ جاری ہوتا ہے کہ: ’’زمانہ بہت خراب ہے۔‘‘ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ زمانہ اچھا رہے۔ اگر غور کریں تو زمانہ اپنے آپ میں کوئی چیز نہیں ہے ،ہاں! ایک زمانے میں زندگی گذارنے والے افراد کے مجموعی اثرات سے زمانے کے اچھا یا برا ہونے کاتصور کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے زمانے میں تبدیلی کی صورت رکھی ہے۔ رات بنائی،دن بنایا۔صبح ، دوپہر اور شام بنائے ۔ ان سب کی اپنی خصوصیتیں ہیں،ان ہی تمام اوقات کو جب جمع کیا جائے تو زمانے کی شکل بنتی ہے ۔

کوئی انسان اپنی دنیاوی زندگی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ زمانے سے باہر ہے،اگر اس کی زندگی ہے تو وہ کسی نہ کسی وقت، یعنی زمانے میں مقید ہے۔ کسی کے لیے دن زیادہ موافق ہے تو کسی کے لیے رات ،کسی کے لیے صبح بہتر ہے تو کسی کے لیے شام۔اسی زمانے میں موسم بھی داخل ہے، یعنی سردی، گرمی اوربرسات۔

 اسی طرح کسی کو سردی پسند ہے تو کسی کو گرمی یا پھر کسی کو برسات۔ زمانہ مختلف ہے اور اس میں اختلاف ہونے کی وجہ یہی ہے کہ لوگوں کی پسندیں مختلف ہیں اوراسی اعتبار سے ایسی تخلیق کی گئی ہے ۔ اس کی ایک مقدار متعین کر دی گئی ہے تاکہ کسی کو یہ شکایت نہ رہے کہ اسے جو وقت اور موسم پسند ہے وہ نہیں ملتا۔جس شخص کا کام شام کو اچھا ہوتا ہے اورموسم کے اعتبار سے جاڑے کا موسم مناسب ہے تو اس کی خواہش یہی رہتی ہے کہ کاش!شام ہی شام ہوتی اور صرف جاڑے کا ہی موسم ہوتا ،لیکن یقین مانیں کہ جو مقدار اللہ نے متعین کر دی ہے اس سے گھٹ بڑھ جائے تو وہ انسان پھر یہ دعا کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ وہی مقدار بہتر تھی، ٹھیک اسی طرح کہ لذیذ کھانا دیکھ کر دل یہی کہتا ہے کہ ہر وقت ایساہی لذیذ کھانا ملے لیکن اگر اسے مسلسل وہ کھانا ملنے لگے تو وہ اُوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ کھچڑی، دال یاچاول ہی کھلاؤ۔

حاصل یہ کہ زمان وہ وقت ہے جس میں ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مکان:

مکان جگہ کو کہتے ہیں۔ ہر انسان جس طرح کسی نہ کسی وقت میں ہوتاہے اسی طرح کسی نہ کسی جگہ میں ہوگا، اس سے اپنے آپ کو باہر نہیں رکھ سکتا۔ زمانے کی طرح جگہ کے بارے میں بھی لوگ کہتے ہیں کہ فلاں جگہ بہت خراب ہے، یا فلاں جگہ بہت بہتر ہے۔ خراب اور بہتر کا تصور بھی نفس جگہ سے نہیں ہے بلکہ زمان کے موافق و غیر موافق ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے یا وہاں پر رہنے والے افراد (اخوان)کی خصلتوں اور عادتوں کی وجہ سے ہوتا ہے، جیسے کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں پر گرمی زیادہ پڑتی ہے یا برسات زیادہ  ہوتی ہے، کچھ جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں رات ہی رات ہوتی ہے تو اُن غیرموافق اوقات کو دیکھتے ہوئے زبان سے برملا نکلتا ہے کہ’’ وہ جگہ اچھی نہیں ہے‘‘، اسی طرح کسی جگہ پر بسنے والے افراد بے وفا ، خود غر ض اور دغابازہوں تو اس جگہ کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ’’ وہ جگہ اچھی نہیں ہے ‘‘،یوں ہی جہاں خوش گوار موسم رہتا ہویا لوگ وفادار، ملنساراور خوشی وغم میں شریک ہونے والے ہوں تو وہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ’’ وہ جگہ بہت اچھی ہے‘‘۔

اخوان:

اخوان کا مطلب ہے ہم خیال، ہم مزاج اور ہم طبیعت افراد۔ جب کسی جگہ چند ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ایک ہی پیشے سے تعلق رکھتے ہیں تو اُن کے مجموعے کو ہم اخوان کہتے ہیں۔ شریف انسان یہ چاہتا ہے کہ شریفوں کی ایک پوری جماعت ہمیں مل جائے اسی طرح رذیل شخص شریفوں کے بیچ میں رہنا پسند نہیں کرتا، وہ اپنی خصلت کے انسانوں کی جماعت ڈھونڈتا ہے اور اسی طرح کی سوسائٹی میں رہنا پسند کرتا ہے۔

ایک خاص صفت و عادت والا فرداپنی جیسی ہی صفت و عادت والے شخص کا طالب ہوتا ہے اور جب اسے ایسا شخص مل جاتا ہے تو خوب بہتر جوڑی جمتی ہے، اس سے جدا ہونا بھی پسند نہیں کرتا،لیکن اس دنیاوی زندگی کو دو تین ہم عادت و ہم خیال افراد کے بیچ میں نہیں گزار ا جا سکتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر ایسی سوچ و فکر رکھنے والے افراد کی ضرورت پڑتی ہے۔ایسی صورت میں اس طرح کے افراد کی تلاش شروع ہو جاتی ہے جو ہم خیال اور موافق ہوں، ایسے افراد کے نہ ملنے کی صورت میں ہم ہر طرح کی کوشش او رجتن کرکے لوگوں کو اپنا ہم فکر وہم خیال بناتے ہیں اور جہاں جہاں ہمارا بس چلتاہے وہاں ہم کوشش بھی کرتے ہیں۔ پہلے اپنے گھر والوںکی ذہنیت میں ہم آہنگی لاتے ہیں پھر اپنے نوکر چاکر سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ا ن کی طرح ہو جائیں اور ہماری یہ کوشش مرتے دم تک کسی نہ کسی شکل میں باقی رہتی ہے۔

کس طرح کے زمان و مکان اور اخوان کی طلب ہو؟

ہر شخص اپنی طبیعت کے مطابق زمان مکان اور اخوان چاہتا ہے۔ جس شخص کو صالح زمان، پاکیزہ مکان اور بہتر اخوان مل جائے تو اس کی زندگی ہمیشہ خوش گوار نظر آتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف زمان و مکان اور اخوان کی موجودگی میں کس طرح کے زمان و مکان اور اخوان کی طلب کی جائے۔ ایک دنیا کی ترقی چاہنے والا شخص یہی خواہش رکھے گا کہ اس کی زندگی میںجوپلاننگ ہے اس کے لیے صحیح وقت(زمان) مل جائے مناسب جگہ (مکان) مل جائے اور اس کے من پسند افراد(اخوان) مل جائیں، تاکہ اس کی پلاننگ کامیاب ہو۔اسی طرح ایک دین کی راہ میں ترقی چاہنے والا شخص اس چیز کا طالب ہوتا ہے کہ اس کے لیے صحیح وقت مل جائے جس میں وہ عبادت کرے ، ایسی جگہ مل جائے جہاں اسے ہر طرح کے فتنہ و فساد سے محفوظ رہنے کا موقع ملے اور ایسے افراد مل جائیں جو دین کی راہ میں معاون و مددگار ثابت ہوں۔

 اب ہمیں غور یہ کرنا ہے کہ ہم دنیا کی ترقی کے لیے صالح زمان، پاکیزہ مکان، بہتر اخوان کی تلاش و جستجو میں اپنی زندگی صرف کر رہے ہیں یا دین کی راہ میں ترقی کے لیے صالح زمان، پاکیزہ مکان اور بہتر اخوان کی طلب میں ہیں۔اللہ عز و جل سے دعا ہے کہ ہمیں ایسے زمان ومکان اور اخوان کی طلب کرنے کی توفیق دے جس سے ہماری دنیا بھی بہتر ہو اور آخرت بھی بہتر ہو۔