حدیث نمبر :267

روایت ہے زیاد ابن لبید سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ یہ علم جاتے رہنے کے وقت ہوگا ۲؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ علم کیسے جاسکتا ہے؟ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھاتے رہیں گے اور تاقیامت ہماری اولاد اپنی اولاد کو۳؎ تو فرمایا اے زیاد تمہیں تمہاری ماں روئے ہم تو تمہیں مدینہ کے بڑے سمجھ داروں میں سے جانتے تھے۴؎ کیا یہ یہود اور نصاریٰ توریت و انجیل نہیں پڑھتے لیکن ان میں جو ہے اس پر بالکل عمل نہیں کرتے۵؎ روایت کیا احمد ابن ماجہ نے اور ترمذی نے انہیں سے اس طرح روایت کیا۔ایسے ہی دارمی نے ابو امامہ سے۔

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابو عبداﷲ ہے،انصاری ہیں،زُرَقِی ہیں۔حضور کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے،ہجرت سے پہلے حضور کے پاس مکہ معظمہ پہنچ گئے تھے۔پھر مدینہ منورہ ہجرت کرکے آئے اس لیئے آپ کو تمام صحابہ مہاجر انصار کہا کرتے تھے،حضور نے آپ کو حضرموت کا حاکم مقرر فرمایا،امیر معاویہ کے شروع زمانۂ امارت میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی یہ نہایت ہولناک واقعات جب ہوں گے جب دنیا سے علم دین اٹھ گیا ہوگا۔

۳؎ یہاں قرآن پڑھنے پڑھانے سے مراد پورا علم سیکھنا سکھانا ہے یعنی جب تعلیم و تعلم کا مشغلہ قائم رہے گا تو علم کیونکر اٹھ جائے گا۔مصدر کے ہوتے حاصل مصدر کہاں جاسکتا ہے۔

۴؎ اس سےمعلوم ہوا کہ استاد اپنے شاگرد کو غیر مناسب سوال کرنے پر عتاب کرسکتا ہے یہ الفاظ کہ ہم تمہیں ایسا جانتے تھے اظہار عتاب کے لیئے ہوتے ہیں نہ کہ اپنی بے علمی کے اظہار کے لیئے جیسا کہ بعض ناسمجھ لوگوں نے اس حدیث سے حضور کے علم کا انکار کیا۔

۵؎ یعنی علم سے ہماری مراد نتیجہ علم ہے۔یعنی علم ہوگا عمل نہ ہوگا۔خیال رہے کہ عیسائیوں کے پادری اور جوگی رشوتیں لیکر عوام و اعمال سے معافی دے دیتے ہیں اور ان کے گناہ بخشتے رہتے ہیں توخودکیا نیکی کرتے ہوں گے،ہفتہ میں ایک دن گرجے میں گا بجا لینا ان کے عمل ہیں۔