امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انمو ل نصیحتیں

جن پر داعئی دین اگر عمل کرے تو دارین میں سرخروئی حاصل ہو سکتی ہے ۔

(۱) تم بادشاہ سے ایسا عمل رکھو جیسے آگ سے رکھتے ہو ، کہ اس سے دور رہتے ہوئے فائدہ اٹھائو ، بہت قریب نہ جائو ۔

(۲) عوام کے سامنے صرف اسی بارے میں بات کرو جس کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے ، ان کے سامنے نہ ہنسو ، نہ مسکرائو ۔

(۳) بازاروں میں ذیادہ نہ جائو ۔اور دوسروں کی دکانوں میں نہ بیٹھو، اور نہ راستوں میں ٹہرو ۔

(۴) گھر کے علاوہ کسی جگہ بیٹھنا چاہو تو مسجد میں جا بیٹھو ۔

(۵) سسرال میں بیوی کے ساتھ رہائش اختیار نہ کرنا ، اور دو بیو یوں کو ایک گھر میں جمع نہ کرنا ۔

(۶) حق گوئی میں کسی کا پروا نہ کرنا خواہ بادشاہ وقت کیو ں نہ ہو ۔

(۷) خود کو عوام اور اپنے گردو پیش والوں سے ذیادہ عبادت گذا ر بنائو۔

(۸) اہل علم کے شہر میں جائو تو عامی بن کر جائو تاکہ وہاں کے اہل علم تم کو اپنا حق مارنے والا نہ سمجھ لیں ۔اور نہ ان کی موجودگی میں مسئلہ بتائو نہ ان کے اساتذہ پر طعن کرو ۔

(۹) ذیادہ ہنسنے اور عورتوں کے ساتھ ذیادہ باتیں کر نے سے دل مردہ ہو تا ہے ۔

(۱۰) راستہ چلنے میں وقار و طمانینت اختیار کرو۔کا موں میں جلدی نہ کرو ، اور جو شخص تمہیں پیچھے سے پکارے اس پر توجہ نہ دو ۔

(۱۱) گفتگو میں ذیادہ چینخ پکار نہ کرو۔ لوگوں کے درمیان اللہ عز و جل کا ذکر کرو تاکہ لوگ سیکھیں ۔

(۱۲) نمازوں کے بعد اپنے لئے کچھ ورد مقرر کر لو ۔ ہر ماہ چند دن روزے کے لئے خاص کرلو ۔ اور اپنے نفس کی نگرانی کرو ۔

(۱۳) جب تمہیں کسی کی برائی کا علم ہو تو اس کا تذ کرہ نہ کرو ۔اس کی کوئی اچھائی تلاش کرو اور اسی سے اس کا ذکر کرو ۔

(۱۴) قرآن مقدس کی تلاوت ، قبور ِ مشائخ ،اور مبارک مقامات کی زیارت کثرت سے کرو ۔

(۱۵) بخل سے گریز کرنا ۔کیونکہ بخل انسان کو رسوا کرتا ہے اور نہ لالچی اور جھوٹا بننا ،بلکہ اپنی مروت ہر معاملے میں محفوظ رکھنا ۔

(۱۶) بڑوں کے ہوتے ہوئے اس وقت تک نشست میں بر تری اختیار نہ کرو جب تک وہ تمہیں خود پیش کش نہ کریں ۔

مذکورہ نصیحتیں ان سو نصیحتوں میں سے ہیں جو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ارشاد فرمائی تھیں ۔