پرانے زمانے کے جھوٹے مقررین

آج ہمارے بیچ کثیر تعداد میں ایسے مقررین موجود ہیں جو جھوٹی روایات اور منگھڑت قصے بیان کرنے میں ماہر ہیں- ایسے مقررین کی تاریخ بہت پرانی ہے، چناں چہ امام ابن قطیبہ الدینوری (متوفی276ھ) اپنے زمانے کے مقررین کے بارے میں کیا لکھتے ہیں اسے پڑھیں، ایسا لگتا ہے کہ دور حاضر ان کی نظروں میں ہے-

آپ لکھتے ہیں کہ یہ واعظین جب جنت کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس (جنت) میں مشک یا زعفران کی حوریں ہوں گی، ان کے بدن کی بناوٹ ایسی ایسی ہوگی، اللہ تعالی نے اپنے ولیوں کے لیے سفید موتیوں کا ایک محل بنایا ہے جس میں ستر ہزار یہ ہوگا، ستر ہزار وہ ہوگا اور پھر وہ (مقرر) ستر ستر ہزار کی اتنی چیزیں بیان کرے گا کہ گویا جنت میں کسی چیز کی تعداد ستر ہزار سے کم یا زیادہ ہونا جائز ہی نہیں ہے-

(آپ مزید لکھتے ہیں کہ) جتنا یہ (حیرت انگیز روایتیں) زیادہ ہوں گی اتنا ہی تعجب اور پسندیدگی میں اضافہ ہوگا اور اتنا ہی دیر تک لوگ ان کے پاس بیٹھیں گے اور پھر اتنی ہی تیزی سے بخشش اور انعامات پیش کیے جائیں گے-

(تاویل مختلف الحدیث لابن قطیبہ الدینوری، ص28 بہ حوالہ الدخیل فی التفسیر: احمد شحات موسی، ص59)

(ماخوذ از نقد و نظر)

ہزاروں سال پہلے بھی ایسے مقررین موجود تھے جو لوگوں کو حیران کرنے اور ان سے نظرانے وصول کرنے کے لیے قصے کہانیاں سنایا کرتے تھے- آج بھی ایسے مقررین کی بھرمار ہے جن کو عوام میں مقبولیت بھی حاصل ہے- ان کی بیان کردہ روایات مانو پتھر کی لکیر ہے یعنی جو انھوں نے بیان کر دیا وہ غلط ہو ہی نہیں سکتا- ان کے مقابلے میں لوگ بڑے سے بڑے عالم کی بات ماننے کو بھی تیار نہیں ہوتے- اب تو بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ بچائے ایسے مقررین سے-

عبد مصطفی