معرفت الٰہی

جنیدسعیدی

وقت تیزی سے اپنی منزلیں طے کررہاہے اوراللہ کے سوا ہر چیز ہلاک ہوجانے والی ہے کے مصداق ہرشئے کی آمد ورفت کاسلسلہ جاری ہے۔ اس تیزرفتارزندگی میں انسان معاش حاصل کرنے اوراپنے گمان کے مطابق خوب سے خوب ترزندگی گزارنے میں لگاہواہے ،گویاکہ اس دارفانی میں وہ اس قدر مست ہے کہ وہ صحیح اورغلط کاامتیاز کیے بغیر اپنی زندگی بسرکررہاہے۔

 آج انسان کی مثال ایک ایسی مشین کی طرح ہے جس نے اپنے مقصدتخلیق کوفراموش کردیا،جبکہ اگرہم انسانوں کوزینت تخلیق بخشی گئی تواس لیے نہیں کہ کھائیں،پئیں، اپنی شہوت کی تکمیل کریں،توالدوتناسل میں لگے رہیں اورپھر مرجائیں،اگرایساہی ہے تو ہم انسانوں کو جینے کا کوئی حق نہیں اورپھر ہمارے اور جانوروں میں کوئی امتیازی فرق نہیں رہ جاتا ، اس لیے ہمیں تخلیق کامقصد،یعنی صرف اللہ رب العزت کی معرفت حاصل کرنا ،معلوم ہونا چاہیے،حدیث قدسی ہے:

 ’’ کُنْتُ کَنْزا مَخْفِیّافَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرِفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ۔‘‘(المقاصد الحسنہ،ص:۳۳۴)

میں ایک چھپاہواخزانہ تھامیں نے چاہاکہ میری معرفت حاصل کی جائے تومیں نے مخلوق کوپیداکیا۔

ہم مسلمانوں کاخصوصاً اہل سنت وجماعت کایہ متفقہ عقیدہ ہے کہ ہرشئے کاخالق اللہ تبارک وتعالیٰ ہے اوراس عقیدہ کے لیے ہمیں سمعی دلائل ہی کافی ہیں ،لیکن دل کے سکون کے لیے اگر عقلاًبھی ثبوت مل جائے اوردل اس کی تصدیق کر لے توحسن دوبالا ہو جائے گا۔

انسان اس عالم کے ایک ادنیٰ ذرے سے لے کر شجروحجر اورپہاڑوں کودیکھے توتمام اشیا اس پرشاہد ہیں کہ’’اِِنَّ رَبَّ الْکَونِ وَاحِدٌ۔‘‘یعنی تمام عالم کارب ایک ہے۔

ایک ادنیٰ سی شئے ایک جگہ سے دوسری جگہ بذات خود منتقل ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے تواس عالم کے بارے میں یہ تصورکرناکہ یہ بذات خود قائم ہے اور اس کاکوئی خالق ومالک نہیں، محض حماقت ہے۔

ہیچ چیزے خود بخود چیزے نہ شد

ہیچ آہن خنجر تیزے نہ شد

یعنی کوئی بھی چیز خودبخودوجودمیں نہیں آتی ہے ،اور نہ کوئی لوہا خودبہ خود تیز خنجر بن جاتاہے۔

ہاں!یہ الگ سی بات ہے کہ انسان اپنی کم فہمی اورناقص  عقل رکھنے کی بنیاد پراس حقیقت سے ناآشنا رہے،کیونکہ انسان جب پیداہوتاہے تواس میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت معدوم ومفقود ہوتی ہے ،لیکن ماں جب اپناپستان اس کے منھ سے لگاتی ہے تو بچہ دودھ پینے لگتاہے، اس ناسمجھی کی عمر میں یہ سلیقہ اس کے اندر کیسے آیا؟

ہم اپنے وجودکودیکھیں جودوچیزوں سے بنا ہے، ایک کوجسم اوردوسری کوروح سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہرشخص بالعموم اس کاقائل ہے کہ کوئی شخص اگر باقی ہے تو اس کی اس بات کوثابت کرتی ہے کہ اس میں روح موجود ہے۔ جس دن روح اس شخص سے فرارہوگئی اسی روزلوگ یہ کہنے لگتے ہیں کہ  فلاں کا انتقال ہوگیا، حالانکہ کسی نے اس کی روح کو دیکھا بھی نہیں پھر بھی کس قدر اعتقاد اوریقین ہے کہ اس ادنی سے عالم کا قیام روح پر موقوف ہے ۔جب یہ چھوٹا سا عالم اپنے وجود میں روح کا محتاج ہے تو تمام کائنات کے قیام کا تصور بذات خود ہونا یا کرنا حماقت اورصرف حماقت ہے ،کیونکہ عالم کا ذرہ ذرہ اس بات کی گوہی دیتا ہے :

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہاہے  

وہی خدا ہے وہی خدا ہے وہی خداہے 

اس ضمن میں یہ بات آتی ہے کہ جب کوئی اپنی روح کی حقیقت کو جان نہ سکا تو وہ ذات جو ’’رَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَاْلرُوْحِ‘‘ ہے اور’’ و را ء الوراء ثم وراء الوراء ‘‘ہے اس کی حقیقت کیسے جان سکتاہے تو واضح رہے کہ یہ کل کائنات اللہ تعالیٰ کی آیات اورنشانیاں ہیں ۔آیات صفات کی دلیل ہوتی ہیں اور صفات ذات کی نشان دہی کرتی ہیں ،دنیا میں اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نشانی محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے بعد آپ کے سچے تابعدار یعنی اولیاء اللہ ہیں ۔

معرفت الٰہی کیسے حاصل ہو 

اب اگرصحیح معنوں میں ہم معرفت خداوندی کے طالب ہیں تو ضرورت ہے کہ کسی شیخ واصل اورکامل ومکمل مرشدکی صحبت میں جائیں اور ان کی زیرتربیت رہ کرمعرفت الٰہی حاصل کریں ورنہ شیطان جو گھات لگائے بیٹھا ہے کسی بھی طریقے سے ایک مومن بندے کو صراط مستقیم سے دور کردے گا۔اس لیے اگر راہ نجات سے سلامتی کے ساتھ گزرنا ہے تو ایسے شیخ سے اپنا رشتہ جوڑیں جس کا سلسلہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتاہو، شریعت کی رو سے اوامر ونواہی پر عمل پیراہو اورعقائد اہل سنت وجماعت کا علم رکھتا ہو۔ جب ہم کسی ایسے شیخ کی صحبت میں رہ کر تربیت حاصل کریں گے تو ان شاء اللہ عزوجل کامیاب ہوں گے اورپھر مقصد تخلیق کو پورا کرتے ہوئے نظر آئیں گے ۔