حدیث نمبر :266

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےعنقریب لوگوں پر وہ وقت آئے گا جب اسلام کا صرف نام ۱؎ اورقرآن کا صرف رواج ہی رہ جائے گا۲؎ ان کی مسجدیں آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی۳؎ ان کے علماءآسمان کے نیچے بدترین خلق ہوں گے ان سے فتنہ نکلے گا اور انہیں میں لوٹ جائے گا ۴؎ اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔

شرح

۱؎ اس طرح کہ مسلمانوں کے نام اسلامی ہوں گے اور اپنے کو مسلمان کہتے ہوں گے مگر رنگ ڈھنگ سب کافروں کے سے جیسا آج دیکھا جارہا ہے،یا ارکان اسلام کے نام و شکل تو باقی رہیں گے مگر مقصود فوت ہوجائے گا،نماز کا ڈھانچہ ہوگا خشوع خضوع نہیں،زکوۃ دیں گے مگر قوم پروری ختم ہوجائے گی،حج کریں گے مگر صرف سیر کے لیئے،جہاد ہوگا مگر صرف ملک گیری کے لیئے۔

۲؎ رسم نقش کو بھی کہتے ہیں اور طریقہ کو بھی،یہاں دونوں معنی درست ہیں،یعنی قران کے نقوش کاغذ میں اور الفاظ زبان پر ہوں گے مگر احترام قلب میں اور عمل قالب میں نہ ہوگا یا رسمًا قرآن پڑھایا رکھا جائے گا،کچہریوں میں جھوٹی قسمیں کھانے کے لیئے،اور گھروں میں میت پر پڑھنے کے لیئے،عمل کیلئے عیسائیوں کے قوانین ہوں گے۔

۳؎ یعنی مسجدوں کی عمارت عالی شان،درودیوار نقشیں ،بجلی کی فٹنگ خوب،مگر نمازی کوئی نہیں،ان کے امام بے دین،گویا مسجد میں بجائے ہدایت کے بے دینیوں کا سرچشمہ بن جائے گی،ہر مسجد سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ درس کی آوازیں آئیں گی مگر وہ درس زہر قاتل ہوں گے،جن میں قرآن کے نام پر کفر و طغیان پھیلایا جائے گا۔

۴؎ یعنی بے دین علماءسوء کی کثرت ہوگی جن کا فتنہ سارے مسلمانوں کوگھیرلے گا جیسے دائرے کا خط جہاں سے شروع ہوتا ہے وہیں پہنچ کر دائرہ کومکمل بنادیتا ہے اور ساری سطح کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے ایسے ہی ان کا فتنہ ہوگا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے عالم خراب ہوجائیں گے ورنہ دین مٹ جاتا۔اللہ اس دین اور صلحائے حق کو تاقیامت رکھے گا جو دین کو اصلی رنگ میں باقی رکھیں گے جیسا کہ آج بھی دیکھا جارہاہے۔