*درس 001: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فَالطَّهَارَةُ لُغَةً، وَشَرْعًا هِيَ النَّظَافَةُ، وَالتَّطْهِيرُ، وَالتَّنْظِيفُ۔

طہارت لغوی اور شرعی اعتبار سے *نظافت* صفائی ستھرائی، *تطہیر* پاک کرنے اور *تنظیف* صاف کرنے کو کہتے ہیں۔

وَإِنَّمَا يَمْتَنِعُ حُدُوثُهَا بِوُجُودِ ضِدِّهَا، وَهُوَ الْقَذَرُ، فَإِذَا زَالَ الْقَذَرُ، وَامْتَنَعَ حُدُوثُهُ بِإِزَالَةِ الْعَيْنِ الْقَذِرَةِ، تَحْدُثُ النَّظَافَةُ۔

طہارت کا وجود ثابت ہونے کیلئے اسکی ضد گندگی یعنی نجاست رکاوٹ ہوتی ہے۔

لہذا اگر عین نجاست کا ختم ہونا ثابت ہوجائے تو طہارت ثابت ہوجائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

بنیادی طور پر طہارت صفائی کو کہتے ہیں۔

اور ہم جانتے ہیں کہ صفائی کا وجود اسی وقت مانا جائے گا جب گندگی یعنی نجاست ختم ہوجائے۔

طہارت، نجاست کی ضد ہے لہذا یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک ہی شے کو طاہر بھی کہا جائے اور نجس بھی۔

علامہ کاسانی نے ایک قابل توجہ بات کہی ہے کہ اگر کوئی ایسی صورت بن جائے کہ نجاست کو زائل کردیا جائے تو فرماتے ہیں طہارت حاصل ہوجائے گی۔

*یہ بہت اہم اصول ہے، طہارت حاصل ہونے/کرنے کے جتنے طریقے ہیں سب اسی اصول کے گرد گھومتے ہیں*

وضو، غسل، کپڑے، برتن اور دیگر چیزوں کو پاک کرنے کے تمام طریقے دیکھ لیجئے، سارے مسائل کو بغور پڑھ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ دراصل نجاست کو کسی نہ کسی طریقے سے ختم کیا جارہا ہوتا ہے۔ اور اسی عمل کا نام طہارت ہے۔

معلوم ہوا،

*طہارت زوال نجاست کا نام ہے*

یہ پہلو بھی یاد ریے کہ،

نجاست ختم کرنے کے لئے نیت نہیں عمل کی ضرورت ہوتی ہے، ہم ہاتھ میں نجس کپڑا لیکر بیٹھ جائیں اور 100 بار پاک ہوجانے کی نیت کریں تو کپڑا نجس ہی رہے گا۔۔۔

یونہی وضو خانہ پر سرجھکاکر پاک ہونے کی نیت کرتے رہیں تو پاکی حاصل نہیں ہوگی۔۔

عمل ہوگا تو طہارت ہوگی ورنہ نہیں۔

اگر نجاست زائل ہوگئی تو ساتھ ہی طہارت بھی حاصل ہوگئی جس میں نیت کو کوئی دخل نہیں۔

لہذا ثابت ہوا طہارت حاصل ہونے کے لئے نیت شرط نہیں۔

*ابو محمد عارفین القادری*