حدیث نمبر :261

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم کے دو برتن محفوظ کیے ایک تو تم میں پھیلا دیا اور دوسرا اگر اسے پھیلاؤں تو یہ کاٹ ڈالا جائے یعنی گلا ۱؎ (بخاری)

شرح

۱؎ یعنی مجھے حضور سے دوقسم کے علم ملے،ایک علمِ شریعت جو میں نے تمہیں بتادیا دوسرا علم اسرار و طریقت و حقیقت کہ اگر وہ ظاہرکروں تو عوام نہ سمجھیں اور مجھے بے دین سمجھ کرقتل کردیں،یا ایک علم احکام دوسرے علم اخبار،جس میں ظاہرحاکموں اور بے دین سرداروں کے نام موجود ہیں اگر میں بتاؤں تو ان کی ذریت مجھے ہلاک کردے۔حضرت ابوہریرہ کبھی کنایۃً اشارۃً کچھ کہہ دیتے تھے۔چنانچہ دعامانگاکرتےتھے کہ خدایامجھے ۶۰ھ؁ کے فتنوں اور لونڈوں کی حکومت سے پناہ دے۔چنانچہ ۶۰ھ ؁میں امیرمعاویہ کی وفات ہوئی یزیدپلید تخت نشین ہوا۔اس دعا میں ان دو واقعات کی طرف اشارہ تھا،آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور امیرمعاویہ رضی اﷲ عنہ کی وفات سے ایک سال قبل انتقال فرمایا۔اس حدیث سے چند مسئلےمعلوم ہوئے: ایک یہ کہ شرعی مسئلے بے دھڑک بیان کیئے جائیں مگرتصوف کے اسرار نااہل کو نہ بتائے جائیں۔دوسرے یہ کہ غیرضروری چیزیں جن کے اظہار سے فتنہ پھیلتا ہو ہرگز ظاہر نہ کی جائیں۔تیسرے یہ کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے حبیب کو علوم غیبیہ عطا فرمائے،حضور کے ذریعہ صحابہ کرام کوبھی،جب حضرت ابوہریرہ کے علم کا یہ حال ہے کہ حضرت خلفائے راشدین کے علوم تو ہماری سمجھ سے بالا ہیں۔