*درس 004: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فَلَا بُدَّ مِنْ مَعْرِفَةِ مَعْنَى الْغَسْلِ وَالْمَسْحِ

غَسْل اور مَسْح کے ثبوت کے بعد اسکا مفہوم جاننا ضروری ہے۔

فَالْغَسْلُ هُوَ إسَالَةُ الْمَائِعِ عَلَى الْمَحَلِّ

متعلقہ جگہ پر مائع شے (Liquid) بہانا غَسْل کہلاتا ہے۔

وَالْمَسْحُ هُوَ الْإِصَابَةُ

مَسْح پہنچنے کو کہتے ہیں۔

حَتَّى لَوْ غَسَلَ أَعْضَاءَ وُضُوئِهِ، وَلَمْ يُسِلْ الْمَاءَ، بِأَنْ اسْتَعْمَلَهُ مِثْلَ الدُّهْنِ، لَمْ يَجُزْ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ.

تو اگر کسی نے وضو کے اعضاء کو دھویا اورتیل کی طرح (چپڑ کر) پانی استعمال کیا لیکن پانی بہایا نہیں تو ظاہر الروایۃ کے مطابق وضونہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

پچھلے درس سے یہ جان چکے ہیں کہ وُضو غَسل اور مَسح پر انحصار کرتا ہے۔

*غَسل:* (غین پر زبر کے ساتھ)

اسکا لغوی معنی ہے دھونا۔

نہانے کو غُسل (غین پر پیش) کہتے ہیں۔

وضو میں غَسل سے مراد یہ ہے کہ متعلقہ عضو کے ہر حصہ پر کم ازکم دو بوند پانی بہہ جائے۔

*مسح:* لغوی معنی ہے اصابہ یعنی پہنچنا/پہنچانا۔

وضو میں مسح سے مراد یہ ہے کہ متعلقہ عضو پر تری پہنچ جائے۔

*تعریف سے معلوم ہوا کہ کسی عضو کو دھویا جائے تو مسح کے لئے کفایت کرجائے گا لیکن مسح کیا جائے تو دو بوند نہ بہنے کی وجہ سے دھونا ثابت نہیں ہوگا۔

اب آپ پورے وضو پر گہری نظر دوڑائیں اور ذکر کی گئی بنیادی بحث کے ضمن میں درج ذیل مسائل پر غور کریں۔

مثلا:

✒ چہرہ آنکھوں کی جانب سے دھویا اور پیشانی پر گیلا ہاتھ پھیر دیا۔ *وضو نہیں ہوا* کیوں ؟؟

✒ کلائی تک ہاتھ دھویا اور کہنی پر گیلا ہاتھ پھیر لیا۔ *وضو نہیں ہوا* کیوں ؟؟

✒ سر کو نل کے نیچے کرکے پانی بہادیا۔ *وضو ہوگیا* کیوں ؟؟

*ابو محمد عارفین القادری*