*درس 002: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ بَيَانُ أَنْوَاعِ الطَّهَارَةِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَأَمَّا بَيَانُ أَنْوَاعِهَا: فَالطَّهَارَةُ فِي الْأَصْلِ نَوْعَانِ:

طہارت کی اقسام : بنیادی طور پر طہارت کی دو قسمیں ہیں:

طَهَارَةٌ عَنْ الْحَدَثِ، وَتُسَمَّى طَهَارَةً حُكْمِيَّةً

حَدَثِ سے پاک ہونا۔۔۔ اسے *طہارتِ حکمیہ* کہتے ہیں۔

وَطَهَارَةٌ عَنْ الْخَبَثِ، وَتُسَمَّى طَهَارَةً حَقِيقِيَّةً

خَبَثِ سے پاک ہونا۔۔۔ اسے *طہارتِ حقیقیہ* کہتے ہیں۔

أَمَّا الطَّهَارَةُ عَنْ الْحَدَثِ فَثَلَاثَةُ أَنْوَاعٍ: الْوُضُوءُ، وَالْغُسْلُ، وَالتَّيَمُّمُ.

حدث سے پاک ہونے کی تین اقسام ہیں: وُضُوءُ (واو پر پیش کے ساتھ)، غُسْلُ(غین پر پیش کے ساتھ)، تَّيَمُّمُ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

علامہ کاسانی نے پہلے طہارت کی وضاحت کی اب طہارت کی قسموں کا ذکرکررہے ہیں۔

کہتے ہیں طہارت حدث سے بھی ہوتی ہے اور خبث سے بھی۔ اب یہ حدث اور خبث کیا ہے، اسے سمجھ لیجئے۔

انسانی جسم کا دو طرح کی نجاستوں سے واسطہ پڑتا ہے:

ایک نجاست وہ ہے جو ہمیں نظرنہیں آتی نہ ہی اسکا فزیکل وجود ہوتا ہے بلکہ شریعت ہمیں بتاتی ہے کہ آپ پر نجاست طاری ہے۔ اس نجاست کو حدث کہتے ہیں۔

اورایک نجاست وہ ہے جو ہمیں نظر آتی ہے اور اسکا فزیکل وجود بھی ہوتا ہے۔ اس نجاست کو خبث کہتے ہیں۔

*حدث اور خبث میں فرق*

1- حدث ایک کیفیت ہوتی ہے جو انسانی جسم کے بعض یا تمام حصے پر طاری ہوتی ہے۔۔جبکہ۔۔خبث ایک کیفیت نہیں بلکہ باقاعدہ گندگی ہوتی ہے۔

2- حدث کی مثال جیسے بے غسل شخص یا حیض و نفاس والی عورت۔۔۔ خبث کی مثال جیسے گوبر، پیشاب، شراب۔

3- حدث حکمی نجاست ہوتی ہے ۔۔جبکہ۔۔خبث حقیقی نجاست ہوتی ہے۔

پچھلے درس میں ہم نے بتایا کہ طہارت اور نجاست ایک دوسرے کی ضد ہے، لہذا اسکی اقسام بھی اسی لحاظ سے بنائی گئی ہیں۔

طہارتِ حکمیہ ۔۔۔ نجاستِ حکمیہ

طہارتِ حقیقیہ ۔۔۔ نجاستِ حقیقیہ

علامہ کاسانی یہاں سے طہارتِ حکمیہ یعنی وضو، غسل اور تیمم کا ترتیب کے ساتھ ذکرشروع کریں گے اسکے بعد طہارتِ حقیقیہ کی بحث آئے گی۔

آنے والے دروس میں وضو کے حوالے سے بہت اہم اور مفید ترین گفتگو ہوگی۔ 

*ابو محمد عارفین القادری*