حدیث نمبر :264

روایت ہے حضرت حذیفہ سے ۱؎ آپ نے فرمایا اے قاریوں کے گروہ سیدھے رہو کیونکہ تم بہت ہی پہلے ہو۲؎ اگر تم ہی الٹے سیدھے ہوگئے تو تم بڑی گمراہی میں پڑجاؤ گے۳؎ (بخاری)

شرح

۱؎ آپ کا نام حذیفہ ابن یمان ہے،کنیت ابوعبداﷲ،آپ کے والد یمان کا نام جمیل تھا،لقب یمان،آپ حضور کے صاحب اسرارصحابی ہیں،آپ کو منافقین اورقیامت،ایک ایک فتنہ کا علم تھا،آپ کا وصال ۳۵ھ؁ یا ۳۶ھ؁ میں حضرت عثمان غنی کی شہادت کے بعد مدائین میں ہوا،وہیں آپ کا مزار ہے۔(اکمال ،اشعۃ اللمعات)

۲؎ یعنی اے علماءصحابہ و تابعین تم عقائد اور اعمال میں درست رہو کیونکہ سارے مسلمانوں سے تم پہلے ہوجیسے تم ہو گے ویسے بعد کے مسلمان ہوں گے،وہ تمہارےنقش قدم پرچلیں گے اورتمہاری نقل کریں گے۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں علی العموم علماءقاری بھی ہوتے تھے اسی لیئے انہیں”قراء”فرمایا گیا۔صوفیاءفرماتے ہیں کہ ایک استقامت ہزارکرامتوں سےبہتر ہے۔حضرت شیخ نے فرمایا کہ اس کے معنے ہیں اے صحابہ!تم سارے مسلمانوں سے افضل ہو کہ کوئی شخص کتنا ہی عمل کرے تمہارےگرد قدم کو نہیں پہنچ سکتا،لہذا تمہارے اعمال سب سے اعلٰی چاہئیں۔

۳؎ یعنی اگرتمہارے عقائد یا اعمال غلط ہوگئے تو تمہیں دیکھ کر ساری امت گمراہ ہوجائے گی لہذا تمہاری غلطی بڑی خطرناک ہے۔