حدیث نمبر :268

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ ۱؎ میں وفات پانے والا ہوں علم عنقریب اٹھ جائے گا فتنے ظاہر ہوں گے حتی کہ دو شخص ایک فریضہ میں جھگڑیں گے ایسا کوئی نہ پائیں گے جو ان میں فیصلہ کردے ۲؎ اسے دارمی اور دارقطنی نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ فرائض سےمراد اسلامی فرائض،روزے،نماز وغیرہ کے مسائل ہیں،یا علم میراث۔دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں جیسا کہ اگلےمضمون سے معلوم ہورہا ہے اگرچہ علم اور قرآن میں یہ بھی آگیا تھا مگر زیادتی اہتمام کے لیئے خصوصیت سے اس کا علیحدہ ذکر فرمایا۔

۲؎ یعنی ابھی تو تم کو آسانی ہے کہ ہرمسئلہ مجھ سے پوچھ لو،میرے بعدایک وقت دشواری پیش آئے گی کہ علماء اٹھ جائیں گے یہاں تک کہ اگر میت کی میراث بانٹنی ہوگی تو مفتی نہ ملے گا۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں دو سے مرادمیت کے دو وارث ہیں اورفریضہ سے مراد مسئلہ میراث اورہوسکتا ہے کہ فریضہ سے کوئی اور مسئلہ شرعی مراد ہو۔