أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ يَّمۡسَسۡكُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُهٗ ‌ؕ وَتِلۡكَ الۡاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيۡنَ النَّاسِۚ وَلِيَـعۡلَمَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَيَتَّخِذَ مِنۡكُمۡ شُهَدَآءَ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَۙ

ترجمہ:

اگر تم زخمی ہوئے ہو تو تمہارے مخالف لوگ بھی اسی طرح زخمی ہوئے ہیں اور ہم لوگوں کے درمیان ایام (کی تنگی اور کشادگی) کو گردش دیتے رہتے ہیں تاکہ اللہ ایمان والوں کو چھانٹ کر الگ کرلے اور تم میں سے بعض لوگوں کو مرتبہ شہادت دے اور اللہ ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تم زخمی ہوئے ہو ‘ تو تمہارے مخالف لوگ بھی اسی طرح زخمی ہوئے ہیں اور ہم لوگوں کے درمیان ایام (کی تنگی اور کشادگی) کو گردش دیتے رہتے ہیں تاکہ اللہ ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے بعض لوگوں کو مرتبہ شہادت دے اور اللہ ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (آل عمران : ١٤٠) 

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جنگ احد میں مسلمانوں کے زخمی ہونے ‘ اور قتل ہونے سے تم کیونکر کمزوری دکھاؤ گے اور غم کھاؤ گے اگر تم میں سے بعض زخمی ہوئے ہیں اور بعض قتل ہوئے ہیں تو جنگ بدر میں تمہارے دشمنوں کو اس سے زیادہ ہزیمت اٹھانی پڑی تھی ان کے بھی اسی قدر افراد قتل ہوئے تھے اور اس سے زیادہ زخمی ہوئے تھے اور جنگ تو کنوئیں کے ڈول کی طرح ہے۔ کبھی ایک کے ہاتھ آتی ہے اور کبھی دوسرے کے ہاتھ۔ ایک دن تمہارا ہے ‘ ایک ان کا ہے ‘ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ کسی دن حق کا غلبہ ہوتا ہے اور کسی دن (بظاہر) باطل کا ‘ اور حق اور باطل کے درمیان اسی طرح ایام گردش کرتے رہتے ہیں اور اسی گردش ایام کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے علم کو ظاہر کردیتا ہے جو اللہ کے لیے اپنی جان اور مال کو نچھاور کردیتے ہیں ‘ پھر اللہ تعالیٰ شہداء کو موت کے بعد حیات عطا فرماتا ہے اور شہداء کو رزق دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کا درجہ انبیاء اور صدیقین کے ساتھ رکھا ہے اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے۔ 

شہید کی تعریف ‘ اس کا شرعی حکم اور اس کی وجہ تسمیہ : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مرتبہ شہادت عطا فرمانے کا ذکر فرمایا ہے ‘ اور فرمایا ہے تاکہ تم میں سے بعض مومنوں کو شہداء بنادے۔ شہداء ‘ شہید کی جمع ہے۔ شہید اس مسلمان کو کہتے ہیں جو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے ‘ یا جس مسلمان کو ظلما قتل کیا جائے ‘ ان دونوں کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر یہ اسی حادثہ میں جان بحق ہوجائیں اور کسی علاج اور دوا دارو کی نوبت نہ آئے تو ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی لیکن غسل نہیں دیا جائے گا نہ کفن پہنایا جائے گا ان کو اسی طرح دفن کردیا جائے گا ‘ اور اگر یہ معرکہ کارزار سے زخمی ہو کر آئیں اور علاج کے بعد جاں بحق ہوجائیں تو پھر ان کو غسل دیا جائے گا اور کفن بھی پہنایا جائے گا پھر نماز جنازہ پڑھنے کے بعد ان کو دفن کردیا جائے گا اور جو مسلمان کسی طرح بھی غیر طبعی طریقہ سے جان بحق ہوجائے خواہ جل کر ’ ڈوب کر ‘ کسی بھی حادثہ میں ‘ یا وہ مسلمان کسی نیک کام کرتے ہوئے یا کسی نیکی کے سلسلہ میں طبعی طور پر فوت ہو یا کسی بیماری میں فوت ہو تو وہ بھی احادیث کی روشنی میں شہید ہے اس کو شہادت اجر ملے گا لیکن اس کی تجہیز و تکفین عام مسلمانوں کے طریقہ سے ہوگی۔ 

اللہ کی راہ میں مرنے والے کو حسب ذیل وجوہ سے شہید کہا جاتا ہے : 

(١) اللہ تعالیٰ نے اس کے حق میں جنت کی شہادت دی ہے۔ 

(٢) قیامت کے دن وہ انبیاء اور صدیقین کے ساتھ گواہی کے لیے طلب کیے جائیں گے۔ 

(٣) جس طرح کافر مرتے ہی دوزخ میں داخل ہوتا ہے ‘ اسی طرح شہید قتل ہوتے ہی جنت میں شاہد (حاضر) ہوجاتا ہے یا قتل ہوتے ہی اس کے سامنے جنت پیش کردی جاتی ہے۔ 

(٤) شہید زندہ ہوتا ہے اور اس کی روح جنت میں شاہد اور موجود ہوتی ہے ‘ جبکہ دوسرے مسلمانوں کی ارواح قیامت کے دن جنت میں موجود ہوں گی۔ 

(٥) اس کی روح جسم سے نکلتے ہی اس اجر وثواب پر شاہد ہوجاتی ہے جو اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ 

(٦) شہادت کے وقت رحمت کے فرشتے اس کے پاس موجود ہوتے ہیں جو اس کی روح کو لے جاتے ہیں۔ 

(٧) شہید کا شہید ہونا اس کے ایمان کے صحیح ہونے اور اس کے خاتمہ بالخیر پر شہادت دیتا ہے۔ 

(٨) شہید کے شہید ہونے پر اس کا خون اور اس کے زخم شاہد اور گواہ ہوتے ہیں۔ 

شرح صحیح مسلم جلد خامس کے اخیر میں ہم نے حکمی شہادت کی پینتالیس قسمیں بیان کی ہیں اور ہر قسم کے ثبوت میں احادیث بیان کی ہیں اور شہادت کے دیگر علمی مباحث بھی بیان کیے ہیں ‘ شہادت کے اجرو ثواب اور اس کی فضیلت کا بیان وہاں طوالت کی وجہ سے ذکر نہیں کیا گیا اس کو ہم انشاء اللہ آل عمران : ١٦٩ کی تفسیر میں بیان کریں گے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 140