أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَيَمۡحَقَ الۡكٰفِرِيۡنَ

ترجمہ:

اور اس لیے کہ اللہ مسلمانوں کو گناہوں سے پاک کر دے اور کافروں کو مٹا دے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس لیے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو گناہوں سے پاک کردے اور کافروں کو مٹا دے۔ (آل عمران : ١٤١) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے ” لیمحص “ اور کافروں کے لیے ” یمحق “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے ‘ محص کا معنی ہے تنقیہ ‘ کسی چیز کو پاک اور صاف کرنا ‘ اور محق کا معنی ہے کمی کرنا یا کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دینا ‘ اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فتح اور شکست کو گردش دیتا رہتا ہے سو اگر کافر مسلمانوں پر غالب آجائیں تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے گناہوں سے پاک کردیتا ہے ‘ اور اس شکست کا رنج وملال ان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ‘ اور اگر مسلمان کافروں پر غالب آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں کے مقابلہ میں آنے والے کافروں کی تعداد کو کم کردیتا ہے یا ان کو جڑ سے مٹا دیتا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 141