وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ  ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ٮِٕنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـــًٔا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 144

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ  ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ٮِٕنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـــًٔا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ

ترجمہ:

اور محمد (خدا نہیں ہیں) صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا

تفسیر:

امام ابن جریر طبری روایت کرتے ہیں :

ایک مہاجر ایک انصاری کے پاس سے گزرا اس وقت وہ خون میں لتھڑا ہوا تھا اس نے کہا اے فلاں شخص کیا تمہیں معلوم ہے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے ‘ انصاری نے کہا اگر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے ہیں تو آپ تبلیغ فرما چکے ہیں ‘ اب تم ان کے دین کی طرف سے قتال کرو۔

ضحاک بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو شکست ہوگئی تو ایک منادی نے ندا کی سنو ! محمد تو قتل کردیئے گئے اب تم اپنے پچھلے دین کی طرف لوٹ جاؤ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی اور محمد (خدا نہیں ہیں) صرف رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں۔ اگر وہ فوت ہوجائیں یاشہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے۔

یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس طرح آپ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیجا تاکہ وہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت کی دعوت دیں ‘ اور جب ان کی مدت پوری ہوگئی تو وہ فوت ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا ‘ سو اسی طرح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنی مدت پوری ہونے کے بعد وفات پاجائیں گے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان بعض لوگوں پر اظہار ناراضگی فرمایا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی خبر سن کر یہ سوچنے لگے تھے کہ اب کافروں سے صلح کر لینی چاہیے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھرجائے گا وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

امام رازی لکھتے ہیں :

جنگ احد میں حضرت مصعب بن عمیر کے ہاتھ میں جھنڈا تھا ان کو ابن قمیہ نے شہید کردیا۔ اس واقعہ سے یہ گمان کرلیا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہیدکر دیا گیا ‘ اور شیطان نے پکار کر کہا سنو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے ‘ پھر آپ کی شہادت کی خبر لوگوں میں پھیل گئی ‘ اس وقت بعض ضعیف العقیدہ مسلمانوں نے کہا کاش عبداللہ بن ابی ہمیں ابو سفیان سے امان دلوا دے ‘ اور منافقوں نے کہا اگر یہ نبی ہوتے تو قتل نہ کیے جاتے ‘ تم اپنے بھائیوں اور اپنے دین کی طرف لوٹ جاؤ‘ حضرت انس بن نضر نے کہا اے قوم ! اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے ہیں تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رب تو زندہ ہے جس کو موت نہیں آئے گی اور تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد زندہ رہ کر کیا کرو گے ! جس دین کے لیے آپ نے قتال کیا تھا تم بھی اسی دین کے خاطر قتال کرو اور جس پر آپ فدا ہوگئے تم بھی اس پر فدا ہوجاؤ پھر کہا اے اللہ ! میں ان لوگوں کے قول پر تجھ سے معذرت کرتا ہوں ! پھر انہوں نے تلوار سونت کر قتال کرنا شروع کیا حتی کہ وہ شہید ہوگئے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور آپ کی نماز جنازہ کا بیان : 

ان آیتوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وفات پانے کا ذکر کیا گیا ہے ‘ اس لیے ان آیتوں کی تفسیر میں مفسرین نے آپ کی نماز جنازہ کا بیان کیا ہے اور ایک یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ آپ کی تدفین میں تاخیر کیوں کی گئی ‘ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جانشین اور مسلمانوں کا ایک امیر مقرر کرنا ضروری تھا ‘ جو مسلمانوں کے تمام معاملات کا والی ‘ اسلامی سرحدوں کا محافظ ‘ نمازوں کا قائم کرنے والا اور حدود کو جاری کرنے والا ہو ‘ اگر بالفرض اس وقت کوئی دشمن ملک پر حملہ کردیتا تو مسلمانوں کا کوئی امیر ہونا چاہیے تھا جو مسلمانوں کی حفاظت کرتا ‘ دوسری وجہ یہ تھی کہ تمام مسلمانوں پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حق تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کی نماز جنازہ پڑھتے ‘ آپ کے حجرہ میں زیادہ لوگوں کی گنجائش نہیں تھی اس لیے باری باری تمام مسلمانوں نے جاکر آپ کی نماز جنازہ پڑھی ‘ اور چونکہ ولی شرعی کے نماز جنازہ پڑھنے کے بعد جنازہ تکرار جائز نہیں ہے اس لیے پہلے خلیفہ المسلمین اور آپ کے ولی شرعی کو منتخب کیا گیا وہ حضرت ابوبکر تھے اور سب مسلمانوں کے بعد حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی اس کے بعد آپ کو دفن کردیا گیا ‘ اس تمام کاروائی میں تین دن لگے۔

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کی گئی اس وقت حضرت ابوبکر (رض) مدینہ کے بالائی حصہ میں اپنی بیوی بنت خارجہ کے پاس تھے ‘ مسلمان کہنے لگے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت نہیں ہوئے۔ آپ پر وہ کیفیت طاری ہے جو نزول وحی کے وقت ہوتی ہے ‘ حضرت ابوبکر (رض) آئے آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ‘ اور کہا آپ اللہ کے نزدیک اس سے مکرم ہیں کہ آپ پر وہ دو موتیں طاری کرے ‘ بیشک ‘ خدا کی قسم ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے ہیں ‘ ادھر حضرت عمر مسجد کی ایک جانب یہ کہہ رہے تھے ‘ خدا کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت نہیں ہوئے ‘ جب تک آپ تمام منافقوں کے ہاتھ اور پیر نہیں کاٹ دیں گے اس وقت تک آپ فوت نہیں ہوں گے ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے منبر پر چڑھ کر فرمایا : جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور اس کو موت نہیں آئے گی ‘ اور جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا ہو تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بےش فوت ہوگئے ہیں ‘ (آیت) ” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا وسیجزی اللہ الشاکرین “۔ حضرت عمر (رض) نے کہا مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اس دن سے پہلے یہ آیت نہیں پڑھی تھی۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے حضرت ابو عبیدہ کی طرف ایک آدمی بھیجا جو اہل مکہ کی طرف (شق) قبر بناتے تھے ‘ اور ایک آدمی حضرت ابوطلحہ کی طرف بھیجا جو اہل مدینہ کی طرف لحد (بغلی قبر) بناتے تھے ‘ اور یہ دعا کی اے اللہ ! اپنے رسول کے لیے ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرلے ‘ تو مسلمانوں کو حضرت ابوطلحہ مل گئے ‘ ان کو بلایا گیا اور حضرت ابوعبیدہ (وقت پر) نہیں ملے ‘ سو انہوں نے لحد بنائی ‘ منگل کے دن انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ تیار کرلیا (غسل دے کر کفن پہنا دیا) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرہ میں آپ کو ایک تخت پر رکھا گیا ‘ پھر باری باری مسلمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آتے اور نماز جنازہ پڑھتے حتی کہ جب مرد فارغ ہوگئے تو پھر عورتیں آئیں اور کسی شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز جنازہ کی امامت نہیں کی۔

مسلمانوں کا اس میں اختلاف ہوا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کس جگہ بنائی جائے بعض مسلمانوں نے کہا آپ کو آپ کے اصحاب کے ساتھ دفن کیا جائے حضرت ابوبکر نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے کہ جس جگہ نبی کی روح قبض کی جاتی ہے اس کو وہی دفن کیا جاتا ہے پھر جس بستر پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تھے ‘ انہوں نے اس بستر کو اٹھایا اور وہیں آپ کی قبرکھودی پھر بدھ کی رات جب آدھی ہوگئی تو آپ کو دفن کردیا گیا ‘ حضرت علی بن ابی طالب ‘ حضرت فضل بن عباس اور ان کے بھائی حضرت قثم ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام شقران آپ کی قبر میں اترے ‘ حضرت اوس بن خولی نے حضرت علی سے کہا میں تم کو اللہ کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہمارے تعلق کی قسم دیتا ہوں ‘ حضرت علی نے ان سے کہا تم بھی اترو ‘ حضرت شقران نے اس چادر کو لیا جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہنتے تھے ‘ اور اس کو قبر میں رکھ دیا اور کہا خدا کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس چادر کو کوئی نہیں پہنے گا۔ (سنن ابن ماجہ ‘ باب : ٦٥‘ ذکر وفاتہ ووفنہ

حضرت ابن عباس (رض) کی اس روایت میں ایک راوی حسین بن عبید اللہ ہاشمی ہے۔ امام احمد ‘ علی بن مدینی ‘ اور امام نسائی نے اس کو متروک قر دیا ‘ امام بخاری نے کہا اس پر زندقہ کی تہمت ہے ‘ اور اس حدیث کے باقی راوی ثقہ ہیں۔

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت سالم بن عبید اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آپ کے مرض میں بےہوشی طاری ہوگئی ‘ آپ کو ہوش آیا تو آپ نے فرمایا نماز کا وقت ہوگیا ؟ صحابہ نے عرض کی ہاں ‘ آپ نے فرمایا بلال سے کہو اذان کہیں اور ابوبکر سے کہو مسلمانوں کو نماز پڑھائیں ‘ حضرت عائشہ (رض) نے کہا میرے والد رقیق القلب ہیں جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونا شروع کردیں گے اور نماز نہیں پڑھا سکیں گے اگر آپ کسی اور کو حکم دے دیں ! آپ پر پھر بےہوشی طاری ہوگئی ‘ جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے فرمایا بلال سے اذان کے لیے کہو اور ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ‘ تم تو یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی عورتوں کی مثل ہو ‘ حضرت بلال کو اذان کا حکم دیا ‘ انہوں نے اذان دی ‘ اور حضرت ابوبکرکو نماز پڑھانے کا حکم دیا انہوں نے مسلمانوں کو نماز پڑھائی ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آرام محسوس کیا ‘ آپ نے فرمایا دیکھو میں کس کے سہارے چلوں ‘ پھر حضرت بریرہ (رض) اور ایک اور شخص آئے ‘ آپ ان کے سہارے سے چلے ‘ جب حضرت ابوبکر نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹ گئے ‘ آپ نے اشارہ کیا وہ اسی جگہ کھڑے رہیں حتی کہ حضرت ابوبکر (رض) نے نماز پوری کرلی ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کرلی گئی ‘ حضرت عمر نے کہا بہ خدا میں نے جس شخص کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کی گئی ہے میں اس تلوار سے اس کو قتل کر دوں گا ‘ اور وہ لوگ ان پڑھ تھے ان میں اس سے پہلے کوئی نبی نہیں ہوا تھا ‘ لوگ رک گئے ‘ لوگوں نے کہا اے سالم جاؤ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحب کو بلا کر لاؤ‘ میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس گیا وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے میں روتا ہوا گیا ‘ جب حضرت ابوبکر (رض) نے میری یہ کیفیت دیکھی تو پوچھا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کرلی گئی ہے میں نے کہا حضرت عمر (رض) یہ کہتے ہیں کہ میں نے جس شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کرلی گئی ہے تو میں اس کو اپنی اس تلوار سے مار دوں گا ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا چلو ‘ میں ان کے ساتھ گیا ‘ حضرت ابوبکر (رض) آئے اس وقت لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جارہے تھے حضرت ابوبکر (رض) نے کہا میرے لیے جگہ چھوڑو ‘ ان کے لیے کشادگی کی گئی ‘ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھکے ‘ آپ کو چھوا ‘ اور پڑھا ” انک میت وانھم میتون “ بےآپ پر موت آنی ہے اور بیشک انہوں نے بھی مرنا ہے۔ “ (الزمر : ٣٠) صحابہ نے پوچھا اے رسول اللہ کے صاحب ! کیا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز جنازہ پڑھیں گے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا ہاں ! صحابہ نے پوچھا کس طرح ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا ایک قوم جائے تکبیر پڑھے۔ دعا کرے اور درود پڑھے۔ پھر دوسری قوم جائے ‘ تکبیر پڑھے درود پڑھے اور دعا کرے پھر باہر آجائے ‘ حتی کہ تمام لوگ اسی طرح داخل ہوں ‘ صحابہ نے پوچھا : اے رسول اللہ کے صاحب ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دفن کیا جائے گا فرمایا : ہاں ! پوچھا کہاں ؟ فرمایا جس جگہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کی گئی تھی ! کیونکہ اللہ نے آپ کی روح صرف پاک جگہ پر ہی قبض کی ہے ‘ تب صحابہ نے جان لیا کہ آپ نے سچ کہا ہے ‘ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کہ آپ کے عم زاد آپ کو غسل دیں گے اور مہاجرین باہم مشورہ کرنے لگے ‘ صحابہ نے کہا انصار کو بلاؤ تاکہ اس معاملہ (خلافت) میں ہم ان سے مشورہ کریں ‘ انصار نے کہا ایک امیر ہم سے ہوجائے ‘ ایک امیر تم سے ہوجائے ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا اس شخص کی مثل کون ہوگا جس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” ثانی اثنین اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ لاتحزن ان اللہ معنا “۔ پھر حضرت ابوبکر نے ہاتھ پھیلایا اور حضرت عمر (رض) نے بیعت کی پھر سب لوگوں نے بیعت کرلی۔ (الشمائل المحمدیہ ص ٣٣٨۔ ٣٣٧‘ رقم الحدیث : ٣٩٧‘ یہ حدیث صحیح ہے ‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٢٣٤‘ مطبوعہ المکتبہ التجاریہ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٥ ھ)

حافظ ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو لوگ حجرہ میں داخل ہوئے اور باری باری آپ پر نماز جنازہ پڑھی ‘ جب مرد فارغ ہوگئے تو پھر عورتوں نے نماز جنازہ پڑھی ‘ پھر بچوں نے نماز پڑھی ‘ پھر غلاموں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کی کسی نے امامت نہیں کی۔ (سنن کبری ج ٧ ص ٢٥٠‘ مطبوعہ نشرالسنہ ملتان)

علامہ ابن اثیر متوفی ٦٣٠ ھ نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے۔ (الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٢٢٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی تھی صرف صلوۃ وسلام عرض کیا گیا تھا ‘ بعض روایات اس کی موید بھی ہیں لیکن جمہور کے نزدیک آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی تھی جیسا کہ شمائل ترمذی میں تصریح ہے کہ آپ پر نماز جنازہ میں تکبیرات پڑھی جائیں اور صلوۃ پڑھی جائے اور دعا کی جائے۔

امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں :

جنازہ اقدس پر نماز کے باب میں علماء مختلف ہیں ایک کے نزدیک یہ نماز معروف نہ ہوئی بلکہ لوگ گروہ در گروہ حاضر آتے اور صلوۃ وسلام عرض کرتے ‘ بعض احادیث بھی اس کی موید ہیں ‘ اور بہت علماء یہی نماز معروف مانتے ہیں۔ امام قاضی عیاض نے اس کی تصحیح فرمائی ‘ جیسا کہ زرقانی شرح الموطا میں ہے ‘ سیدنا صدق اکبر (رض) تسکین فتن وانتظام امت میں مشغول ‘ جب تک ان کے دست حق پرست پر بیعت نہ ہوئی تھی ‘ لوگ فوج فوج آتے اور جنازہ انور پر نماز پڑھتے جاتے ‘ جب بیعت ہوئی ولی شرعی صدیق ہوئے انہوں نے جنازہ اقدس پر نماز پڑھی ‘ پھر کسی نے نہ پڑھی ‘ کہ بعد صلوۃ ولی پھر اعادہ نماز جنازہ کا اختیار نہیں ‘ مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی میں ہے حضرت ابوبکر (رض) معاملات کو درست کرنے اور فتنہ کو سرد کرنے میں مشغول تھے ‘ مسلمان آپ کے آنے سے پہلے نماز جنازہ پڑھتے رہے اور حق آپ کا تھا ‘ کیونکہ آپ ہی خلیفہ مقرر ہوئے تھے جب آپ فارغ ہوگئے تو آپ نے نماز جنازہ پڑھی ‘ پھر آپ کے بعد کسی نے آپ پر نماز جنازہ نہیں پڑھی (مبسوط ج ٢ ص ٢٧‘ مطبوعہ بیروت) (فتاوی رضویہ ج ٤ ص ٥٤‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)

بعض علماء جو اسکے قائل ہیں کہ آپ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی تھی ‘ صرف آپ پر صلوۃ وسلام عرض کیا گیا تھا وہ اس روایت سے استدلال کرتے ہیں :

حافظ الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مرض کا غلبہ ہوا تو ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ پر نماز کون پڑھے گا ؟ حضور روئے ‘ ہم بھی روئے ‘ آپ نے فرمایا ‘ ٹھہرو ‘ اللہ تمہاری مغفرت کرے اور تمہارے نبی کی طرف سے تم کو اچھی جزادے ‘ جب تم مجھے غسل دے چکو ‘ اور مجھ پر خوشبو لگا چکو ‘ اور مجھے کفن پہنا چکو تو مجھے میری قبر کے کنارے رکھ دینا ‘ پھر ایک ساعت کے لیے میرے پاس سے چلے جانا ‘ کیونکہ پہلے مجھ پر میرے دوست اور میرے ہم نشیں جبرائیل اور میکائیل نماز پڑھیں گے ‘ پھر اسرافیل ‘ پھر ملک الموت اپنے لشکر کے ساتھ نماز پڑھیں گے ‘ پھر تمام فرشتے آکر نماز پڑھیں گے ‘ پھر تم لوگ فوج درفوج آکر داخل ہونا اور مجھ پر صلوۃ وسلام پڑھنا الحدیث ‘ اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے لین اس کی اسانید منقطع ہیں ‘ عبدالرحمن نے مرہ سے سماع نہیں کیا ‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں کئی ضعیف راوی ہیں ان میں سے ایک اشعث بن طابق ہے ازدی نے کہا اس کی حدیث صحیح نہیں ہوتی۔ (مجمع الزوائد ج ٩ ص ‘ ٢٥ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

اس حدیث کو امام حاکم نے بھی اپنی سند سے روایت کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن عبدالرحمن مجہول ہے ہم کو اس کی عدالت یاجرح کا علم نہیں ہے اور اس کے باقی راوی ثقہ ہیں۔ (المستدرک ج ٢ ص ٦٠‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ)

علامہ ذہبی ‘ امام حاکم پر تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں ‘ عبدالملک مجہول نہیں ہے ‘ بلکہ اس کو فلاس نے کذاب قرار دیا ہے ‘ اور انہوں نے کہا اس کے باقی روای ثقہ ہیں ‘ تو ہر موضوع حدیث اسی طرح ہوتی ہے ‘ جس میں ایک کے سوا باقی راوی ثقہ ہوتے ہیں اگر حاکم احتیاط کرتے تو اس حدیث کو اپنی کتاب میں درج نہ کرتے۔ (تلخیص المستدرک ج ٢ ص ٦٠)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز جنازہ کی مکمل تفصیل اور تحقیق ہم نے اپنے ایک مقالہ میں کی ہے جس میں بہ کثرت حوالہ جات درج کیے ہیں ‘ یہ مقاملہ مقالات سعیدی میں شامل کردیا گیا ہے ‘ اہل علم اس کا مطالعہ کریں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 144

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.