أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ سُنَنٌ ۙ فَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ

ترجمہ:

بیشک تم سے پہلے (قانون قدرت کے) طریقے گزر چکے ہیں سو تم زمین میں چل پھر دیکھ لو (کہ پیغمبروں کو) جھٹلانے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا

تفسیر:

ربط آیات :

اس سے پہلے مسلمانوں کی وہ لغزشیں بیان فرمائیں تھیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کو جنگ احد میں شکست ہوئی تھی اور آئندہ کے لیے اس قسم کے کاموں سے منع فرمایا تھا ‘ اور ایسے کاموں کی ترغیب دی تھی جن کے کرنے سے مسلمان اپنے شجاعت کے جوہر دکھائیں اور جہاد میں کافروں کے خلاف فتح حاصل کریں ‘ اب اس سلسلہ میں مزید ہدایت دینے کے لیے فرمایا ہے جو لوگ اسلام کی صداقت کے متعلق شکوک اور شبہات کا شکار ہیں وہ زمین میں چل پھر کر دیکھ لیں کہ جن لوگوں نے گذشتہ زمانوں میں اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی وہ کس طرح عذاب الہی میں گرفتار ہوئے اور اب بھی مختلف علاقوں میں ان پر کیے ہوئے عذاب کے آثار موجود ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور معصیت سے توبہ کرنے والوں سے مغفرت اور جنت کا وعدہ فرمایا تھا ‘ اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ پچھلی امتوں میں سے اطاعت گزاروں اور نافرمانوں کے احوال اور آثار کا مشاہدہ کرو تاکہ اللہ کی اطاعت کرنے اور اس کی معصیت سے بچنے کی مزید ترغیب اور تحریک ہو۔

قرآن مجید میں سنت کا مفہوم :

اس آیت میں فرمایا ہے کہ تم سے پچھلی امتوں میں اللہ کی اطاعت کرنے سے انحراف کرنے والوں اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے متعلق اللہ کا طریقہ گزر چکا ہے کہ وہ کافروں اور مکذبوں پر کس طرح عذاب نازل کرتا رہا ہے اس لیے تم اللہ کی نافرمانی اور اس کے رسول کی تکذیب سے باز رہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی یہ عذاب آجائے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں تم سے پہلے سنتیں گزر چکی ہیں سو تم زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا برا انجام ہوا ‘ ” سنن “ سنت کی جمع ہے سنت کا معنی ہے طریقہ اور عادت ‘ اور اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قوموں کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے ‘ اگر ایک قوم اللہ کو مان لیتی ہے اور اس کے رسول کی تصدیق کرتی ہے اور اس کے احکام کی اطاعت کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو دنیا میں سرخرو اور کامیاب کرتا ہے اور اس کے برعکس جو قوم اللہ کو نہیں مانتی اور اس کے رسول کی تکذب کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر عذاب بھیج کر اس کو تباہ اور برباد کردیتا ہے ‘ اس سنت کے مظاہر عاد ‘ ثمود ‘ اہل مدین اور قوم لوط وغیرہ کے آثار کی شکل میں موجود تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان ہی مظاہر کو یہاں ” سنن “ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اس مفہوم میں یہ لفظ قرآن مجید میں بار بار استعمال ہوا ہے :

(آیت) ’ سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل “۔ (الاحزاب : ٣٨)

ترجمہ : جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے متعلق اللہ کا طریقہ :

(آیت) ” فھل ینظرون الا سنۃ الاولین فلن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا “۔ (فاطر : ٤٣)

ترجمہ : سو وہ صرف پہلے لوگوں کے طریقہ کا انتظار کر رہے ہیں تو آپ اللہ کے طریقہ میں ہرگز تبدیلی نہیں پائیں گے۔

(آیت) ” سنۃ اللہ التی قد خلت فی عبادہ وخسر ھنالک الکافرون “ (المؤمن : ٨٥)

ترجمہ : یہ وہ طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا ‘ اور وہاں کافروں نے سخت نقصان اٹھایا۔

قرآن مجید میں سنت اللہ کا لفظ جس مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس کو بیان کرنے کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ سنت کا لغوی اور اصطلاحی معنی بھی بیان کردیں۔

سنت کا لغوی اور اصطلاحی معنی : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

سنت کا معنی ہے طریقہ ‘ سنت النبی کا معنی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ طریقہ جس کا آپ قصد کرتے تھے اور سنت اللہ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی حکمت کا طریقہ جیسے فرمایا (آیت) ” سنۃ اللہ التی قد خلت فی عبادہ “ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا طریقہ جیسے فرمایا (آیت) ” ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا “۔ اس میں یہ تنبیہ ہے کہ احکام شرعیہ ہرچند کہ صورۃ مختلف ہوتے ہیں لیکن ان کی غرض مقصود مختلف نہیں ہے اور وہ تبدیل نہیں ہوتی اور وہ نفس کو پاکیزہ کرنا اور اس کو اللہ کے قرب اور اس کے ثواب کے قابل بنانا ہے (المفردات ص ٢٤٥‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ ابن اثیر جزری متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

لغت میں سنت کا معنی طریقہ اور سیرت ہے اور شریعت میں اس سے مراد ہے جس چیز کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہو یا اس سے منع کیا ‘ یا جس قول اور فعل کو مستحب قرار دیا ہو ‘ اور قرآن مجید میں ان امور کا ذکر نہ آیا ہو ‘ اسی لیے دلائل شرع میں قرآن اور سنت کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ حدیث میں ہے میں بھول جاتا ہوں تاکہ میں اس کو سنت کر دوں ‘ یعنی مجھ پر اس لیے نسیان طاری کیا جاتا ہے کہ میں لوگوں کو طریق مستقیم کی طرف لاؤں اور ان کو یہ بیان کروں کہ جب ان کو نسیان عارض ہو تو وہ کس طرح عمل کریں۔ (نہایہ ج ٢ ص ٤١٠۔ ٤٠٩ مطبوعہ مؤسسۃ مطبوعاتی ایران ‘ ١٣٦٤ ھ)

علامہ میرسید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں :

لغت میں سنت کا معنی ہے طریقہ خواہ پسندیدہ طریقہ ہو یا غیر پسندیدہ ‘ اور شریعت میں اس کا معنی ہے وہ طریقہ جو دین میں مقرر کیا گیا ہے ‘ جو فرض ہے نہ واجب ‘ لہذا سنت وہ ہے جس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دائما عمل کیا ہو اور کبھی کبھی ترک بھی کیا ہو ‘ اور اگر یہ دوام بہ طور عبادت ہو تو سنن ھدی کی قسم ہے ہے اور اگر یہ دوام بہ طور عادت ہو تو یہ سنن زوائد کی قسم سے ہے ‘ سنت ھدی وہ سنت ہے جس کو قائم کرنا دین کی تکمیل کے لیے ہو اور اس کا ترک کرنا کراہت یا اساءت ہو ‘ اور سنت زائدہ وہ سنت ہے جس پر عمل کرنا نیکی ہو اور اس کے ترک سے کراہت یا اساءت کا تعلق نہ ہو ‘ جیسے کھڑے ہونے ‘ بیٹھنے لباس پہننے اور کھانے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنتیں ہیں۔

نیز علامہ میر سید شریف لکھتے ہیں :

لغت میں سنت کا معنی ہے عادت اور شریعت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال ‘ افعال اور تقریرات کو سنت کہتے ہیں اور جن کاموں پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلاوجوب دوام کیا ہو ان کو بھی سنت کہتے ہیں ‘ اس کی دو قسمیں ہیں ‘ سنن ھدی اور سنن زوائد ‘ سنت ھدی جیسے اذان اور اقامت ان کو سنت موکدہ بھی کہتے ہیں ‘ ان کا حکم واجب کی طرح ہے اور واجب کی طرح اس پر عمل کا مطالبہ کیا جائے گا ‘ مگر واجب کا تارک سزا کا مستحق ہے اور اس کا تارک سزا کا مستحق نہیں ہے اور سنن زوائد جیسے اکیلے آدمی کا اذان دینا اور مسواک کرنا اور وہ افعال جو نماز اور غیر نماز میں معروف ہیں اور اس کا تارک سزا کا مستحق نہیں ہے۔ (التعریفات ص ٥٤۔ ٥٣‘ مطبوعہ المطبعہ الخیریہ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ میر سید شریف نے سنت زائدہ کی جو پہلے تعریف لکھی ہے وہ صحیح ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 137