أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ وَ مَنۡ يُّرِدۡ ثَوَابَ الدُّنۡيَا نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ‌ۚ وَمَنۡ يُّرِدۡ ثَوَابَ الۡاٰخِرَةِ نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ‌ؕ وَسَنَجۡزِى الشّٰكِرِيۡنَ

ترجمہ:

اور کسی شخص کے لیے اللہ کے اذن کے بغیر مرنا ممکن نہیں ہے (سب کی) اجل لکھی ہوئی ہے۔ اور جو دنیا کا صلہ چاہے گا ہم اسے اس میں سے دیں گے اور جو آخرت کا اجر چاہے گا ہم اسے اس میں سے دیں گے اور ہم عنقریب شکر کرنے والوں کو جزا دیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کسی شخص کے لیے اللہ کے اذن کے بغیر مرنا ممکن نہیں ہے۔ (آل عمران : ١٤٥)

اذن سے مراد اللہ کا امر یا اس کی قضاء اور قدر ہے ‘ اس آیت کی پہلی آیت سے مناسبت یہ ہے کہ منافقوں نے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے یہ خبر اڑا دی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید کردیئے گئے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ قتل موت کی مثل ہے اور موت اللہ تعالیٰ کے مقدر کیے ہوئے وقت پر آتی ہے تو جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنے گھر میں موت آتی تو وہ آپ کے دین کے فساد کی موجب نہ ہوتی سو اسی طرح اگر بفرض محال آپ کو شہید کردیا جائے تو وہ آپ کے دین کے فساد کا کس طرح موجب ہوگا !

دوسری وجہ یہ ہے کہ سابقہ آیتوں میں بھی مسلمانوں کو جہاد پر برانگیختہ کیا گیا تھا اور اس آیت میں بھی ان کو جہاد پر آمادہ کیا گیا ہے کہ موت کے ڈر سے جہاد کو نہ چھوڑو ‘ کیونکہ اللہ کے امر اور اس کی قضاء اور قدر کے بغیر موت نہیں آسکتی خواہ تم اپنے گھر میں ہو یا میدان جہاد میں اور اس میں منافقین کے ایک طعنہ کا جواب بھی ہے کیونکہ جب مسلمان جنگ احد سے فارغ ہو کر شہر میں پہنچے تو ان سے منافقوں نے کہا اگر تم ہمارے ساتھ رہتے تو تمہارے ساتھی جو جنگ احد میں قتل کردیئے جاتے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے رد میں فرمایا ہر شخص کی موت ایک وقت معین میں مقرر ہے ‘ اس وقت پر جو شخص جہاں ہوگا مرجائے گا خواہ وہ اپنے گھر میں ہو یا میدان جنگ میں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (سب کی) اجل لکھی ہوئی ہے۔ (آل عمران : ١٤٥)

درایت اور روایت سے لوح محفوظ میں تمام امور کے لکھے جانے بیان :

کتاب موجل سے مراد ہے وہ کتاب جس میں سب کی اجل لکھی ہوئی ہے اور وہ لوح محفوظ ہے۔

آیت کے اس حصہ میں بھی ان لوگوں کا رد ہے جنہوں نے سیدنانبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہید ہوجانے کی افواہ اڑائی تھی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی موت کا وقت لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور کوئی شخص اس وقت کے آنے سے پہلے نہیں مرسکتا تو سیدنا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کے وقت سے پہلے موت کیسے آسکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کو تمام حوادث اور کوائف کا علم ہے اور تمام مخلوق ‘ اس کا رزق ‘ اس کی اجل ‘ اس کی سعادت یا شقاوت لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم کا خلاف ہونا محال ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے جہل کو مستلزم ہے ‘ اور کفر ‘ فسق ‘ ایمان اور اطاعت ان سب کی نسبت بندوں کی طرف کی جاتی ہے وہ ان میں سے جس چیز کو اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہی چیز پیدا کردیتا ہے اور ان کے اسی اختیار کی بناء پر ان کو جزاء یا سزا دی جاتی ہے لیکن ازل میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ بندوں نے اپنے اختیار سے یا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اور اس نے اس علم کے مطابق لوح محفوظ میں لکھا دیا ہے اسی علم کو قضاء و قدر سے تعبیر کیا جاتا ہے لہذا لوح محفوظ میں وہی لکھا ہے جو بعد میں بندوں نے اپنے اختیار سے کرنا تھا اس لیے یہ وہم نہ کیا جائے کہ بندے تقدیر کی وجہ سے مجبور ہیں۔

لوح محفوظ میں تمام امور کے لکھے جانے پر حسب ذیل احادیث دلالت کرتی ہیں ‘

امام طبرانی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا فرمایا وہ قلم اور مچھلی ہے ‘ قلم نے پوچھا میں کیا لکھوں ؟ فرمایا جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے وہ لکھو ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ن والقلم “ ”’ ن “ سے مراد مچھلی ہے اور قلم سے مراد قلم ہے۔

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے اس حدیث میں ایک راوی مومل ثقہ اور کثیرالخطاء ہے ‘ ابن معین وغیرہ نے اس کی توثیق کی ہے ‘ اور امام بخاری وغیرہ نے اس کو ضعیف کہا ہے ‘ اور اس حدیث کے باقی راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد : ج ٧ ص ١٢٨)

نیز امام طبرانی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا تو اس سے فرمایا لکھو تو اس نے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کو لکھ دیا۔

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٩٠)

امام ابو یعلی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو سب سے پہلے پیدا کیا وہ قلم ہے ‘ پھر اس کو لکھنے کا حکم دیا تو اس نے ہر چیز کو لکھ دیا۔

حافظ الہیثمی نے اس حدیث کو امام بزار کے حوالے سے لکھا ہے اور کہا ہے کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں (مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٩٠) امام ابن جریر نے بھی اس حدیث کو حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے (جامع البیان ج ٢٩ ص ١١) امام بیہقی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے (کتاب الاسماء والصفات ص ٢٧١) حافظ سیوطی نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (الدرالمنثور ج ٦ ص ٢٤٩)

امام سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ نے لوح محفوظ کو موتی سے پیدا کیا اس کے صفحات سرخ یاقوت کے ہیں ‘ اس کا قلم نور ہے ‘ اللہ تعالیٰ ہر روز اس میں تین سو ساٹھ بار نظر فرماتا ہے ‘ پیدا کرتا ہے اور رزق دیتا ہے ‘ اور مارتا ہے اور جلاتا ہے ‘ اور عزت دیتا ہے اور ذلت دیتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (المعجم الکبیر ج ١٢ ص ٥٧ مطبوعہ بیروت)

حافظ الہثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام طبرانی نے دو سندوں سے روایت کیا ہے اس سند کے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٧ ص ١١)

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں جوان مرد ہوں ‘ مجھے اپنے نفس پر بدکاری کا خوف ہے ‘ اور میں عورتوں سے نکاح کرنے کی (مالی) قدرت نہیں رکھتا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے ‘ میں نے پھر یہی گزارش کی آپ پھر خاموش رہے میں نے سہ بارہ عرض یا آپ پھر خاموش رہے ‘ میں نے پھر کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابوہریرہ ‘ تمہارے ساتھ جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کو لکھ کر قلم خشک ہوچکا ہے ‘ اب تم خصی ہو یا نہ ہو۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٦٠۔ ٧٥٩‘ مطبوعہ کراچی)

اس حدیث میں آپ نے خصی ہونے کا حکم نہیں دیا بلکہ یہ امربہ طور تہدید ہے۔ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے وہ ہوجائے گا تم خصی ہو یا نہ ہو خلاصہ یہ ہے کہ تمام امور ازل میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے متعلق ہوچکے ہیں اس لیے خصی ہونا نہ ہونا برابر ہے ‘ کیونکہ جو کچھ مقدر ہوچکا وہ ہو کر رہے گا ‘ اس حدیث میں آپ نے خصی ہونے کی اجازت نہیں دی ‘ بلکہ اشارۃ اس سے منع فرمایا ہے گویا کہ آپ نے فرمایا جب ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضاء اور قدر سے متعلق ہے تو خصی ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ‘ حضرت عثمان بن مظعون (رض) نے آپ سے خصی ہونے کی اجازت طلب کی تھی تو آپ نے اس سے صراحۃ منع فرما دیا تھا ‘ اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جب تک کسی شخص کے لیے ممکن ہو وہ جائز اسباب کو حاصل کرے اس کے بعد اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دے اور جب جائز اسباب کو حاصل کرنا اس کی قدرت میں نہ ہو تو پھر اللہ پر توکل کرے اور ان اسباب کے پیچھے نہ پڑے جو اس کی قدرت میں نہیں ہیں ‘ اسی لیے جب حضرت ابوہریرہ (رض) نکاح کرنے کے مالی وسائل نہیں رکھتے تھے تو گناہ سے بچنے کے لیے ان کو آپ نے خصی ہونے کا حکم نہیں دیا ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) کو آپ نے روزہ رکھنے کا حکم نہیں دیا جیسا کہ دوسرے صحابہ کو دیا تھا کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) اصحاب صفہ میں سے تھے اور بہ کثرت روزے رکھتے تھے لیکن بعض لوگوں کی جوانی ککا دف روزوں سے بھی نہیں مرتا۔

اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ انسان تقدیر کے ہاتھوں مجبور ہے ‘ ہاں واقعی مجبور ہے لیکن تقدیر میں وہی کچھ لکھا گیا ہے جو انسان نے اپنے اختیار اور ارادہ سے کرنا تھا ‘ اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے اس کو ازل میں علم تھا کہ انسان پیدا ہونے کے بعد کیا کرے گا اور جو کچھ انسان نے اپنے اختیار سے کرنا تھا وہ اس نے لکھ دیا ‘ اسی علم کا نام تقدیر اور لکھے ہوئے کا نام لوح محفوظ ہے۔

(آیت) ” وکل شیء فعلوہ فی الزبر۔ وکل صغیر و کبیر مستطر۔ (القمر : ٥٢۔ ٥١)

ترجمہ : اور جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب صحیفوں میں لکھا ہوا ہے ‘ ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھا ہوا ہے۔

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھیں اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ (صحیح مسلم بشرح الابی ج ٩ ص ٢٦‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

اس حدیث میں پچاس ہزار سال کے عدد سے وقت کی اتنی مقدار تقدیر کا مراد ہے ‘ حقیقۃ پچاس ہزار سال کا وقت مراد نہیں ہے کیونکہ وقت تو حرکات فلک اور سورج کی رفتار سے بنتا ہے اور سورج کے طلوع اور غروب سے دن رات بنتے ہیں اور دن رات سے مہینے اور سال بنتے ہیں اور جب افلاک اور سورج نہیں پیدا کئے گئے تھے تو اس متعارف معنی میں وقت بھی نہیں تھا۔

رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو دنیا کا صلہ چاہے گا ہم اسے اس میں دیں گے اور جو آخرت کا صلہ چاہے گا ہم اسے اس میں سے دیں گے اور ہم عنقریب شکر کرنے والوں کو جزاء دیں گے۔ (آل عمران : ١٤٥)

نیت اور اخلاص کا بیان :

جنگ احد میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے ان میں سے نومسلموں کی نیت غنیمت اور متاع دنیوی تھی اکثر راسخ العقیدہ مسلمان صرف دین کی سربلندی کے لیے اس جنگ میں شریک ہوئے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم ہر شخص کو اس کی نیت کے اعتبار سے حصہ دین گے جو دنیا چاہتا ہو اس کو دنیا ملے گی اور جو عقبی چاہتا ہو اس کو عقبی ملے گی۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اعمال کا مدار صرف نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کا پھل ملتا ہے ‘ سو جس شخص کی ہجرت دنیا پانے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی شے کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

شفی الاصبحی بیان کرتے ہیں کہ وہ جب مدینہ میں آئے تو ایک شخص کے گرد لوگ جمع تھے ‘ انہوں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت ابوہریرہ (رض) ہیں ‘ میں ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا وہ لوگوں میں حدیث بیان کررہے تھے ‘ جب وہ خاموش ہوئے اور تنہا رہ گئے تو میں نے کہا آپ مجھے ایسی حدیث سنائیے جس کو آپ نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہ غور سنا ہو اور اس کو سمجھا ہو ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا میں تم کو ایسی حدیث سناتا ہوں جس کو میں نے بغور سنا اور سمجھا ہے پھر حضرت ابوہریرہ (رض) بےہوش ہوگئے ‘ پھر تھوڑی دیر بعد وہ ہوش میں آئے اور کہنے لگے میں تم کو ضرور ایسی حدیث سناؤں گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس گھر میں سنائی تھی۔ اس وقت میرے اور آپ کے سوا اس گھر میں اور کوئی نہیں تھا ‘ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) دوبارہ بےہوش ہوگئے پھر تھوڑی دیر بعد چہرہ ملتے ہوئے ہوش میں آئے ‘ اور کہا میں تم کو ضرور ایسی حدیث سناؤں گا جو اس گھر میں آپ نے مجھے سنائی اور میرے اور آپ کے سوا اس گھر میں اور کوئی نہیں تھا ‘ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) تیسری بار بےہوش ہوگئے پھر تیسری بار چہرہ ملتے ہوئے ہوش میں آئے اور کہا میں تم کو ضرور ایسی حدیث سناؤں گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس گھر میں تنہائی میں مجھے سنائی تھی پھر چوتھی بار کافی دیر بےہوش رہے ‘ پھر لڑکھڑاتے ہوئے اٹھے ‘ میں نے ان کو سہارا دیا پھر جب ہوش میں آئے تو بیان کرنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا ‘ تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلے کرے گا اور سب لوگ گھٹنوں کے بل ہوں گے سب سے پہلے اس شخص کو بلایا جائے گا جس نے قرآن یاد کیا اور جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جو شخص بہت مالدار تھا ‘ اللہ تعالیٰ قاری سے فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو اس کتاب کا علم نہیں دیا جو میں نے اپنے رسول پر نازل کی تھی ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے اس علم پر کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا میں دن رات قرآن مجید پڑھتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے جھوٹ بولا ! فرشتے بھی کہیں تم نے جھوٹ بولا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تم نے جھوٹ بولا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تم نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے ! یہ کہا گیا ‘ پھر اس مالدار شخص کو لایا جائے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو وسعت نہیں دی تھی حتی کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں رکھا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ! اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو میں نے تم کو جو کچھ دیا تھا تم نے اس میں کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا میں رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتا تھا اور صدقہ کرتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا ‘ تم جھوٹ بولتے ہو ‘ فرشتے بھی اس سے کہیں گے تم جھوٹ بولتے ہو ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تم نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص جواد ہے ‘ سو یہ کیا گیا ‘ پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا تھا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ تم کو کس چیز میں قتل کیا گیا ! وہ کہے گا مجھے تیرے راستہ میں جہاد کا حکم دیا گیا تھا ‘ سو میں نے قتال کیا حتی کہ میں قتل کردیا گیا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم جھوٹ بولتے ہو ‘ فرشتے بھی اس سے کہیں گے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تم نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص بہت بہادر ہے ‘ سو یہ کہا گیا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھٹنے پر ہاتھ مار کر فرمایا : اے ابوہریرہ قیامت کے دن اللہ کی مخلوق میں سے یہ پہلے تین شخص ہوں گے جن سے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی ‘ شفی نے یہ حدیث حضرت معاویہ کو سنائی تو حضرت معاویہ نے کہا ان لوگوں کو یہ سزا دی گئی ہے تو باقی لوگوں کو کیا حال ہوگا ! پھر حضرت معاویہ اتنی دیر تک روتے رہے کہ ہم نے گمان کیا وہ ہلاک ہوجائیں گے ‘ کچھ دیر بعد حضرت معاویہ کی حالت سنبھلی تو انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے پھر یہ آیات پڑھیں :

(آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لایبخسون۔ اولئک الذین لیس فی الاخرۃ الا النار وحبط ما صنعوا فیھا وبطل ماکانوا یعملون “۔ (ھود : ١٦۔ ١٥)

ترجمہ : جو لوگ (صرف) دنیا اور اس کی زینت کے طالب ہیں ہم انہیں دنیا میں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیں گے اور اس میں ان سے کمی نہیں کی جائے گی ‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں دوزخ کے سوا کچھ نہیں ‘ اور دنیا میں انہوں نے جو کام کیے وہ ضائع ہوگئے اور انہوں نے جو عمل کیے وہ رائیگاں چلے گئے۔ (الجامع الصحیح کتاب الزھد : ٣٧‘ باب : ٤٨‘ ماجاء فی الریاء والسمعۃ )

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 145