خشیت الٰہی اور ہمارے شب و روز

محمد ضیاء الرحمن علیمی قادری

خوف خداوندی ،خشیت الٰہی ایک ایسی سرمدی اور لازوال نعمت ہے کہ آب و گل کی منزلیں طے کرکے خوبصورت وجودپانے والایہ انسان جب اس نعمت سے نواز دیا جاتا ہے تو یہ خاکی ہوتے ہوئے بھی خاکی نہیں رہ جاتا ،بلکہ وہ ملکوتی صفات کا پیرہن زیب تن کرلیتا ہے اور پھر اس پر ہمیشہ استغراقی کیفیت طاری ہوتی رہتی ہے ، وہ ہمہ وقت یاد الٰہی میں مگن ،ذکرو فکرِ حق میں مگن اور الٰہی سوچ میں غلطاں و پیچاں رہتا ہے ،اس بو قلمونی دنیا کی رنگینیاں اس کی متنوع ثقات ، اس کی مختلف تہذیب ، اس کے طرزعمل اس کے طور طریقے ، اور اس کے انداز بود و باش پر اثر انداز نہیں ہوتی ، کیونکہ خشیت الٰہی کی یہ مقدس چادر اس کو دنیا کی عریانیت و فحاشیت اور اس کو حیوانیت میں ملوث ہونے سے بچالیتی ہے اور وہ انسان کامل بن کر کشت حیات میں آخرت کی فصل اُگانے میں شب و روز مصروف رہتا ہے ۔

انبیاء کرام علیہم السلام کا تو پوچھنا ہی کیا وہ تو خشیت خداوندی کے ایسے پیکر تھے کہ کوئی بھی ان کی ہمسری نہیں کرسکتا ۔اور کوئی کر بھی کیسے سکتا ہے جب کہ اس راہ میں توفیق الٰہی مسلسل ان کے ہم رکاب تھی ،لیکن اگر ہم صحابۂ کرام کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں اور ان کے احوال زندگی سے آشنائی حاصل کریں تو یہ بات ہم پر اعیانِ ثابتہ کی طرح واضح ہوجائے گی کہ بندگان خدا کی اس مقدس جماعت کی زندگیاں،ان کے روزو شب، خوف الٰہی ، زہدو تقویٰ کے بے مثال نمونوں سے بھری پڑی ہیں ،بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کی زندگیوں کا مطالعہ اس نیت سے کریں کہ ہمیں بھی ان کے نقوش قدم پر چل کر اخروی سعادت سے سرفراز ہونا ہے ۔کیوں کہ بقول شاعر ؎

ان کا سایہ اک تجلی ان کا نقش پا چراغ

وہ جدھر گئے روشنی ہوتی گئی

خوشی کا موقع ہو یا غم واندوہ کا،ابتلاء وآزمائش کا زمانہ ہو یا آفت وناگہانی مصیبتوں کے نزول کا دور ،ہر زمانہ ،ہر وقت میں یہ مقدس جماعت عذاب الٰہی سے لرزاں وترساں نظر آتی ہے ،چنانچہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بار گا ہ میں حاضر ہوکر ایک مرتبہ حضرت نضر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول کے مقدس صحابی !کیا سرکار دوعالمﷺ کے زمانے میں بھی دن میں اندھیرا چھا جایا کرتا تھا ؟تو اس پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ خداکی پناہ!حضورا کے زمانے میں تو ذرا سی ہوا تیز ہو جاتی تو ہم لوگ قیامت کے آجانے کے خوف سے مسجدوں کی طرف دوڑ جاتے تھے ۔(جمع الفوائد)

یوں ہی حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو باجماع اہل سنت ،جماعت انبیاء کے بعد سرخیل گروہ انسانیت ہیں اور ان کا جنتی ہونا قطعی اور یقینی دلائل سے ثابت ہے ،ان کے متعلق توروایتیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ آپ ہمیشہ خشیت الٰہی میں گرفتار رہا کرتے ،چنانچہ روایتوں میں آتا ہے کہ آپ فرمایا کرتے،کاش میں کوئی گھاس ہوتا کہ جانور مجھ کو کھا لیتے ،ایک مرتبہ ایک جانور کو بیٹھا ہوا دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھری اور فرمایا تو کس قدر لطف وآسائش میں ہے کہ کھاتا ہے،پیتا ہے،درختوں کے سائے میں پھرتا ہے اور آخرت میں تجھ پر کوئی حساب وکتاب نہیں ،کاش !ابو بکر بھی تجھ جیسا ہوتا ۔ (تاریخ خلفاء)

ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کی کچھ ترش کلامی ہوگئی ، اور آپ نے حضرت اسلمی کو کوئی ناگوار جملہ کہہ دیا ،تو فورا ًآپ نے ان سے فرمایا کہ تو بھی مجھے ویسا ہی جملہ کہہ دے تا کہ بدلہ ہوجائے،لیکن انہوں نے کہنے سے انکار کردیا ،تو آپ نے فرمایا کہ بدلے میں کوئی جملہ کہہ دو ورنہ میں آقائے دوجہاں کی بار گاہ میں اس معاملہ کو عرض کردوں گا ،لیکن اس کے باوجود جب وہ اپنے فیصلہ پر اٹل رہے تو آپ اٹھ کر چلے گئے ،تھوڑی دیر بعد بنو اسلم کے کچھ افراد آگئے اور کہنے لگے کہ یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ خود ہی زیادتی کی اور خود ہی سرکار دوجہاں ا سے شکایت کی دھمکی بھی دے دی ،اس پر حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم جانتے نہیں،یہ کون ہیںیہ ابوبکر صدیق ہیں،اگر یہ خفا ہوگئے تو اللہ کے لاڈلے رسول ﷺ مجھ سے خفا ہوجائیں گے ،اور جب محبوب دوعالمﷺناراض ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کا غضب یقینی ہوجائے گا اور پھر ربیعہ کی ہلاکت میں شک وشبہہ کی کوئی گنجائش نہیں رہ جائے گی اس کے بعد انہوں نے سرکار دوعالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر سارا ماجرا بیان کردیا ،تو سرکار ابد قرارﷺنے ارشاد فرمایا،ٹھیک ہے،تمہیں جواب بدلے کے طور پر نہیں کہنا چاہییٔ،البتہ اس کے بدلے میں یوں کہنا چاہییٔ،اے ابو بکر اللہ تمہیں معاف فرمائے۔

حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت سے کون سا مسلمان واقف نہیں،آپ ان خوش قسمت صحابۂ کرام میں ہیں جن کو دنیا ہی میں نوید جنت سنادی گئی،لیکن اس کے باجود آپ کے بارے میں کتب سیر ومغازی اس بات کی شاہد عدل ہیں کہ آپ بسااوقات تنکا ہاتھ میں لے کر فرماتے کاش میں تنکا ہوتا ،کبھی فرماتے کاش میری ماں نے جنا ہی نہ ہوتا ،صبح کی نماز میں اکثر سورئہ کہف ، سورئہ طہٰ جیسی بڑی سورتیں تلاوت فرماتے اور اس قدر روتے کہ کئی کئی صفوں تک آواز پہونچتی تھی ،ایک مرتبہ صبح کی نماز میں سورئہ یوسف کی تلاوت فرمارہے تھے ،جب آیت’’انما اشکو بثی وحزنی الی اللہ‘‘(میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں)پر پہونچے تو اس قدر روئے کہ آواز نکلنی بند ہوگئی،یوں ہی تہجد کی نماز میں روتے روتے گر جاتے اور بیمار ہوجاتے ۔ایک مرتبہ آپ کسی کام میں مصروف تھے،ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا فلاں شخص نے مجھ پر ظلم کیا ہے ،آپ چل کر مجھے بدلہ دلوا دیجئے ،آپ نے اس کو ایک دُرہ مار کر فرمایا کہ جب میں اس کام کے لئے بیٹھتا ہوں اس وقت تو آتے نہیں،جب میں دوسرے کاموں میں مشغول ہوجاتا ہوں تو شکایتیں لے کر آتے ہو اور کہتے ہو کہ چل کر بدلہ دلوادیجئے ؟وہ شخص مایوس چلا گیا ، پھر آپ نے آدمی بھیج کر اس انسان کو بلوایا اور اس کے ہاتھ میں دُرہ تھما کر فرمایا کہ بدلہ لے لو ،اس نے عرض کیا کہ میں نے اللہ کے واسطے معاف کیا ،پھر آپ گھر تشریف لائے ،دورکعت نماز پڑھی اور پھر اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اے عمر تو کمینہ تھا اللہ نے تجھ کو اونچا کیا ،تو گمراہ تھا اللہ نے تجھ کو ہدایت دی،تو ذلیل تھا اللہ نے تجھے عزت دی ،پھر لوگوں کا بادشاہ بنایا ،اب ایک شخص آکر کہتا ہے کہ مجھے ظلم کا بدلہ دلوادے،تو تو اس کو مارتا ہے ،کل قیامت کے دن کیا جواب دے گا اور پھر اسی طرح بڑی دیر تک اپنے آپ کو ملامت کرتے رہے ۔ (اسد الغابۃ)

حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات سے کون آشنا نہیں،آپ حبر الامۃ ،سید المفسرین کے معزز القاب سے یاد کئے جاتے ہیں ،سرکار دوعالمﷺنے آپ کے حق میں یہ دعا فرمائی ’’اللھم علمہ التاویل‘‘خلفائے راشدین میں حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی صغر سنی کے باوجود بڑا احترام فرمایا کرتے تھے،اور کبار صحابۂ کرام کی بارگاہوں میں عزت واحترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔لیکن ان تمام دینی شرف کے باوجود آپ خوف خدا سے اس قدر روتے تھے کہ چہرہ پر آنسوئوں کے ہر وقت بہنے کی وجہ سے دو نالیاں سی بن گئی تھیں۔حضرت وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ ظاہری بینائی سے محرومی کے بعد ایک مرتبہ میں آپ کو لئے جارہا تھا ،آپ مسجد حرام تک تشریف لے گئے ،وہاں ایک مجمع سے کچھ جھگڑے کی آواز آرہی تھی ،اس پر آپ نے فرمایا مجھے اس مجمع کی طرف لے چلو ،میں انہیں اس طرف لے گیا ،وہاں پہونچ کر آپ نے سلام کیا ،ان لوگوں نے بیٹھنے کی درخواست کی تو آپ نے انکار فرمایا اور ارشاد فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ کے خاص بندے وہ لوگ ہیں جن کو خوف الٰہی نے خاموش کر رکھا ہے ،حالانکہ نہ وہ عاجز ہیں اور نہ وہ گونگے ،بلکہ فصیح لوگ ہیں، بولنے والے ہیں،سمجھ دار ہیں ،مگر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے ذکر نے ان کی عقلوں کو اُڑا رکھا ہے ،ان کے دل اس کی وجہ سے ٹوٹے رہتے ہیں اور زبانیں چپ رہتی ہیں اور جب اس حالت پر ان کو پختگی میسر ہوجاتی ہے ،تو اس کی وجہ سے نیک کاموں میں وہ جلدی کرتے ہیں ،تم لوگ ان سے کہاں ہٹ گئے؟ حضرت وہب کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے دو آدمیوں کو بھی ایک جگہ جمع نہیں دیکھا ۔

حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابۂ کرام کی جماعت میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں ،غسیل الملائکہ آپ کا لقب ہے،آپ بھی ہمیشہ اللہ کے خوف سے سرشار رہتے،خود فرماتے ہیں،ایک مرتبہ ہم لوگ حضورﷺکی مجلس میں تھے ،حضورﷺ نے ایسا وعظ فرمایا کہ دل نرم پڑ گئے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ،اپنی حقیقت ہم پر ظاہر ہوگئی ، سرکارﷺکی مجلس پاک سے اٹھ کر جب میں گھر آیا ،بچے پاس آگئے، کچھ دنیا کا تذکرہ چھڑ گیا اور بچوں کے ساتھ ہنسنا اور بولنا شروع کردیا ، مذاق اور دل لگی کا دور چل پڑا ،اور وہ حالت جاتی رہی جو حضورﷺکی مجلس میں تھی ،اچانک خیال آیا کہ میں پہلے کس حال میں تھا ،اور اب کس حال میں ہوں ،میں نے اپنے دل میں کہا کہ تو تو منافق ہوگیا، حضورﷺکی بارگاہ میں تو وہ حالت تھی ؟اور اب گھر آکر دوسری حالت ہوگئی؟ میں اس پر افسوس کرتا یہ کہتا ہوا نکل پڑا کی حنظلہ تو منافق ہوگیا ، سامنے سے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لارہے تھے،میں نے ان سے عرض کیا کہ حنظلہ تو منافق ہوگیا ،وہ یہ سن کر فرمانے لگے سبحان اللہ !کیا کہہ رہے ہیں؟ہرگز نہیں،میں نے پوری صورت حال سے آگاہ کیا کہ ہم لوگ جب سرکارﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ،اور حضورﷺجنت وجہنم کا تذکرہ فرماتے ہیں تو ہم لوگ ایسا ہوجاتے ہیں گویا وہ دونوں ہمارے سامنے ہیں ،اور حضورﷺکے پاس سے لوٹ جاتے ہیں تو بیوی بچوں اور جائداد وغیرہ کی فکر میں اس سے غافل ہوجاتے ہیں،اس پر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایسا تو ہمارے ساتھ بھی پیش آتا ہے ،چنانچہ ہم دونوں سرکارﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور میں نے عرض کیا کہ جب ہم لوگ آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں اور آپ جنت ودوزخ کا تذکرہ فرماتے ہیں تو ہم ایسے ہوجاتے ہیں گویا وہ دونوں ہمارے سامنے ہیں ،اور جب آپ کی بارگاہ سے لوٹ جاتے ہیں تو دنیا میں پھنس کر اسے بھول جاتے ہیں،یہ تو منافقت ہے تو حضورﷺنے ارشاد فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر تمہارا ہر وقت وہی حال رہے جیسا میرے سامنے ہوتا ہے تو فرشتے تمہارے بستروں اور راستوں میں مصافحہ کرنے لگیں۔

(مسلم ،احیاء العلوم)

حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بھی روایتوں میں آتا ہے کہ آپ خشیت الٰہی میں بہت رویا کرتے تھے یہاں تک کہ روتے روتے آپ کی آنکھیں بیکار ہوگئی تھیں،کسی شخص نے ایک مرتبہ دیکھ لیا تو فرمانے لگے تم میرے رونے پر تعجب کرتے ہو اللہ کے خوف سے سورج بھی روتا ہے۔یوں ہی حضرت سیدنا زرارہ بن اوفٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے ،جب آیت کریمہ ’’فاذا نقر فی الناقور‘‘(پھر جب صور پھونکا جائے گا) پر پہونچے تو فورا گرگئے اور روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔

یہ وہ چند صحابۂ کرام ہیں جن کی حیات طیبہ سے خوف الٰہی کے چند نمونے پیش کئے گئے ،یہ حضرات تقویٰ،دین داری،پابندیٔ شرع کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے ،یہ اس مقدس جماعت کی خشیت کا حال ہے جن کے متعلق خود قرآن کریم کا ارشاد ہے’’واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تریٰ أعینھم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق ۔یقولون ربنا آمنا فاکتبنا مع الشٰھدین‘‘اور جب وہ سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوئوں سے ابل رہی ہیں ،اس لئے کہ وہ حق پہچان گئے ۔کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے ،تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے ۔ (کنزالایمان) جن کے متعلق قرآن کریم ایک دوسرے مقام پر یوں گویا ہے ’’اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا مثانی تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ ‘‘اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے ،دوہرے بیان والی ،اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ،پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑ تے ہیں یاد خدا کی طرف رغبت میں ۔

(کنز الایمان)

یہ وہی مقدس جماعت ہے جو ’’قد افلح المومنون الذین ھم فی صلاتھم خاشعون‘‘(مراد پہونچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں)کی عملی تصویر تھی ،یہ وہ لوگ ہیں جو کلمۂ حق کی سر بلندی کے لئے دن میں مصروف جہاد رہا کرتے تھے ،اور راتوں کو اپنی جبین نیاز اپنے خالق ومالک کے حضور خم کرکے یہ مناجات کیا کرتے تھے۔ ؎

میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی

میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی

یہ وہی جماعت ہے جس کے متعلق سرکار دوجہاںا کا فرمان عالیشان ہے ،اللہ اللہ !میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں،جن کی بھی پیروی کرلو گے راہ یاب ہوجائوگے ،لیکن دوسری طرف ہم ہیں اور ہماری زندگیاں ہیں ،جو عصیاںشعاری سے عبارت ہیں،ہمیں عملی اعتبار سے کوئی دینی شرف حاصل نہیں ،خیر کی کسی آیت کے ہم مصداق نہیں،لیکن پھر بھی ہم اپنی عصیاں شعاری پر نازاں ہیں ،فکر فرداسے لاپروا،ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان آیتوں سے ہمارا ایمان رخصت ہو چکا ہے جن میں دردناک عذاب کی خبر دی گئی ہے ،آسمانی آفتیں ، ناگہانی حوادث بھی ہمارے قلوب کو جھنجھوڑ نے میں کامیاب نہیںہو پارہے ہیں،دنیا کے مختلف خطوںسے زلزلوںکی خبریںآتی ہیںہم بڑے ذوق وشوق کے ساتھ ان خبروں کی تلاوت تو کرلیتے ہیں لیکن ان کی سلوٹوں میں پوشیدہ عبرتوں کو حرزجاں نہیں بناتے ،عالمی طور پر تبدیلیٔ موسم کی خبریں سنتے آرہے ہیں لیکن اس کی گہرائیوں تک پہونچنے کی کوشش نہیں کرتے ،آخر ہمارے دلوں کو کیا ہوگیا ہے؟ یہ نرم کیوں نہیں پڑتے؟ ہمارے سینوں میں تو دھڑکتا ہوا دل ہے ،قرآن پتھروں کے متعلق شہادت دیتا ہے کہ کچھ پتھروں سے نہریں پھوٹ پڑتی ہیں،کچھ سے پھٹ کر پانی بہنے لگتا ہے ،اور کچھ اللہ تعالیٰ کے خوف سے گرجاتے ہیں لیکن ہمارے دل نرم نہیں پڑتے جن میں حیات کی دھڑکنیں موجود ہیں ،آخر سبب کیا ہے ؟ کیا ہمارے اسلاف کی خشیت کے وہ زرین واقعات جو انسانیت کے ماتھے کے جھومر ہیں اب صرف تاریخ کی کتابوں میں پڑھے جائیں گے ؟ ہم ان واقعات کی عملی تصویر بن کر تاریخ کے صفات میں خشیت الٰہی کے نئے باب کا اضافہ نہیں کر سکتے؟

ہاں یقینا ہم کرسکتے ہیں ،ہم ان کے سچے جانشین بن کر دکھا سکتے ہیں اور آج بھی ہم خوف الٰہی ،ایمانی عزم وحوصلہ سے دنیا کی تمام اسلام مخالف طاقتوں کو زیر کرسکتے ہیں ،بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی سیرتوں کو اپنی زندگی کا اٹوٹ حصہ قراردے دیں اور ان کے اقوال وافعال کو اپنی زندگیوں میں اتار لیں ،یہ دنیا کی ساری طاقتیں اسی طرح مسخر ہوجائیں گی جس طرح ان کے تابع فرمان ہو گئیں تھیں،قرآن کی آیت آج بھی مسلمانوں کو بآواز بلند پکار رہی ہے ’’سستی وکاہلی نہ کرواورغم نہ کھائوتمہیںغالب رہوگے اگرمومن کامل ہو‘‘۔

خدارا! اٹھیئے!اور خشیت الٰہی سے آراستہ ہو کر آسمان رشد وہدایت پر ساون بھادوں بن کر برس جائیے،پیاسی انسانیت کی آنکھیں آب زلال کے انتطار میں پتھرا گئیں ہیں۔للہ!بہت دیر ہوگئی اب دیر نہ کیجئے ،مادیت،اشتراکیت،علمانیت،فاشزم اور کمیونزم کے زخم کاری سے تڑپتی انسانیت کے زخموں پر معرفت الٰہی کا مرہم علاج رکھ دیجئے ،خوف خداوندی کی دوا دے دیجئے ،انسانیت کی گردنیں آپ کے احسان تلے ہمیشہ دبی رہیںگی ؎

انداز بیان گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شایدکہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات