حدیث نمبر :265

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ غم کے کنوئیں سے اﷲ کی پناہ مانگو لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ غم کا کنوآں کیا ہے فرمایا دوزخ میں ایک جنگل ہے جس سے خود دوزخ روزانہ چار سو بار پناہ مانگتی ہے ۱؎ (۴۰۰)عرض کیا گیا یارسول اﷲ اس میں کون جائے گا؟فرمایا اپنے اعمال میں دکھلاوا کرنے والے قاری۲؎ اسے ترمذی نے روایت کیا یوں ہی ابن ماجہ نے اس میں یہ زیادہ ہے کہ خدا کو بہت ناپسند وہ قاری ہیں جو امیروں کی ملاقاتیں کرتے ہیں محاربی ظالم امیروں کی ۳؎

شرح

۱؎ یہ حدیث بالکل اپنے ظاہر پرہے چونکہ وہ جنگل بہت گہرا ہے اور وہاں سوائے غم کے اور کچھ نہیں اس لیئے اسےغم کاکنوآں فرمایا گیا۔دوزخ کی چارحدودہیں،ہرحد روزانہ سوبار اس وادی سے پناہ مانگتی ہے یاتو وہاں پر مقررکردہ فرشتہ زبانیہ اس سے پناہ مانگتے ہیں یا خود دوزخ کی آگ،ہر چیز میں شعور ہے جس سے وہ جانتی و پہچانتی ہے۔خیال رہے کہ جیسے دنیا کی آگوں کی گرمی مختلف ہے،گھاس پھوس کی آگ کم گرم،ببول کی آگ بہت تیز،پٹرول سپرٹ کی آگ اور زیادہ تیز،بعض آگ لوہا و فولاد گلا دیتی ہے ایسے ہی دوزخ کی آگ بھی مختلف ہے۔

۲؎ یعنی وہ بے دینی علماء جو اچھے اعمال کے لباس میں لوگوں کے سامنے آئیں اور لوگوں کو گمراہ اور بے دین بنائیں۔

۳؎ تاکہ ان سے دولت لےکر ان کی بدکاریوں کو جائز ثابت کریں اورظلم میں ان کے مددگار ہوں بلکہ چاپلوس عالم بھی خطرناک ہیں جو ہرجگہ پہنچ کر وہاں جیسا بن جائے۔ہمارا اﷲ،نبی،قرآن وکعبہ ایک،دین بھی ایک ہونا چاہئیے۔